Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میں   نے عرض کیا:   ’’ حضور! آپ کو جنت کی خوشخبری ہو کیونکہ میں   نے دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو بارہا  یہ فرماتے سنا ہے کہ:   ’’ ابوبکر وعمر ادھیڑ عمر جنتیوں   کے سردار ہیں  ۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ کیا تم میرے جنتی ہونے کی گواہی دیتے ہو؟ ‘‘   میں   نےعرض کیا:   ’’ جی ہاں۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ اے حسن! تم بھی اپنے والد کی گواہی میں   شریک ہو جاؤ کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے عمر جنتی ہے۔ ‘‘  ([1])

رب تعالی فاروقِ اعظم کو عذاب نہ دےگا:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جس دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زخمی ہوئے تو انہوں   نے مجھ سے فرمایا:   ’’ اے ابن عباس! میری تین باتیں   یاد کرلو ،  جو میرے بارے میں   ان کے متعلق گفتگو کرے سمجھ لینا وہ جھوٹا ہے: (۱) جو کہے کہ میں   نے اپنے پیچھے کوئی غلام چھوڑا ہے تو اس نے جھوٹ بولا۔(۲) جو کہے کہ میں   نے کَلَالَۃ کے متعلق کوئی فیصلہ کیا ہے تو اس نے بھی جھوٹ بولا۔ (۳) جو کہے کہ میں   نے اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کیا ہے تو اس نے بھی جھوٹ بولا۔ ‘‘   یہ کہہ کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے۔میں   نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا:   ’’ مجھے آخرت کا معاملہ رُلا رہا ہے۔ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ حضور! آپ کی ذات میں   تین باتیں   ایسی ہیں   مجھے یقین ہے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے سبب آپ کو کبھی عذاب نہیں   دے گا۔ ‘‘  فرمایا:   ’’ وہ کونسی تین باتیں   ہیں  ؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ (۱) آپ جب بات کرتے ہیں   تو سچ بولتے ہیں  ۔ (۲) جب آپ سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کرتے ہیں  ۔ (۳) جب آپ کوئی فیصلہ کرتے ہیں   تو انصاف کے ساتھ کرتے ہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اے ابن عباس! کیا تم کل بروز قیامت رب العلمین کی بارگاہ میں   ان تینوں   باتوں   کی گواہی دو گے؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:  ’’  جی۔ ‘‘  ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا روایت سے جہاں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بلند شان ظاہر ہوئی وہیں   یہ بھی معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ اخروی نجات کا سبب اور عذاب آخرت میں   رکاوٹ بنتے ہیں  ۔یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی بھی حاکم یا نگران کو اپنے اندر کم ازکم یہ تینوں   صفات ضرور پیدا کرنی چاہیے کہ جھوٹ سے اجتناب کرے ،  رحم دل ہو اور فریقین کے درمیان عدل وانصاف سے کام لےکہ یہ تینوں   صفات حقوق العباد سے بہت گہرا تعلق رکھتی ہیں   اور جس حاکم یا نگران نے اپنے آپ کو حقوق العباد کے معاملے میں   بری کروالیا وہ آخرت کی ایک بڑی آزمائش سے بچ گیا۔

قیامت کے دن گواہی دو گے؟

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عبید بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آئے اور عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین! بے شک آپ کا اِسلام لانا مسلمانوں   کی مدد تھا ،  آپ کی خلافت ایک عظیم فتح تھی ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ضرور آپ نے زمین کو عدل سے بھر دیا ہے یہاں   تک کہ جب دو شخص آپس میں   لڑتے تھے تو ان دونوں   کا معاملہ آپ کی بارگاہ میں   آکر ختم ہو جاتا تھا۔ ‘‘  یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ مجھے بٹھاؤ۔ ‘‘   آپ کو بٹھایا گیا تو آپ نے سیِّدُنا عبد اللہ بن عبا س رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:   ’’ ابھی تھوڑی دیر پہلے جو تم نے میرے بارے میں   کہا وہ دوبارہ کہو۔ ‘‘   انہوں   نے دوبارہ وہی باتیں   کہہ ڈالیں  ۔ فرمایا:   ’’ کیا تم ان تمام باتوں   کی گواہی قیامت میں   دوں   گے؟ ‘‘   عرض کیا:   ’’ جی حضور۔ ‘‘   یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت خوش ومسرور ہوگئے۔([3])

رونے اور نوحہ کرنے کی ممانعت

فرشتے غصہ کرتے ہیں  :

حضرت سیِّدُنا مقدام بن معدیکرب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کردیا گیا تو آپ کے پاس آپ کی لخت جگر اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا آئیں   اور (روتے ہوئے)یوں   اپنے غم کا اِظہار کرنے لگیں  :   ’’ اے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دوست ،  اے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زوجہ کے والدگرامی ،  اے امیر المؤمنین۔ ‘‘   آپ نے سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:   ’’ اے عبد اللہ! مجھے بٹھاؤ کیونکہ جو الفاظ میں   سن رہا ہوں   ان پر صبر نہیں   کرسکتا۔ ‘‘   انہوں   نے آپ کو بٹھایا تو آپ نے سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے فرمایا:   ’’ میرے مرنے کے بعد وہ خوبیاں   بیان کرکے حرج کا باعث نہ بننا جومجھ نہیں   ہیں   ،  البتہ تمہارے بے اختیار آنسوؤں   کو میں   نہیں   روک سکتا  ،  کیونکہ جس میت پر اس کے مختلف اوصاف بیان کرکے نوحہ کیا جائے فرشتے ا س پر غصہ کرتے ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

میت پر رونے سے میت کو عذاب:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کیا گیا تو سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں   ،  تو آپ نے ان سے فرمایا:   ’’ اے حفصہ! کیا تم نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان نہیں   سنا کہ میت کے گھر والوں   کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا صہیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رونے لگے تو آپ نے ان سے بھی یہی فرمایا۔([5])

میت کو عذاب دیے جانے کی وجوہات:

 



[1]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۱۶۸۔

[2]   کنز العمال ،  کتاب الفضائل ،  وفاتہ ،  الجزء:  ۱۲ ،  ج۶ ،  ص۳۰۷ ،  حدیث:  ۳۶۰۶۸۔

[3]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الفضائل ،  ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب ،  ج۷ ،  ص۴۸۵ ،  حدیث:  ۴۸۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۵۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۵۔



Total Pages: 349

Go To