Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وکرامات اور فراست ودانائی مشہور ومعروف ہیں  ۔ آپ فراست وصلابت کے ساتھ مخصوص ہیں  ۔ طریقت میں   آپ کے متعدد لطائف ودقائق ہیں  ۔ اسی معنی ومراد میں   دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا یہ اِرشاد ہے کہ  ’’ اَلْحَقُّ یَنْطِقُ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ یعنی حق عمر (فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی زبان پر بولتاہے۔ ‘‘   یہ بھی فرمایا کہ  ’’ قَدْ کَانَ فِی الْاُمَمِ مُحَدَّثُوْنَ فَاِنْ یَکُ مِنْھُمْ فِیْ اُمَّتِیْ فَعُمَرُ یعنی گذشتہ اُمتوں   میں   مُحَدَّثِیْن گزرے ہیں   ،  اگر میری امت میں   کوئی مُحَدَّث ہے تو وہ عمر ہیں  ۔ ‘‘   طریقت کے بکثرت رموز ولطائف آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہیں   اس کتاب میں   ان کا جمع کرنا دشوار ہے۔ البتہ ان میں   سے ایک یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اَلْعُزْلَۃُ رَاحَۃٌ مِّنْ خُلَطَاءِ السُّوْءِ یعنی برے لوگوں   کی ہم نشینی سے گوشہ نشینی میں   چین وراحت ہے۔ ‘‘ 

گوشہ نشینی کے دو طریقے:

 گوشہ نشینی دو طریقے سے ہوتی ہے:  (۱) ایک خلقت سے کنارہ کشی کرنے پر۔ خلقت سے کنارہ کشی کی صورت یہ ہے کہ ان سے منہ موڑ کر خلوت میں   بیٹھ جائے اور ہم جنسوں   کی صحبت سے ظاہری طور پر بیزار ہوجائے اور اپنے اعمال کے عیوب پر نگاہ رکھنے سے راحت پائے۔ خود کو لوگوں   کے ملنے جلنے سے بچائے اور اپنی برائیوں   سے ان کو محفوظ رکھے۔ (۲) دوسرا طریقہ یہ کہ خلقت سے تعلق منقطع کرے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اس کے دل کی کیفیت یہ ہوجائے کہ وہ ظاہر سے کوئی علاقہ نہ رکھے۔ جب کسی کا دل خلق سے منقطع ہوجاتاہے تو اسے کسی مخلوق کا اندیشہ نہیں   رہتا۔ اور اسے کوئی خطرہ نہیں   رہتا کہ کوئی اس کے دل پر غلبہ پاسکے گا اس وقت ایسا شخص اگرچہ خلقت کے درمیان ہوتاہے لیکن وہ خلقت سے جدا ہوتاہے اور اس کے ارادے ان سے منفرد ہوتے ہیں  ۔ یہ درجہ اگرچہ بہت بلند ہے لیکن بعید از قیاس نہیں   مگر یہی طریقہ سیدھا اور مستقیم ہے۔ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اسی مقام پر فائز تھے۔ ظاہر میں   تو سریر آرائے خلافت اور خلقت میں   ملے جلے نظر آتے تھے لیکن حقیقت میں   آپ کا دل عزلت وتنہائی سے راحت پاتا تھا۔ یہ دلیل واضح ہے کہ اہل باطن اگرچہ بظاہر خلق خدا کے ساتھ ملے جلے ہوتے ہیں   لیکن ان کا دل حق کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور ہر حال میں   خدا ہی کی طرف رجوع ہوتاہے اور جتنا وقت خلق خدا سے ملنے جلنے میں   صرف ہوتا ہےوہ اسے حق کی جانب بلاء وامتحان شمار کرتے ہیں  ۔ وہ خلق خدا کی ہم نشینی سے حق تعالی کی طرف بھاگتے ہیں  ۔ وہ خیال کرتے ہیں   کہ دنیا خدا کے محبوبوں   کے لیے ہر گزپاک وصاف نہیں   ہوتی۔ کیونکہ احوال دنیا مکدر ہوتے ہیں   جیسا کہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ دَارٌ اُسِّسَتْ عَلَی الْبَلْوٰی بِلَا بَلْوٰی مَحَالٌ یعنی دنیا ایسا گھر ہے جس کی بنیاد آزمائش پر رکھی گئی ہے  ،  آزمائش کے بغیر اس میں   رہنا محال ہے۔ ‘‘ 

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مخصوص صحابہ میں   سے ہیں   اور بارگاہِ الٰہی میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے تمام افعال مقبول ہیں   حتی کہ ابتداء ًجب مشرف باسلام ہوئے تو جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوکر عرض کیا:   ’’ قَدْ اِسْتَبْشَرَ یَا مُحَمَّدُ اَھْلُ السَّمَاءِ بِاِسْلَامِ عُمَرَ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آسمان والے آج حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مشرف باسلام ہونے پر بشارت وتہنیت دے رہے ہیں   اور خوشیاں   منا رہے ہیں  ۔  ‘‘  صوفیاء کرام گدڑی پہنتے اور دین میں   صلابت وسختی اختیار کرنے میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی پیروی کرتے ہیں   اس لیے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تمام امور میں   سارے جہان کے امام ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

شان فاروقِ اعظم بزبان سیِّدُنا سراج طوسی

صوفیوں   کے بہت بڑے امام حضرت سیِّدُنا ابو نصر عبد اللہ بن علی سراج طوسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے اپنی مایہ ناز تصنیف  ’’ اَللُّمْعُ فِی تَارِیْخِ التَّصَوُّفِ الْاِسْلَامِیْ  ‘‘   میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں   کو صوفیانہ نظر سے کچھ اس طرح بیان فرمایاہے:

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سب سے نمایاں   خصوصیت یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  بارگاہِ رسالت سے  ’’ مُحَدَّثْ ‘‘   ہونے کی سند عطا ہوئی۔ایک صوفی سے پوچھا گیا کہ ’’  مُحَدَّثْ ‘‘   کون ہوتاہے؟ تو انہوں   نے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ صدیق لوگوں   کا ایک مرتبہ ہوتاہے۔ ‘‘ 

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات مبارکہ میں   مرتبہ صدیقیت کی علامات نظر آتی ہیں  ۔مثلاً ٭ ’’ سینکڑوں   میل دور حضرت ساریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لشکر کی دوران خطبہ مدد فرمانا۔ ‘‘   ٭ ’’ انتہائی سادگی کے ساتھ خطبہ ارشاد فرماناکہ ایک دفعہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس قمیص میں   خطبہ دیا جس میں   بارہ پیوند لگے ہوئے تھے۔ ‘‘   ٭  ’’ اپنی عیب جوئی پر خوش ہوناکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خود فرماتے ہیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس شخص پر رحمت فرمائے جو میرے عیب مجھے بتا دیا کرتا ہے۔ ‘‘   ٭  ’’ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سایہ سے بھی شیطان کا ڈر کر بھاگ جانا۔ ‘‘  ٭  ’’ خوف خدا وفکر آخرت دامن گیر رہنا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا کہ کاش میں   یہ تنکا ہوتا ،  کاش! میری ماں   نے مجھ کو نہ جنا ہوتا۔ ‘‘  یہ تمام علامات صدیقیت ہیں  ۔

٭…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اوصاف میں   سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہخود ارشاد فرمایا کرتے کہ مجھے جب بھی کوئی تکلیف پہنچی تو اللہ تعالٰی کی طرف سے چار انعامات الٰہیہ مل جایا کرتے تھے۔ ایک تو یہ کہ کسی دینی معاملے میں   کوئی تکلیف نہیں   آئی۔دوسرا یہ کہ جو بھی تکلیف آئی وہ نعمت کہ اس سے بڑی تکلیف نہیں   آئی۔ تیسرا یہ کہ کسی تکلیف پر رضائے الٰہی سے محروم نہیں   رہا۔ چوتھا یہ کہ مجھے ہر تکلیف پر اجر کاپکا یقین ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ اگر صبر وشکر دو۲ اُونٹ ہوتے تو میں   جس پر چاہتا بے دھڑک سوار ہو جایا کرتا۔

٭…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اوصاف میں   سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بطریق احسن نادار اور غریب شخص کی اصلاح فرمائی کہ ایک شخص نے آپ سے عرض کیا کہ میں   بالکل محتاج ہو چکا ہوں  ۔ فرمایا آج رات تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے یا نہیں  ؟ عرض کیا جی ہے۔ فرمایا پھر تم بالکل محتاج کیسے ہوئے؟

 



[1]   کشف المحجوب ،  ص۶۹۔



Total Pages: 349

Go To