Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  نے اہل میت کے رونے سے میت کو عذاب دیے جانے کی درج ذیل پانچ وجوہات بیان کی ہیں  :   ’’ (۱)میت کو گھروالوں   کے اس پر رونے سے اس وقت عذاب ہوگا جب کہ اس نے رونے کی وصیت کی ہو۔(۲) جب میت پر نوحہ کرنے اور رونے کی رسم اس نے ڈالی ہو۔ (۳) جب گھروالے اس کے سامنے کسی میت پر نوحہ کرتے ہوں   اور وہ ان کو منع نہ کرتا ہو اور یہ نہ بتاتا ہوکہ یہ فعل حرام ہے۔(۴) جب اس کے گھر والے اس کے کیے ہوئے ناجائز کاموں   پر اس کی مدح کررہے ہوں   اور اسے قبر میں   عذاب ہورہا ہو۔ (۵) جب گھر والے میت کے ایسے اوصاف بیان کررہے ہوں   جو اس میں   نہ ہوں   تو قبر میں   فرشتے اس کو جھڑکتے ہیں  کہ  ’’ کیا تو ایسا تھا؟ ‘‘   مثلا:  جب نوحہ کرنے والے کہیں  :   ’’ ہائے تم پہاڑ تھے ،  تم دریا تھے تو فرشتے میت کو ڈانٹ کر کہیں   گے:   ’’ کیا تم پہاڑ تھے ؟کیا تم دریا تھے؟ ‘‘  ([1])

جنازے کو جلدی لے کرچلنے کی وصیت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:   ’’ اے بیٹے! جب میری موت کا وقت قریب آئے تو مجھے زمین پر لٹادینا ،  پھر اپنے دونوں   گھٹنے میری پیٹھ سے لگا دینا ،  اپنا دایاں   ہاتھ میرے ایک پہلو پر یا پیشانی پر رکھنا ،  بایاں   ہاتھ میری ٹھوڑ ی پر رکھنا ،  جب میری روح قبض ہوجائے تو میری آنکھیں   بند کردینا۔ میرے کفن میں   زیادتی نہ کرنا کیونکہ اگر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   میرے لیے بھلائی ہوئی تو وہ اسے بہترین کفن میں   تبدیل فرمادے گا اور اگر اس کے علاوہ کوئی معاملہ ہوا تو یہ کفن بھی مجھ سے چھین لیا جائے گا  ،  میری قبر بھی مختصر ہی رکھناکہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   میرے لیے بھلائی ہوئی تو وہ تاحد نگاہ وسیع ہوجائے گی ورنہ میری پسلیاں   ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں   پیوست ہوجائیں   گی ،  میرے جنازے کے ساتھ کوئی عورت نہ ہو ،  جو اوصاف میری ذات میں   موجود نہیں   ان کے ذریعے میری تعریف بیان نہ کرنا کیونکہ میری ذات کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی بہتر جانتا ہے ،  جب تم میرا جنازہ لے کر جانا تو تیز تیز چلنا کیونکہ اگر میرے لیے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   خیر ہے تو مجھے اس خیر کی طرف جلدی لے چلنا اور اگر اس کے علاوہ کوئی معاملہ ہوا تو تم اپنے کندھوں   سے ایک بری شے کو جلدی جلدی اتار دینا۔ ‘‘   ([2])

جنازے کے ساتھ آگ وعورت کی ممانعت:

حضرت سیِّدُنا فضیل بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بات کی وصیت کی کہ ان کے جنازے میں   نہ تو آگ ہو  ،  نہ ہی کوئی عورت ساتھ جائے اور نہ ہی ان کو مشک سے لیپ کیا جائے۔ ‘‘   ([3])

رخسار زمین سے ملا دینے کی وصیت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے وصیت کی کہ  ’’ جب تم مجھے قبر میں   رکھ دو تو میرا گال زمین سے اس طرح ملا دینا کہ میرے گال اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو۔ ‘‘  ([4])

قرض کی ادائیگی کی وصیت:

حضرت سیِّدُنا عثمان بن عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بیت المال سے اسی ہزار ۸۰۰۰۰قرض لیا ہوا تھا ،  آپ نے اپنی وفات سے قبل سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور انہیں   قرض کی ادائیگی کی وصیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اے بیٹے! میرے مرنے کے بعد سب سے پہلے میرا ذاتی مال بیچ کے قرض کی ادائیگی کرنا ،  اگر اس سے پورا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ میرے قبیلے بنو عدی سے لے کر ادائیگی کرنا ،  اگر اس سے پورا ہوجائے تو ٹھیک ورنہ قریش سے لے کر اس کی ادائیگی کردینا اور کسی سے نہ لینا۔ ‘‘   یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کیا:   ’’ حضور! آپ بیت المال سے ہمارے حصے کا مال لے کر قرض کی ادائیگی کیوں   نہیں   کردیتے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں   اس بات سے کہ تم اور تمہارے دوست میرے بعد یہ کہیں   کہ ہم نے عمر کے لیے اپنا حصہ چھوڑ دیا تھا ،  اس کے ذریعے تم مجھے عزت دو گے لیکن میرے بعد کچھ لوگ اسے طریقہ بنا لیں   گے اور میں   ایک ایسا کام میں   پڑجاؤں   گا جس سے نکلنے کے علاوہ نجات کی کوئی راہ نہیں  ۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قرض کی ادائیگی کا ضامن بنالیا۔ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے قائم کی گئی مجلس شوری اور دیگر چند انصار کو اپنے اوپر گواہ بنا  لیا اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کو ایک جمعہ بھی نہ گزرا تھا کہ آپ نے قرض کی رقم سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں   پیش کردی اور اس پر چند گواہ بھی بنالیے۔([5])

انتخابِ خلیفہ کے لیے مجلس شورٰی کا قیام

جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ کو آپ کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سمیت مختلف لوگوں   کے خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا گیا لیکن آپ نے منع فرمادیا۔

اِنتخاب خلیفہ میں   فاروقِ اعظم کی خواہش:

ملک شام میں   جب طاعون کی وبا پھیلی اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں   تشریف لے گئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اگر مجھے موت آجائے اور ابوعبیدہ



[1]   فتح الباری ،  کتاب الجنائز ،  باب قول النبی یعذب المیت۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۱۳۴ ،  تحت حدیث:  ۱۲۸۸ملخصا۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۳۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۰۔

[4]   الزھد لامام احمد ،  زھد عمر بن الخطاب ،  ص۱۴۸ ،  الرقم:  ۶۳۴۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۳۔



Total Pages: 349

Go To