Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہوتے ہوئے حق اور اہل حق دور نہ ہوتے تھے لیکن آج اسلام کمزور ہوگیا ہے۔ ‘‘  ([1])

گویا قیامت قائم ہوگئی:

حضرت سیِّدُنا جریر بن عبد الحمید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے دادی سے روایت کرتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کیا گیا تو لوگ یہ سمجھے کہ شاید قیامت قائم ہوگئی ہے ،  مختلف لوگ اپنی وصیتیں   ایسے کرنے لگے کہ واقعی قیامت قائم ہوگئی ہے۔ ‘‘  ([2])

دنیا سے تہائی علم چلا گیا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اب تم پر جوبھی سال آئے گا وہ گزشتہ سال سے برا ہوگا۔  ‘‘  لوگوں   نے پوچھا:   ’’ کیا وہ سال سرسبزوشاداب نہیں   ہوگا؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ میری یہ مراد نہیں   ہے بلکہ میں   یہ کہنا چاہتا ہوں   کہ علماء ختم ہوجائیں   گے اور میرا یہ گمان ہے کہ جس دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس دنیا سے تشریف لے گئے اس دن تہائی علم چلا گیا۔ ‘‘  ([3])

اِسلام آگے بڑھنے والاتھالیکن۔۔۔:

حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زمانے میں   اسلام اس شخص کی طرح تھا جو آگے ہی بڑھتا جائے  ،  لیکن آپ کے وصال کے بعد پیٹھ پھیرکر بھاگنے والے شخص کی طرح ہوگیا۔ ‘‘  ([4])

ہرگھر میں   نقص داخل ہوگیا:

حضرت سیِّدُنا ابوطلحہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :   ’’ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کے سبب ہر مسلمان کے گھر میں   دینی ودنیوی نقص داخل ہوگیا۔ ‘‘  ([5])

امیر المؤمنین کی وفات کالوگوں   پراثر:

حضرت سیِّدُنا حسن بن ابوجعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ جس دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کیا گیا اس دن پوری زمین تاریک ہوگئی ،  بچے اپنے ماؤوں   سے کہنے لگے:   ’’ اے ماں  ! کیا قیامت قائم ہوگئی ہے؟ ‘‘   تو وہ کہتیں   :   ’’ نہیں   بیٹا ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا گیا ہے۔ ‘‘  ([6])

مولاعلی اور خلفائے راشدین:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   جب جنگ صفین سے لوٹے تو آپ نے اپنے خطبے میں   یہ الفاظ کہے:   ’’ اَللّٰهُمَّ اَصْلِحْنَا بِمَا اَصْلَحْتَ بِهِ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِيْنَ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   بھی ان خوبیوں   کے ساتھ آراستہ فرما جن کے ساتھ تونے ہدایت یافتہ اورہدایت دینے والے خلفاء کو آراستہ فرمایا۔ ‘‘  پوچھا گیاکہ خلفا ئےراشدین سے آپ کی مراد کون لوگ ہیں  ؟ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر رقت طاری ہوگئی  ،  آنکھیں   بھر آئیں   اور ارشاد فرمایا:   ’’ میری مراد سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   ،  جو امام الھدی یعنی ہدایت کے امام ،  شیخ الاسلام یعنی اسلام کے بڑے بزرگ ہیں   ،  جن کے وسیلے سے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد ہدایت طلب کی جاتی ہے ،  سیدھے راستے پرچلنے کے لیے جن کی اتباع کی جاتی ہے ،  جو اُن کی اتباع کرے گا ہدایت پاجائے گا اور جس نے اِن دونوں   کو مضبوطی سے تھاما وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے گروہ سے ہے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کا گروہ کامیاب ہے۔ ‘‘  ([7])

مولاعلی اور افضلیت شیخین:

حضرت سیِّدُنا ابومخلد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   نے ارشاد فرمایا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وفات سے قبل ہم جانتے تھے کہ آپ کے بعدسیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سب سے افضل ہیں   اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات سے قبل ہم جانتے تھے کہ آپ کے بعد سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سب سے افضل ہیں  ۔ ‘‘  ([8])

صحابہ کرام کی فاروقِ اعظم سے محبت:

جس رات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا اسی رات حضرت سیِّدُنا عثمان غنی ،  حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا اور حضرت سیِّدُنا عبیداللہ بن معمر تیمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ہاں   مدنی منوں   کی ولادت ہوئی  ،  ان تینوں   نے اپنے مدنی منوں   کا نام  ’’ عمر ‘‘   رکھا۔([9])

وصالِ فاروقِ اعظم اور جنات

 



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۴۔

[2]   معرفۃ الصحابۃ ،  معرفۃ نسبۃ الفاروق ،  ج۱ ،  ص۷۵ ،  الرقم:  ۲۰۵۔

[3]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۲۸۵۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۵۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۵۔

[6]   معرفۃ الصحابۃ ،  معرفۃ نسبۃ الفاروق ،  ج۱ ،  ص۷۵ ،  الرقم:  ۲۰۵۔

[7]   شرح اصول اعتقاد السنۃ ،  سیاق ماروی عن النبی ۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  الجزء:  ۷ ،  ص۱۱۳۸ ،  الرقم:  ۲۵۰۱۔

[8]   مناقب امیر المؤمنین عمر بن الخطاب ،  الباب الثامن والسبعون ،  ص۲۳۳۔

[9]   المنتظم ،  ذکر من توفی فی۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۳۲۹۔



Total Pages: 349

Go To