Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

مقصورہ شریف اس لوہے اور پیتل سے بنائی ہوئی جالی مبارکہ کو کہا جاتا ہے جو پانچ کونوں   والی دیوار کے اردگرد ہے ،  سب سے پہلے یہ جالی مبارکہ سلطان رکن الدین بیبرس نے سن ۶۶۸ ہجری میں   بنوائی تھی ،  اس نے یہ جالی لکڑی کی بنوائی تھی ،  ان جالیوں   کی لمبانی دو آدمیوں   کے قد کے برابر تھی ،  بعد میں   آنے والے بادشاہ نے اس میں   مزید اضافہ کیا اور اسے چھت سے لگادیا۔ بعدازاں   مختلف ادوار میں   ان کی تعمیر نو کی جاتی رہی نیز ان پر مختلف رنگ بھی کیے جاتے رہے ،  حتی کہ اب بھی وہی جالیاں   موجود ہیں   جن کے سامنے عشاقان ،  خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اور شیخین کریمین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے مزارات پر درودوسلام عرض کرتے ہیں   اور فیضان مزارات ثلاثہ سے فیضیاب ہوتے ہیں  ۔([1])

تیری جالیوں   کے پیچھے تیری رحمتوں   کے سائے

جسے دیکھنی ہو جنت وہ مدینہ دیکھ آئے

سنہری جالیاں   ہوں   آپ ہوں   اور مجھ سا عاصی ہو

ملے سینے سے سینہ جانِ جاناں   یارسول اللہ

رسول اللہ کی قبر انور کی موجودہ تصاویر:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا تمام روایات سے درج ذیل امور سامنے آئے:

٭رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وشیخین کریمین کے مزارات کے گرد چار دیواری ہے۔

٭…یہ چار دیواری بالکل بند ہے اس میں   آنے جانے کا کوئی بھی راستہ نہیں   ہے۔

٭…اس چار دیواری کے گرد بھی ایک پانچ کونوں   والی مضبوط دیوار ہے جس پر چادر ڈال دی گئی ہے۔

٭…یہ پانچ کونوں   والی دیوار بھی بالکل بند ہے اس میں   بھی آنے جانے کا کوئی راستہ نہیں   ہے۔

٭…اس پانچ کونوں   والی دیوار کے باہر اب سنہری جالیاں   ہیں   جن کے اندر پردے لگے ہیں  ۔

٭…خاص حجرۂ مبارکہ اور پانچ کونوں   والی دیوار کے بالکل نیچے سلطان نور الدین زنگی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کی بنائی ہوئی سیسہ پلائی مضبوط زمینی دیوار موجود ہے۔

٭…خاص حجرۂ مبارکہ اور پانچ کونوں   والی دیوار کے عین اوپر سبز سبز گنبد مزارات ثلاثہ سے برکتیں   لوٹ رہا ہے اور وہ برکتیں   پورے عالم میں   لٹا رہا ہے۔

٭…اب کوئی بھی ایسا راستہ نہیں   ہے کہ براہ راست کوئی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموشیخین کریمین کے مزارات تک پہنچ سکے اور یہ تمام اُمور پہلی صدی سے لے کر زیادہ سے زیادہ چھٹی صدی تک مکمل کرلیے گئے تھے۔

٭…یہ جو آئے دن اخبارات میں   یا ٹی وی چینلز پر خبریں   نشر کی جاتی ہیں   کہ فلاں   بادشاہ یا صدر یا کوئی بھی مخصوص شخصیت یا کسی اور کے لیے روضۂ مبارکہ کا دروازہ کھولا گیا یابعض حضرات کا یہ دعویٰ کرنا کہ وہ روضۂ مبارکہ کے اندر گئے ہیں   تو یہ تمام حضرات فقط اُسی پانچ کونوں   والی دیوار کے باہر تک ہی گئے ہیں   جس پر سبز رنگ کا غلاف چڑھا ہوا ہے نہ کہ خاص قبور مبارکہ تک۔ اس سے آگے کوئی بھی نہیں   جاسکتا کیونکہ وہ دیوار ہرطرف سے بلکل بند ہے۔ حتی کہ گنبد خضراء کے خدام بھی اسی پانچ کونوں   والی دیوار کے باہر تک ہی جاسکتے ہیں  ۔

٭…واضح رہے کہ پانچ کونوں   والی دیوار کے بننے سے قبل یا جب تک اس کے ذریعے خاص قبور مبارکہ تک جانے کا راستہ تھا تو اس وقت کیمرہ نہ تھا ،  جب کیمرہ ایجاد ہوا تو اندر جانے کا راستہ بند کردیا گیا تھا۔ لہٰذا خاص قبور مبارکہ کی تصویر لینا فی الحال ناممکن ہے۔آج کل بعض کتب ،  مضامین ،  کَتبوں   اور اسٹیکرز وغیرہ پر چند قبور کی تصاویر ہیں   جنہیں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر مبارکہ نہیں   ہے ،  کیونکہ اب اس کی تصاویر بنانا ممکن نہیں   ہے اور جب اس کی تصاویر بنانا ممکن تھا اس وقت کیمرہ موجود نہ تھا۔موجودہ تصویریں   بزرگان دین کی قبور شریف کی ہیں   ،  ایک تصویر تو حضرت سیِّدُنا جلال الدین رومی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کی قبر مبارک کی ہے۔ لہٰذا ایسی تمام تصاویر کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف منسوب کرنا درست نہیں  ۔ مزارات ثلاثہ کے حجرۂ مبارکہ ،  پانچ کونوں   والی دیوار ،  اس کے اوپر سبز گنبد کا قلمی نقشہ اگلے صفحے پر ملاحظہ کیجئے۔

مزارات پر حاضری دینا سنت ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی ہم نے کائنات کے مقدس ترین مزارات کی تفصیلات پڑھیں   ،  واضح رہے کہ مزارات پر حاضری دینا وہاں   بزرگوں   کے وسیلے سے دعا کرنا ،  خود ان کے لیے دعائے رحمت کرنا یہ تمام باتیں   نہ صرف قرآن وسنت کے عین مطابق ہیں   بلکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سنت مبارکہ بھی ہیں  ۔ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ودیگر کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی عادت مبارکہ تھی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مزار پرانوار پر حاضری دیا کرتے تھے ،  نیز سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   بھی سلام پیش کیا کرتے تھے ،  کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر انور کی زیارت پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت کے واجب ہونے کی ضمانت ہے۔ چنانچہ  ،

شفاعت واجب ہوگئی:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’  مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِیْ یعنی جس نے میری قبر



[1]   وفاء الوفاء ،  الفصل السابع والعشرون۔۔۔الخ ،  المقصورۃ الدائرۃ ،  ج۱ ،  ص۶۱۱۔



Total Pages: 349

Go To