Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

وَسَلَّمسے سنا ہے کہ میری قبر اور منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں   میں   سے ایک باغ ہے۔ ‘‘  ([1])

سیِّدُنا انس بن مالک کی روضہ رسول پر حاضری:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن منیب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْحَسِیْباپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں   کہ میں   نے جلیل القدر صحابیٔ رسول حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار پر حاضر ہوئے  ،  وہاں   تھوڑی دیر ٹھہرے اور پھر اپنے دونوں   ہاتھ اٹھائے تو میں   نے سوچا کہ شاید آپ نماز شروع کرنے لگے ہیں   لیکن میں   نے دیکھا کہ آپ نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں   صلاۃ وسلام پیش کیا اور پھر تشریف لے گئے۔ ‘‘  ([2])

٭میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار ،  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مزارات پر حاضر ہوکر صلاۃ وسلام پیش کیا کرتے تھے  ،  بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی آج چودہ سو سال کے بعد بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے والے عشاق ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار کی حاضری کو عظیم سعادت بلکہ روحانی معراج سمجھتے ہیں  ۔ نیز صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   ،  اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے مزارات پر حاضر ہوکر ان کے فیض سے فیضیاب ہوتے ہیں  ۔

٭…اگر آپ بھی انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  واولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کی محبت کو اپنے دل میں   بسانا چاہتے ہیں   ،  اِن کے مبارک اور بابرکت مزارات سے فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں   ،  انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کی محبت والفت کو اپنے قلوب واَذہان میں   راسخ کرنا چاہتے ہیں   تو تبلیغ قران وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کے دل کا مدنی گلدستہ مقدس مزارات کی خوشبوؤں   سے مہک اٹھے گا۔ ترغیب کے لیے ایک بہار پیش خدمت ہے:

سرکار کا سلام عطّار کے نام:

 بابُ الاسلام سندھ کے مشہور شہر حیدر آباد کے مُقِیم اسلامی بھائی نے حلفیہ (یعنی خدا کی قسم کھا کر)بیان کیا ہے کہ مجھے 4رَمَضان المبارک سن ۱۴۲۹ہجری مدینے شریف حاضِری کی سعادت نصیب ہوئی ۔5شوال المکرم سن ۱۴۲۹ ہجری بروز پیر شریف یا منگل دوپہر تقریباً ڈھائی بجے الوداعی حاضری کے لئے بارگاہِ رسالت میں   عین سنہری جالیوں   کے سامنے اپنا اور دیگر حضرات کا سلام پیش کررہا تھا۔ اس دوران جب میں   نے اپنے پیرومُرشِد  ، شیخ طریقت ،  امیر اہلسنّت ،  بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سلام بارگاہِ رسالت میں   پیش کیا توجالی مبارک کے پیچھے سے آواز آئی:   ’’ میرے الیاس کو بھی سلام کہنا۔ ‘‘   میں   ایک دم چونکا اوراِدھر اُدھر دیکھا تو ہر طرف ماحول پر سکون تھا عید گزر جانے کے باعث وہاں   بہت کم لوگ تھے۔میں   نے ایک بار پھر اپنے پیرومرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سلام بارگاہِ رسالت میں   پیش کیا تو دوبارہ جالی مبارکہ کے پیچھے سے آواز آئی:   ’’ میرے الیاس کو بھی میرا سلام کہنا۔ ‘‘   یہ سن کر مجھ پر رِقّت طاری ہوگئی اوربے اختیار میں   نے ایک بار پھر اپنے پیرومرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا سلام بارگاہِ رسالت میں   پیش کیا تو خدا کی قسم! میں   نے بیداری کے عالم میں   تیسری بار پھر یہ سنا کہ:   ’’ میرے الیاس کو بھی میرا سلام کہنا۔ ‘‘   میں   کافی دیر کھڑا روتا رہا۔کچھ دنوں   بعد میں   پاکستان لوٹ آیا۔چونکہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ان دنوں   ملک سے باہر تھے لہٰذا میں   آپ کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سلام نہ پہنچا سکا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی وطن واپسی کے بعد بھی میں   کافی عرصہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سلام آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو نہ پہنچا سکا۔صفر المظفرسن ۱۴۳۰ہجری بروز جمعرات جب میں   نے مدنی چینل پر سنہری جالیوں   کا روح پرور منظر دیکھا تو یکا یک وہی آواز مجھے پھر سنائی دی  ، الفاظ کچھ یوں   تھے:   ’’ میرے الیاس کو تم نے ابھی تک میرا پیغام نہیں   پہنچایا۔ ‘‘   میں   بے قرار ہو گیا اور آخر کار ۳ ربیع النورشریف بروز اتواربعد نماز عشاء والد صاحب کے ہمرا ہ عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ باب المدینہ (کراچی) میں   ہونے والے مَدَنی مذاکرے میں   شرکت کے لئے جا پہنچا۔ نصیب سے سحری میں   پیر ومرشد دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں   حاضری کی سعادت ملی تو موقع ملنے پر امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں   سرکارِ مدینہ  ، راحتِ قلب سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   کا سلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی اور سکون کا سانس لیا کہ مرنے سے پہلے پہلے میں   نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام اپنے پیرو مرشد امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تک پہنچا دیا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخ طریقت ،  امیرِاہلسنّت ،  بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہپندرھویں   صدی کی وہ عظیم علمی ورُوحانی شخصیت ہیں   جنہوں   نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب ،  حبیب لبیب ،  ہم گنہگاروں   کے طبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خاص کرم کی بدولت علم کی روشنی پھیلا کر جہالت کی گھٹاؤں   کو دور کر دیا ، سنّتوں   کی بہاریں   عام کرکے بے راہ رَوی کی چلتی آندھیوں   کا زور توڑ دیا ،  حیاداری کے پُراَثردَرس کے ذریعے بے حیائی کے دریاؤں   کا رُخ موڑ دیا ، لاکھوں   مسلمانوں   کو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مخلصانہ کاوِشوں   کی برکت سے توبہ کی سعادت ملی اور وہ اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش میں   لگ گئے۔ آپ بھی امیر اہلسنت کے دامن سے وابستہ ہوفکرآخرت کیجئے اور دونوں   جہاں   کی بھلائیاں   پائیے۔

 یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام  ،  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اور تمام اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کی حقیقی محبت وان کی سیرتِ طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔           آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 



[1]   شعب الایمان  ،  باب فی المناسک ،  فضل الحج والعمرۃ ،  ج۳ ،  ص۴۹۱ ،  حدیث:  ۴۱۶۳۔

[2]   شعب الایمان  ،  باب فی المناسک ،  فضل الحج والعمرۃ ،  ج۳ ،  ص۴۹۱ ،  حدیث:  ۴۱۶۴۔



Total Pages: 349

Go To