Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سال تھی۔ ۶۶ ،  ۶۱ اور ۶۰ سال کے مختلف اقوال بھی بیان کیے گئے ہیں  ۔آپ کی خلافت دس سال پانچ ماہ اور اکیس روز رہی۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

فیضانِ مزارات ثلاثہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:   ’’ عِنْدَ ذِكْرِ الصَّالِحِيْنَ تَنْزِلُ الرَّحْمَةُ یعنی نیک لوگوں   کا ذکر کرتے وقت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ ‘‘  (الزھد لاحمد بن حنبل ،  ج۱ ،  ص۳۲۶)ذرا غور فرمائیے کہ فقط نیک لوگوں   کا ذکر کرتے وقت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو جہاں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندے خود موجود ہوں   اس مقام پر   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی رحمتوں   کا کیسا نزول ہوتا ہوگا؟ کائنات کی مقدس ومبارک جگہ سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا مزار مبارک ہےجہاں   آپ کے ساتھ آپ کے دونوں   رفیق حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی آرام فرماہیں  ۔کل بروز قیامت سب سے پہلے یہی جگہ شق ہوگی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرح باہر تشریف لائیں   گے کہ آپ کے دائیں   جانب سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور بائیں   جانب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہوں   گے۔اس مقدس مقام کی اندرونی وبیرونی کیفیت کا اجمالی بیان پیش خدمت ہے:

تینوں   قبور مبارکہ کی اندرونی کیفیت :

حضور نبی پاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسد مبارک سے تقریباً ایک ہاتھ کے فاصلے پر سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسد مبارک تشریف فرما ہے ،  یعنی آپ کا سر اقدس رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دوشِ انور کے مقابل ہے ،  پھر سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جسد مبارک سے تقریباً ایک ہاتھ کے فاصلے پر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسد مبارک تشریف فرما ہے ،  یعنی آپ  کا سر اقدس سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے کندھوں   کے مقابل ہے۔ ([2])

تینوں   قبور مبارکہ کی بیرونی کیفیت :

واضح رہے کہ تینوں   قبور مبارکہ نہ تو پختہ ہیں   اور نہ ہی ان پر اینٹیں   وغیرہ لگائی گئی ہیں   بلکہ کچی اور سرخ رنگ کی مٹی سے تینوں   قبور مبارکہ کو بنایا گیا تھا۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پوتے حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم   فرماتے ہیں   کہ:   ’’ ایک بار میں   اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی بارگاہ میں   حاضر ہوا اور تینوں   مزارات کی اندر سے زیارت کی اجازت طلب کی ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  نے جب پردہ ہٹایا تو میں   نے دیکھا کہ تینوں   قبریں   نہ تو بہت اونچی تھیں   اور نہ ہی بالکل زمین سے ملی ہوئی تھیں   ،  اسی طرح وہ بطحاء کی سرخ مٹی سے بنائی گئی تھیں  ۔ ‘‘  ([3])

تینوں   قبور مبارکہ کی وضع وساخت:

اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانہ شمع رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد ۲۱ ،  ص۴۴۲ پر فرماتے ہیں   کہ : تینوں   تربتوں   یعنی قبور مبارکہ کی ظاہری وضع اور ساخت کے حوالے سے سات روایات ہیں   جن میں   سے فقط دو ہی روایات بالکل صحیح ہیں  :

٭…پہلی روایت سنن ابوداود شریف کی صحیح حدیث مبارکہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پوتے حضرت سیِّدُنا قاسم بن محمد بن ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کی ہے جس میں   انہوں   نے تینوں   قبور مبارکہ کی زیارت کرنے کے بعد ان کی کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ سب سے آگے حضور نبی کریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر انور تھی ،  جبکہ شیخین کی قبور مبارکہ کی ترتیب کچھ اس طرح تھی کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سر مبارک رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک کندھوں   کے پاس تھا ،  جبکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سر مبارک حضورنبی رحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدمین مبارکہ کے متوازی ومتصل تھا ،  اس صورت میں   تینوں   قبورِمبارکہ کا نقشہ کچھ یوں   ہوگا:

                         رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم            سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ 

                                                                سیِّدُنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ  

٭…دوسری روایت وہ ہے جس پر محدث رزین وغیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے اظہار اعتماد کیا ہے ،  علامہ نووی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کے نزدیک بھی یہی مشہور ہے ،  علامہ سمہودی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے فرمایا:   ’’ زیادہ مشہور روایت یہ ہے کہ رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی قبر انور دیوار قبلہ سے متصل سب سے آگے ہے اور حضور نبی کریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس شانوں   کے بالمقابل سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر ہے ،  پھر سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دونوں   کندھوں   کے بالمقابل سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر مبارک ہے۔ اس صورت میں   تینوں   قبورِمبارکہ کا نقشہ کچھ یوں   ہوگا:

                                                                رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم  

                                                                        سیِّدُنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ  

                                                                                        سیِّدُنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ 

 



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۸۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۱ ،  فتاویٰ رضویہ ،  ج۹ ،  ص۸۸۷۔

[3]   ابوداود ،  کتاب الجنائز ،  باب فی سویۃ القبر ،  ج۳ ،  ص۲۸۸ ،  حدیث:  ۳۲۲۰۔



Total Pages: 349

Go To