Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

چوتھی قبر کی جگہ خالی ہے:

احادیث وآثار سے پتا چلتاہے کہ جس حجرۂ مبارکہ میں   یہ تینوں   قبور مبارکہ ہیں   اس میں   ایک اور قبر کی جگہ بھی خالی ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا حفص بن عمر بن عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے روایت ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا

 

 عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے انتقال کا وقت قریب آیا تو اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ایک قبر کی جگہ ہے جسے میں   نے آپ کے لیے بچا کے رکھا ہے اگر آپ چاہیں   تو یہاں   تدفین کروالیں  ۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے جواباً ارشاد فرمایا:   ’’ اے اُمّ المؤمنین! مجھے معلوم ہے کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدفین کے بعد سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا گھر میں   پردے کے ساتھ آتی جاتی ہیں   ،  میں   یہاں   اپنی تدفین کرکے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے گھر کو مزید تنگ نہیں   کرنا چاہتا ،  دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ میں   نے اپنے دوست حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ ہم دونوں   اکھٹے ایک ہی جگہ مدفون ہوں   گے۔ ‘‘  جبکہ اّمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے جنت البقیع میں   دفن کیا جائے لہٰذا آپ کو وہیں   دفن کیا گیا۔([1])

سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تدفین:

مختلف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حجرہ مبارکہ میں   جو ایک قبر کی جگہ خالی ہے اس میں   قرب قیامت میں   نازل ہونے والے نبی حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  دفن ہوں   گے جو شریعت محمدی کے متبع ہوں   گے۔ چنانچہ  ،

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ تورات شریف میں   جہاں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صفات مبارکہ کا ذکر ہے وہیں   سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی یہ صفت بھی مذکور ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ مدفون ہوں   گے۔ علامہ ابومودود عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد فرماتے ہیں   کہ :   ’’ اسی وجہ سے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حجرۂ مبارکہ میں   ایک قبر کی جگہ خالی ہے۔ ‘‘  ([2])

سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سبز عمامہ شریف میں  :

عَارِف بِاللّٰہ  ، نَاصِحُ الْاُمَّہ حضرت علامہ مولانا امام عبدالغنی بن اسماعیل نابُلُسِی حنفی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اورحضرتِ علّامہ محمد عبد الرَّء ُوف مناوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  فرماتے ہیں   کہ :   ’’ حضرت سیِّدناعیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  جب دنیا میں   دوبارہ تشریف لائیں   گے تو آپ کے سرِ اقدس پر سبزسبز عمامہ جگمگا رہا ہو گا۔ ‘‘   ([3])

پانچ کونوں   والی دیوار:

دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے عہدِ مبارکہ میں   حجرۂ مبارکہ کھجوروں   کی شاخوں   سے بنا ہوا تھا ،  بعد میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دور میں   اس کی دیواریں   کچی اینٹوں   سے بنائی گئیں   ،  البتہ اس کی چھتیں   اب بھی کھجور کی شاخوں   ہی کی تھیں  ۔ پھر لوگ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر انور سے بطور تبرک مٹی لیا کرتے تھے اس لیے سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حکم سے اس کے سامنے دیوار بنا کر اس کو بند کردیا گیا لیکن اس میں   ایک سوراخ چھوڑ دیا گیا لوگ اس سے مٹی لینے لگے تو اسے بھی بعد میں   بند کردیا گیا۔سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِ مبارکہ میں   جب ایک دیوار گری اور اس کی تعمیر نو کی گئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حفاظت کی غرض سے پانچ کونوں   والی دیوار بنادی ،  پانچواں   کونہ بنانے کی وجہ کعبۃ اللہ سے عدم مشابہت تھی۔ اس پنج گوشہ دیوار میں   نہ تو کوئی دروازہ رکھا گیا اور نہ ہی کوئی اور راستہ ۔ ‘‘  ([4])

سیسہ پلائی ہوئی مضبوط دیوار:

علامہ نور الدین زنگی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کے عہدِ مبارک میں   نصرانیوں   نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک جسد کو چوری کرنے کی ناپاک سازش تیار کی ،  جس کے لیے انہوں   نے دو افراد کو مدینہ منورہ میں   پوری تیاری کے ساتھ روانہ کیا۔ انہوں  نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے جسد اطہر تک پہنچے کے لیے زمینی سرنگ کھودی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سلطان نور الدین زنگی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کے خواب میں   آکر انہیں   مطلع کیا اور ان دونوں   خبیث نصرانیوں   کا چہرہ بھی دکھایا۔ سلطان نور الدین زنگی زبردست عاشق رسول تھے ،  اپنے محبوب کے جسد اطہر کے ساتھ گستاخی کے تصور سے ہی کانپ اٹھے ،  فوراً مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے ،  پورے شہر کے لوگوں   کو بلا کر صدقات دیے تاکہ ان دونوں   نصرانیوں   کی شناخت ہوسکے ،  بعد ازاں   ان دونوں   کو گرفتار کرلیا گیا ،  ان کے حجرے سے زمین کھودنے کے اوزار وغیرہ برآمد ہوئے ،  ابتدائی تفتیش کے بعد انہوں   نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا۔ سلطان نور الدین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے ان دونوں   کی گردنیں   اڑانے کا حکم دیا۔ بعد ازاں   آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نےاس حجرہ مبارکہ جس میں   تینوں   قبور موجود ہیں   کے باہر گہری کھدائی کرواکے سیسہ پلائی زمینی دیوار کھڑی کردی تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسی ناپاک جسارت کرنے کی کوشش نہ کرے۔([5])

مقصورہ شریف کی وضاحت:

 



[1]   تاریخ مدینۂ منورہ  ،  ج۱ ،  ص۱۱۵۔

[2]   ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب ما جاء فی فضل النبی ،  ج۵ ،  ص۳۵۵ ،  حدیث:  ۳۶۳۷۔

[3]   فیض القدیر ،  فصل فی المحلی۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۷۱۸ ،  تحت الحدیث:  ۴۲۵۰ ،  الحدیقۃ الندیۃ ،  ج ۱ ،  ص۲۷۳ ۔

[4]   وفاء الوفاء ،  الفصل الثانی والعشرون۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۵۴۴ ،  ۵۶۳ ،  الدرۃ الثمینۃ لابن النجار ،  ذکر وفاۃ عمر ،  ص۲۰۷۔

[5]   وفاء الوفاء ،  الفصل السابع والعشرون۔۔۔الخ ،  خاتمۃ ،  ج۱ ،  ص۶۴۸۔



Total Pages: 349

Go To