Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

٭…آپ کی امتیازی شان یہ بھی ہے خود مولا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  آپ کی تعریف فرماتے ہیں   کہ ایک دفعہ دیکھا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کہیں   دوڑے جارہے ہیں   سبب دریافت کیا تو پتہ چلا کہ صدقے کے اونٹ چرالیے گئے ہیں   انہیں   تلاش کرنے جارہے ہیں  ۔مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا امیر المؤمنین آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بعد آنے والے خلفاء کو بہت مشکل میں   ڈال دیا ہے۔

٭…صوفیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایک خاص نسبت ہوتی ہے کہ ان میں   بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسی خصلتوں   کا عکس موجود ہوتاہے مثلاً آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسے پیوند لگے کپڑے پہننا ،  جلالی طبیعت رکھنا ،  خواہشات نفسانی ترک کردینا ،  شبہ والی چیزوں   سے پرہیز کرنا ،  کرامات کا ظاہر کرنا ،  حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت میں   کسی کی ملامت کی پروانہ نہ کرنا ،  حقوق العباد کے معاملے میں   یکساں   سلوک کرنا ،  ہمیشہ سخت قسم کی عبادتیں   کرنا ،  جن کاموں   سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبچتے تھے صوفیاء بھی ان سے بچتے ہیں  ۔

٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا توکل بھی بہت بلند درجے کا تھا کہ میدان جنگ میں   اپنے بھائی سیِّدُنا زید بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ذِرہ کی پیشکش کی لیکن وہ آپ کے مقصد کو سمجھ گئے اور عرض کیا کہ میں   بھی شہادت پسند کرتاہوں   جیسے آپ پسند فرماتے ہیں  ۔اس میں   توکل حقیقی کی طرف بہت بڑا اشارہ ہے۔

٭…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے میں   نے عبادت کی لذت کو چار چیزوں   میں   پایا:  (۱)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کی ادائیگی کے وقت۔ (۲)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حرام کردہ چیزوں   سے بچتے وقت ۔(۳) ثواب الٰہی حاصل کرنے کے لیے لوگوں   کو بھلائی کاکہتے وقت۔ (۴) چوتھا غضب الٰہی کی خاطر لوگوں   کو برے کاموں   سے روکتے وقت۔([1])

شان فاروقِ اعظم بزبان اعلی حضرت

اعلی حضرت  ،  عظیم البرکت  ،  مجدددین وملت  ،  پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی مدح سرائی کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  :

وہ عمر جس کے اعداء پہ شیدا سقر

اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں   سلام

شرح:   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دشمنوں   کا جہنم عاشق ہے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ خداوندی کے مقرب اور رب عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ دوستی رکھنے والے ہیں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں   سلام ہوں  ۔حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ اَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ اَبْغَضَنِيْ وَمَنْ اَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ اَحَبَّنِي یعنی جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ ‘‘  ([2])

ایک اور روایت میں   ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ اَحَبَّنِيْ اَحَبَّهُ اللہ وَ مَنْ اَحَبَّهُ اللہ اَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ وَ مَنْ اَبْغَضَنِيْ اَبْغَضَهُ اللہ وَ مَنْ اَبْغَضَهُ اللہ اَدْخَلَهُ النَّارَیعنی جس نے مجھ سے محبت کی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے محبت کی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جنت میں   داخل فرمائے گا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ بغض

 

 رکھے گا اور جس سے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بغض رکھا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے جہنم میں   داخل فرمائے گا۔ ‘‘  ([3])

معلوم ہوا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی محبت خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے بغض رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بغض ہےاور جس نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے محبت کی یقیناً وہ جنتی ہے اور جس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے بغض رکھا یقیناً وہ جہنمی ہے۔ اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے شعر میں   ان ہی دونوں   احادیث مبارکہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

فارقِ حق وباطل امامُ الہدیٰ

تیغِ مسلولِ شدت پہ لاکھوں   سلام

شرح:  حق کوباطل وگمراہی سے جدا کرنے اور ہدایت دینے والے امام برحق حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس تلوار کی مثل ہیں   جو اسلام کی حمایت میں   سختی سے بلند کی جاتی ہے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر لاکھوں   سلام ہوں  ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب اسلام لے آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں   عرض کی کہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اب ہم چھپ کر نماز وغیرہ ادا نہیں   کریں   گے ،  لہٰذا تمام مسلمانوں   نے کعبۃ اللہ شریف میں   جا کر نماز ادا کی تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حق کو باطل سے جدا کرنے کے سبب آپ کو  ’’ فاروق ‘‘   لقب عطا فرمایا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں   کو ہدایت کا راستہ دکھایا اورکفر وشرک کی گمراہیوں   کے خلاف اوردین اسلام کی روشنیوں   ورعنائیوں   کی حمایت میں   سختی سے تلوار بلند فرمائی جس سے چہار سو اسلام کا بول بالا ہوگیا ۔ اعلی حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتنے اِن تمام واقعات کی طرف اِشارہ فرمایا ہے۔

 



[1]   اللمع فی تاریخ التصوف الاسلامی ،  ص۱۷۵۔

[2]   مجمع الزوائد ،  کتاب المناقب ،  باب منزلۃ عمر عند اللہ ،  ج۹ ،  ص۶۹ ،  الحدیث: ۱۴۴۳۹ ملتقطا۔

[3]   مستدرک حاکم ،   کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  حدیث تسمیۃ الحسن والحسین ،  ج۴ ،  ص۱۵۵ ،  الحدیث: ۴۸۲۹ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To