Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا سہارا لیں   گے۔ ‘‘   ([1])

اجنبی شخص اور شہادت فاروقِ اعظم :

حضرت سیِّدُنا جبیر بن مطعم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ جبل عرفات پر کھڑے تھے کہ ایک شخص چیخ چیخ کر آپ کو یوں   پکارنے لگا:   ’’ اے خلیفہ! اے خلیفہ! ‘‘  وہاں   موجود تمام لوگوں   نے اس کو سنا اور اسے ڈانٹنے لگے ،  ایک شخص نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تیرا حلق بند کرے تجھے کیا ہوا ہے؟ ‘‘   سیِّدُنا جبیر بن مطعم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   آگے بڑھا اور اس شخص کو برا بھلا کہنے سے لوگوں   کو روکا۔ پھر دوسرے دن میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ عقبہ کے پاس کھڑا تھا ،  آپ شیطان کو کنکریاں   مار رہے تھے کہ ایک کنکری آکر آپ کے سر میں   لگی جس سے آپ کا سر زخمی ہوگیا اور خون بہنے لگا ،  پھر میں   نے پہاڑ سے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا:   ’’ رب کعبہ کی قسم! مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اس سال کے بعد سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکبھی بھی اس جگہ کھڑے نہیں   ہوں   گے۔ ‘‘   (یعنی اسی سال ان کی شہادت ہوجائے گی۔) سیِّدُنا جبیر بن مطعم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ جب میں   نے اس شخص کی طرف دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ وہی شخص ہے جو کل زور زور سے چیخ رہا تھا اور لوگ اسے ڈانٹ رہے تھے۔([2])

فاروقِ اعظم اور شہادت کی خبر

فاروقِ اعظم نے اپنی شہادت کی خبر دی:

حضرت سیِّدُنا معدان بن ابوطلیحہ یعمری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر تشریف لائے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی ،  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ذکر خیر فرمایا  ،  پھر ارشاد فرمایا:   ’’ اے لوگو! میں   نے خواب دیکھا کہ ایک مرغ نے مجھے ایک یا دو ٹھونگیں   ماریں   ہیں   ،  میں   اس کی تعبیر یہ سمجھا ہوں   کہ میری وفات کا وقت قریب آچکا ہے۔  ‘‘  ([3])

جن اور شہادت فاروقِ اعظم کی خبر:

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سب سے آخری حج اُمہات المؤمنین کے ساتھ کیا ،  جب ہم سب وادیٔ عرفہ سے وادیٔ محصب پہنچے تو ایک شخص کی آواز سنی جو اپنی سواری پر بیٹھا کسی دوسرے شخص سے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارےمیں   پوچھ رہا تھاوہ اسے بتارہاتھا کہ امیر المؤمنین یہیں   ہیں   ۔یہ سن کروہ بلند آواز سے یہ اشعار پڑھنے لگا:

عَلَيْكَ سَلامٌ مِنْ اِمَامٍ وَبَارَكَتْ ... يَدُ اللّٰهِ فِي ذَاكَ الاَدِيمِ الْمُمَزَّقِ

ترجمہ:   ’’ اے امیر المؤمنین! آپ پر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سلام ہو اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس مبارک جان میں   برکت دے جو عنقریب ٹوٹ پھوٹ کا شکار (یعنی شہید)ہونے والی ہے۔ ‘‘ 

فَمَنْ يَسَعْ اَوْ يَرْكَبُ جَنَاحَيْ نَعَامَةٍ ... لِيُدْرِكَ مَا قَدَّمْتَ بِالاَمْسِ يُسْبَقِ

ترجمہ:   ’’ کون ہے ایسا شخص جو شتر مرغ کے پروں   پر سوار ہو کر ان امور کو حاصل کرلے جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی دورِ خلافت میں   انجام دیے۔ ‘‘ 

قَضَيْتَ اُمُورًا ثُمَّ غَادَرْتَ بَعْدَهَا ... بَوَائِقَ فِي اَكْمَامِهَا لَمْ تُفَتَّقِ

ترجمہ:   ’’ آپ نے بے شمار امور انجام دیے ،  پھر مصیبتوں   اور پریشانیوں   کو ان کی گھٹلیوں   میں   ایسے رکھ دیا کہ وہ کھل ہی نہ سکیں  ۔ ‘‘ 

پھر اس سوار نے وہاں   سے کوئی حرکت نہ کی اور نہ ہی کسی کو یہ پتا چلا کہ وہ کون ہے ،  ہم آپس میں   گفتگو کیا کرتی تھیں   کہ شاید وہ کوئی جن تھا۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس حج سے واپس آئے تو آپ کو شہید کردیا گیا۔ ‘‘  ([4])

فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ

ابولؤلؤ کا فاروقِ اعظم پر قاتلانہ حملہ:

ایک بار سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک غلام کے بارے میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو بتایا جو کئی ہنرجانتا تھا ،  آپ نے اسے مدینہ منورہ میں   داخل ہونے کی اجازت دے دی۔سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   اس سے ماہانہ سو ۱۰۰درہم لیا کرتے تھے۔ اس نے بارگاہِ فاروقِ اعظم میں   حاضر ہوکر شکایت کی تو آپ نے اس سے پوچھا:   ’’ تم کیا کام کرتے ہو؟ ‘‘   اس نے کہا:   ’’ چکیاں   بناتا ہوں  ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ اپنے مالک کے معاملے میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو۔ ‘‘  بعض روایات میں   یوں   ہے کہ آپ نے فرمایا:  ’’ یہ چار۴ درہم تمہارے لیے زیادہ نہیں   ہیں   کیونکہ اس علاقے میں   تم ہی چکیاں   بنانا جانتے ہو ،  تمہارے علاوہ یہ کام کوئی نہیں   جانتا۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہی اِرادہ تھا کہ بعد میں   سیِّدُنا مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اس کے معاملے میں   تخفیف کرنے کا فرمائیں   گے لیکن اسے یہ بات سخت ناگوار گزری اور اس نے آپ سے انتقام لینے کا سوچ لیا۔ایک روایت میں   یوں   ہے کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے اپنے لیے چکی بنانے کا فرمایاتو اس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا:   ’’ میں   تمہارے لیے ایسی چکی بناؤں   گا جسے ہمیشہ لوگ یاد رکھیں   



[1]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۳۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۴۔

[3]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب المغازی ،  ما جاء فی خلافۃ عمر بن الخطاب ،  ج۸ ،  ص۵۷۸ ،  حدیث:  ۷۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۴۔



Total Pages: 349

Go To