Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زندہ ہوں   تو میں   انہیں   اس اُمت کا خلیفہ بنادوں   اوراگر رب عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے استفسار فرماتا کہ اے عمر! تونے ابوعبیدہ بن جراح کو امتِ محمدیہ کا خلیفہ کیوں   بنایا؟ تو میں   کہتا کہ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   نے تیرے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے کہ ہرنبی کا ایک امین ہوتا ہے اور میرا امین ابوعبیدہ بن جراح ہے۔ ‘‘   لوگوں   نے اس بات کو ناپسند کیا اور عرض کیا کہ  ’’ حضور! آپ قریش میں   سے کسی اور کا بھی انتخاب فرماسکتے ہیں  ۔ ‘‘   مراد یہ تھی کہ اپنے قبیلے بنی عدی بن کعب سے کسی کو خلیفہ مقرر فرمائیں  ۔ فرمایا:   ’’ اگر مجھے موت آجاتی اور معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زندہ ہوتے تو میں   انہیں   خلیفہ مقرر کردیتا۔ اگر رب عَزَّ وَجَلَّ مجھ سے استفسار فرماتا کہ اے عمر! تونے معاذ بن جبل کو کیوں   خلیفہ بنایا؟تومیں   کہتا کہ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   نے تیرے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنا ہے کہ کل بروز قیامت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو علمائے کرام کے سامنے بڑے مقام ومرتبے کے ساتھ لایاجائے گا۔ ‘‘  سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اور سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں   کا پہلے ہی ملک شام میں   انتقال ہوگیا تھا۔ ([1])

رسول اللہ کی سنت پر عمل :

            جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو فرمایا:   ’’ اگر میں   خلیفہ نہ مقرر کروں   تو بھی سنت پر عمل ہوگا اور مقرر کردوں   تو بھی سنت پر عمل ہوگا ،  کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خلیفہ مقرر نہ فرمایا اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفہ مقرر فرمایا۔ ‘‘   مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   فرماتے ہیں   :   ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت پر عمل کریں   گے۔  ‘‘   چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ نے کوئی خلیفہ مقرر نہ فرمایا بلکہ خلیفہ کے تقرر کے لیے چھ ۶جید اور اکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر مشتمل مجلس شوریٰ قائم فرمائی۔ جن میں   حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ،  حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شامل تھے۔سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نمازیں   پڑھانے کا حکم دیا۔اس مجلس شوریٰ کے ان چھ اراکین نے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تدفین کے بعد مدنی مشورہ کیا۔ حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ان تینوں   نے اپنا معاملہ بقیہ تینوں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سپرد کردیا۔سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   سے عرض کیا کہ  ’’ میں   تو خلیفہ نہیں   بننا چاہتا۔ ‘‘   ان دونوں   نے آپ کو انتخاب خلیفہ کا اختیار دے دیا۔ آپ نے دونوں   افراد سے علیحدہ علیحدہ عدل وانصاف کے قیام کا حلف لیا اور پھر سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی ،  یہ دیکھ کر حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیرخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم    نے بھی ان کی بیعت کرلی۔([2])

فاروقِ اعظم کی خلیفہ کو وصیت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ میں   اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں   کہ وہ مہاجرین اولین سے بھلائی کرے ،  ان کا حق پہچانے ،  ان کی عزت کی حفاظت کرے ،  انصار کے ساتھ بھی نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں   جنہوں   نے اپنے گھروں   میں   مہاجرین کو پناہ دی ،  صدق دل سے ایمان قبول کیا ،  خلیفہ ان کے اچھے کاموں   کو قبول کرے ،  ان کی غلطیوں   سے درگزر کرے ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذمے کی بھی وصیت کرتا ہوں   کہ وہ رعایا سے کیے گئے عہد کو پورا کرے ،  ان کی حفاظت کے لیے لڑے ،  اور انہیں   ان کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم کی قبر اَنورکی کھدائی:

حضرت سیِّدُنا مطلب بن عبد اللہ بن حنطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضور نبی پاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت طلب کی اور انہیں   اجازت مل گئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ حجرہ بہت تنگ ہے ،  پھر ایک چھڑی منگوائی اور اس سے اس کی لمبائی کا اندازہ لگایا پھر فرمایا کہ اتنی قبر کھودو۔ ‘‘  ([4])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم کی شہادت

مغفرت نہ ہوئی تو ہلاکت ہے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وصال کے وقت فرمایا:   ’’ وَيْلٌ لِيْ وَوَيْلٌ لِاُمِّيْ اِنْ لَّمْ يَغْفِرِ اللہ لِيْ یعنی اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میری مغفرت نہ فرمائی تو میری اور میری ماں   کی ہلاکت ہے۔ ‘‘  بس یہ فرماتے ہوئے آپ کا انتقال ہوگیا۔([5])

شانِ فاروقِ اعظم بزبان مولاعلی

فاروقِ اعظم محبوب شیر خدا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا جسد مبارک چارپائی پر رکھا ہوا تھا اور



[1]   مسند امام احمد ،  مسند عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۴۸ ،  حدیث:  ۱۰۸۔

[2]   بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب قصۃ بیعۃ۔۔۔الخ ،  ج۲ ،  ص۵۳۳ ،  حدیث:  ۳۷۰۰۔

                                                 طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۰ ،  ۲۶۲۔

[3]   بخاری ،  کتاب الجنائز ،  باب ما جاء۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۴۷۰ ،  حدیث:  ۱۳۹۲ ملتقطا۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۷۔

[5]   الزھد لابن مبارک ،  باب تعظیم ذکر اللہ ،  ص۸۰۔



Total Pages: 349

Go To