Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

میں   ہراس چیز کو فدیہ کردوں   جس پر سورج طلوع ہوتاہے۔ ‘‘  ایک روایت میں   یوں   ہے کہ  ’’ قیامت کی ہولناکیوں   سے بچنے کے لیے میں   دنیا کی ہرچیز فدیہ کردوں  ۔ ‘‘  ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی دنیا تو ایک دھوکہ ہے ،  جو شخص دنیوی لذتوں   میں   گم ہوگیا وہ اپنی آخرت سے غافل ہوگیا ،  اور جو آخرت کے معاملے میں   غافل ہے یقیناً وہ خسارے میں   ہے ،  سمجھدار وہی ہے جسے جتنا دنیا میں   رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا عرصہ قبروآخرت میں   رہنا ہے اتنا اخروی تیاری میں   مشغول رہے ،  کئی ہنستے بولتے انسان اچانک موت کا شکار ہوکر اندھیری قبر میں   پہنچ جاتے ہیں   ،  اسی طرح ہرشخص کو مرنا پڑے گا ،  اپنی کرنی کا پھل بھگتنا پڑے گا۔کاش ہم دنیا سے رخصت ہونے سے قبل ہی اپنی آخرت کی تیاری کرلیں  ۔

موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ ،  جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ

قبر میں   میِّت اُترنی ہے ضَرور ،  جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضَرور

اللہ کا حکم پورا ہو کر رہے گا:

حضرت سیِّدُنا عمرو بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے زخمی ہونے کے بعد زرد رنگ کا لحاف اوڑھا ہوا تھا ،  آپ نے اپنے زخم پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:   ’’ كَانَ اَمْرُ اللہ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم پورا ہو کر رہے گا۔ ‘‘  ([2])

شہادت سے قبل چند وصیتیں  :

(1)  ’’ تمام سرکاری غلاموں   کو آزاد کردیا جائے جو نماز ادا کرتے ہیں   البتہ میرے بعد والے خلیفہ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ ان سے دو سال تک خدمت لے۔ ‘‘   (2) ’’ میرے بعد آنے والا خلیفہ میرے مقرر کردہ عمال کو ایک سال تک برقرار رکھے۔ ‘‘   (3) ’’ اگر تم سعد بن ابی وقاص کو والی بنادو تو ٹھیک ورنہ جو والی بنے وہ انہیں   اپنا مشیر بنائے۔ ‘‘  ([3])

موت مؤخر کرنے کی دعاکی درخواست:

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب نیزہ مار کر زخمی کیا گیا اور لوگوں   کو پتہ چلا تو لوگ آپ کے پاس عیادت کے لیے آنے لگے ، حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   آئے اور دروازے پر رونے لگ گئے ،  ساتھ ہی فرمانے لگے:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! اگر امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے موت کو مؤخر کرنے کی دعا کریں   تو وہ ضرور ان سے موت کو مؤخر فرمادے گا۔ ‘‘  پھر سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوئے اور سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   بتایا کہ وہ ایسا ایسا کہہ رہے ہیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ اگر ایسا ہے تو میں   کبھی بھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے موت کو مؤخر کرنے کا سوال نہیں   کروں   گا ،  کیونکہ اگر میری مغفرت نہ ہوئی تو میرے لیے اور میری ماں   کے لیے ہلاکت ہے۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم اور بنی اسرائیل کا عادل بادشاہ:

حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سےروایت ہے کہ بنی اسرائیل میں   ایک عدل وانصاف کرنے والا نیک بادشاہ تھا ،  جب ہم اس کا ذکر کرتے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بھی ذکر کرتے۔(کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ امت مسلمہ کے عدل وانصاف کرنے والے بادشاہ تھے۔)اس بادشاہ کے پڑوس میں   ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام رہتے تھے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی کہ  ’’ اس بادشاہ کو فرمادیجئے کہ وہ اپنا ولی عہد مقرر کرلے ،  میرے حضور اپنی وصیت بھی پیش کردے کیونکہ اس کی حیات کے فقط تین دن رہ گئے ہیں   ،  تین دن بعد وہ دنیا سے رخصت ہونے والا ہے۔ ‘‘  اس نبی عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ خبر اس بادشاہ کو دے دی۔ جب تیسرا دن آیا تو وہ بادشاہ   اللہ1 کی بارگاہ میں   سجدہ ریز ہوگیا اور یوں   التجاء کی:   ’’ اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! بے شک تو جانتا ہے کہ میں   اپنی رعایا کے فیصلوں   میں   عدل وانصاف سے کام لیتا ہوں   اور جب معاملات پیچیدہ ہوں   تو تیری بارگاہ میں   رجوع کرتا ہوں   ،  میں   نے فلاں   فلاں   کام فقط تیرے رضا کے لیے کیے ہیں   ،  اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! میرا بیٹا اور میری بیٹی ابھی بہت چھوٹے ہیں   ،  تو ان کے بڑے ہونے تک میری عمر میں   اضافہ فرما۔ ‘‘  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس بادشاہ کی دعا کو قبول فرمایا اور اس نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وحی بھیجی کہ اس بادشاہ سے فرمادیجئے کہ  ’’ اس نے بالکل سچ کہا اور میں   نے اس کی عمر میں   مزید پندرہ سال کا اضافہ کردیا ہے۔ اتنے عرصے میں   اس کا بیٹا اور بیٹی دونوں   بڑے ہوجائیں   گے۔ ‘‘  جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خنجر کے وار سے زخمی کیا گیا تو سیِّدُنا کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے درخواست کی کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے درازیٔ عمر کی دعا کریں۔( یقیناً  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بادشاہ کی طرح آپ کی دعا بھی قبول فرمائے گا۔) لیکن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَللّٰهُمَّ اقْبِضْنِي اِلَيْكَ غَيْرَ عَاجِزٍ وَلا مَلُوْمٍ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو مجھے اپنی بارگاہ میں   اس حال میں   بلا لے کہ نہ تو میں   عاجز ہوں   اور نہ ہی ملامت کیاہوا۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم جنتی ،  مولاعلی کی گواہی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم   فرماتے ہیں   کہ ابولؤلؤ نے جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کیا تو آپ رونے لگے۔ میں   نے عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین! آپ کو کیا چیز رلا رہی ہے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ اے علی! مجھے یہ بات رلارہی ہے کہ معلوم نہیں   میں   جنت میں   جاؤں   گا یا جہنم میں  ۔ ‘‘   



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۰۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۱۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۳۷۴۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۵۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۹۔



Total Pages: 349

Go To