Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

شہادت کی یاددہانی کراتے ہوئے عرض کیا:   ’’ حضور! یاد کریں   میں   نے آپ سے نہ کہا تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو ضرور شہادت عطا فرمائے گا۔لیکن آپ نے فرمایا تھا کہ میرے نصیب میں   شہادت کی موت کہاں  ؟کیونکہ میں   تو یہاں   جزیرہ عرب میں   موجود ہوں  ۔ ‘‘  ([1])

عبدالرحمن بن عوف نے نماز فجر پڑھائی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے چونکہ نماز فجر ابھی شروع ہی کی تھی کہ آپ کو زخمی کردیا گیا اس لیے کسی نے بھی نماز ادا نہ کی تھی ،  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے حکم سے حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تمام لوگوں   کو مختصر سورتوں   کی تلاوت کرکے نماز فجر پڑھائی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سورۂ عصر اور سورۂ کوثر کی تلاوت فرمائی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قریبی ساتھیوں   میں   سے تھے اس لیے آپ پر غم کی شدید کیفیت طاری تھی جسے دوران نماز آپ کی تلاوت میں   بھی دیگر لوگوں   نے محسوس کیا ۔([2])

ہماری عمریں   بھی فاروقِ اعظم کو لگ جائیں  :

حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی کیا گیا تو بدری مہاجرین وانصار تمام لوگ جمع ہوگئے۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا:   ’’ تم باہر جاؤ اور ان سے پوچھو کہ کیا مجھ پر حملہ ان کی رضا اور مشورے سے ہوا ہے؟ ‘‘   سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے باہر آکر پوچھا تو تمام لوگوں   نے عرض کیا:   ’’ لا وَاللّٰهِ وَلَوَدِدْنَا اَنَّ اللّٰهَ زَادَ فِي عُمُرِكَ مِنْ اَعْمَارِنَایعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ سب کچھ ہماری رضا و مشورے سے نہیں   ہوا بلکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں   کہ   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہماری عمریں   بھی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لگا دے۔ ‘‘  ([3])

فاروقِ اعظم نے نماز فجر ادا کی:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ:   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو زخمی ہونے کے بعد جب گھرلایا گیا تو مسلسل خون بہنے کے سبب آپ پر غشی طاری ہوگئی ،  جب ہوش آیا تو میں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ہاتھ تھام لیا ،  پھر انہوں   نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے پیٹھ پیچھے بٹھالیا۔ وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔ ‘‘   ایک روایت میں   یوں   ہے کہ جب آپ کو ہوش آیا تو پوچھا کہ :   ’’ لوگوں   نے نمازِ فجر ادا کرلی ہے؟ ‘‘   بتایاگیا کہ سب نے نماز ادا کرلی ہے تو ارشاد فرمایا:   ’’ لَا اِسْلَامَ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ یعنی تارک نماز حقیقی مسلمان نہیں   ہوسکتا۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔([4])

تین دن تک نماز ادا فرمائی:

حضرت سیِّدُنا مطلب بن عبد اللہ بن حنطب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تین دن تک انہی کپڑوں   میں   نماز ادا کی جن میں   آپ کو زخمی کیا گیا تھا۔([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ قطعی جنتی اور رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دوست ہونے کے باوجود احکام شرعیہ پر کتنی سختی سے عمل کرنے والے تھے ،  آپ نے جان کنی کے عالم میں   بھی نماز ترک نہ فرمائی ،  ایک ہم ہیں   کہ سرے سے نماز پڑھتے ہی نہیں   اور اگر بالفرض کسی کو نماز پڑھنے کی توفیق مل بھی جائے تو کما حقہ نماز ادا نہیں   کرتے ،  تھوڑی سی تکلیف پہنچ جائے تو ہمیں   نماز ترک کرنے کا ایک بہانہ مل جاتا ہے حالانکہ نماز کسی حال میں   معاف نہیں  ۔ لیکن افسوس ہماری تو پوری کی پوری نمازیں   فوت ہوجاتی ہیں   لیکن ہمیں   اس کی کوئی فکر ہی نہیں   ہوتی ،  کاش! ہمیں   بھی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جیسا مدنی ذہن مل جائیں    ،  ہم بھی اپنی نمازوں   کی حفاظت کرنے والے بن جائیں   ،  کاش!ہماری کوئی بھی نماز تو کجا جماعت بھی قضا نہ ہونے پائے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

عیاد ت کےلیے لوگوں   کی بے تابی:

چونکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ذی الحج کے مہینے میں   زخمی کیا گیا تھا لہٰذا حج سے فراغت کے بعد شام اور عراق سے آنے والے زائرین مدینہ قافلے کی صورت میں   جوق در جوق آپ کی عیا دت کے لیے حاضر ہونے لگے۔ جب حضرت سیِّدُنا جویر یہ بن قدامہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے قافلے کے ہمراہ آپ کی عیاد ت کے لیے حاضر ہوئے توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے امیر المومنین حضرت فاروقِ اعظم کے پیٹ کے گرد سیاہ عما مہ لپٹاہو ا دیکھا۔ ([6])

انتقال کے وقت بھی فکر آخرت:

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے زخمی ہونے کے بعد لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مبارک کردار کی تعریفیں   کرنے لگے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:   ’’ جس کی زندگی نے اسے دھوکہ دیا  ،  وہ واقعی دھوکے میں   ہے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! میں   تو دنیا سے اس طرح جانا چاہتا ہوں   جس طرح دنیا میں   آیا تھا۔ خدا کی قسم! قیامت کی ہولناکیوں   سے بچنے کے لیے



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۹۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۹ ،  ۲۶۳۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۵۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۶۳ ،  ۲۶۶۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکراستخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۷۶۔

[6]   مسند امام احمد ،  مسند عمر بن الخطاب  ،  ج۱ ،  ص۱۱۴ ،  حدیث۳۶۲ملخصا۔



Total Pages: 349

Go To