Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

شہادت عطا فرمائی۔([1])

تورات میں   فاروقِ اعظم کی شہادت کا ذکر:

 حضرت سیِّدُنا کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ انہوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا:   ’’  اَجِدُكَ فِي التَّوْرَاةِ تُقْتَلُ شَهِيْداًیعنی اے امیر المومنین ! میں   نے تورات شریف میں   آپ کے متعلق یہ لکھا ہوا دیکھا ہے کہ آپ کو شہید کیا جائے گا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَنّٰى لِيْ بِالشَّهَادَةِ وَاَنَا بِجَزِيْرَةِ الْعَرَبِ یعنی میرے نصیب میں   شہادت کہاں  ؟ میں   تو یہاں   جزیرہ عرب میں   موجود ہوں  ۔ ‘‘  ([2])        

اللہچاہے تو شہادت سے نواز سکتاہے :

ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر تشریف لائے اور یہ آیت مبارکہ پڑھی:  (جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا) (پ۱۴ ،  النحل: ۳۱)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ بسنے کے باغ جن میں   جائیں   گے۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’ اے لوگو ! معلوم ہے جنات عدن کیا ہے؟ ‘‘   پھر خود ہی اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمانے لگے :   ’’ یہ جنت کا ایک محل ہے جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں   ،  ہر دروازے پر بیس ۲۰۰۰۰ ہزار حورعین کھڑی ہیں  ۔ اس میں   یا تو انبیاء جاسکتے ہیں   ۔ ‘‘  اورساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر انور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  ’’  اس قبر کے مکین کے لیے مبارک ہے۔ ‘‘   پھر فرمایا:  ’’ یا تو صدیق جاسکتے ہیں  ۔ ‘‘  اور ساتھ ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قبرِ منور کی طرف اشارہ کیا۔ ‘‘  پھر فرمایا:   ’’  یا شہید جاسکتے ہیں   اور میرے لیے شہادت کہاں  ؟ تاہم جس رب عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے میری ماں   حنتمہ کے پیٹ سے نکالا ہے اگر وہ چاہے تو مجھے شہادت بھی عطا فرما سکتا ہے۔ ‘‘  ([3])

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بارے میں   رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بہت پہلے اپنی حیات طیبہ ہی میں   خبر دے دی تھی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ :   ’’ میں   نو آدمیوں   کے بارے میں   جنتی ہونے کی گواہی دیتا ہوں   اور اگر میں   دسویں   آدمی کے بارے میں   بھی گواہی دوں   تو گنہگار نہ ہوں   گا۔ ‘‘   لوگوں   نے پوچھا:   ’’ وہ کیسے؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ ایک بار ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ جبل حراء پر موجود تھے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا : اے حراء!ٹھہر جا کیونکہ تجھ پہ نبی ،  صدیق اور شہید ہی تو ہیں  ۔ ‘‘   لوگوں   نے پوچھا کہ  ’’ اس وقت پہاڑ پر کون کون تھے؟ ‘‘  فرمایا:   ’’ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،  سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ،  سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  سیِّدُنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ،  سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔ ‘‘   لوگوں   نے عرض کیا:  ’’ یہ تو نو۹ ہوئے ،  دسواں   کون تھا؟ ‘‘   فرمایا:   ’’ میں  ۔ ‘‘  (یعنی سیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ )([4])

شہادت فاروقِ اعظم پر لوگوں   کو اطلاع

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت سے قبل کئی لوگوں   کو آپ کی شہادت کے بارے میں   پتہ چل گیا تھا۔ چند واقعات پیش خدمت ہیں  :

سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری کا خواب:

حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ:   ’’ میں   نے خواب میں   بہت سارے راستے دیکھے ،  پھر ایک راستے کے علاوہ سارے ختم ہوگئے ۔ میں   اسی راستے پر چلتا ہوا ایک پہاڑ تک جا پہنچا ،  میں   نےدیکھا کہ اس پہاڑ پر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجلوہ افروز ہیں  اورآپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمامیرالمومنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اشارے سےاپنے پاس بلارہے ہیں  ۔ (یہ خواب دیکھ کر) میں   نے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ پڑھا اور سمجھ گیا کہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کاانتقال ہوچکا ہے۔ ‘‘  ([5])

سیِّدُنا حذیفہ اورذکرِ شہادتِ فاروقِ اعظم:

حضرت سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ میں   عرفات کے میدان میں   سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ موجود تھا ،  میری سواری آپ کی سواری کے بالکل ساتھ اور میرا کندھا آپ کے کندھے سے ملا ہوا تھا ،  ہم سورج غروب ہونے کا انتظا ر کررہے تھے تاکہ اپنا سفر شروع کریں  ۔ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں   موجود لوگوں   کی تکبیر کی صدائیں   ،  دعائیں   وغیرہ ملاحظہ کیں   تو مجھ سے استفسار فرمایا:   ’’ اے حذیفہ! تمہارا کیا خیال ہے یہ تمام معاملات کب تک باقی رہیں   گے؟ ‘‘   میں   نے عرض کیا:   ’’ حضور! ابھی فتنوں   پر ایک دروازہ ہے ،  جب اس دروازے کو توڑ دیا جائے گا یا وہ دروازہ کھول دیا جائے گا تو فتنے باہر آجائیں   گے۔  ‘‘   یہ سن کر سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حیرانی سے پوچھا:   ’’ اے حذیفہ! وہ دروازہ کیا ہے ،  اس کے توڑنے یا کھلنے سے کیا مراد ہے؟ ‘‘  میں   نے عرض کیا:   ’’ دروازے سے مراد ایک مرد ہے جس کا انتقال ہوجائے گا یا اسے شہید کردیا جائے گا ۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ اے حذیفہ! تمہارا کیا خیال ہےمیرے بعد لوگ کس کو امیر بنائیں   گے؟ ‘‘  میں   نے عرض کیا:  ’’ میں   نے لوگوں   کو دیکھا ہے کہ آپ کے بعد وہ سیِّدُنا عثمان



[1]   موطا امام مالک  ، کتاب الحدود ،  باب ما جاء فی الرجم ،   ج۲ ،  ص۳۳۴ ،  حدیث: ۱۵۸۵ ملخصا۔

[2]   تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ، ص۲۷۶۔

[3]   مصنف ابن ابی شیبۃ  ، کتاب الجنۃ ،  ماذکر فی الجنۃ۔۔۔الخ  ،  ج۸ ،  ص۸۰ ،  حدیث:  ۷۹۔

[4]   ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب مناقب عبد الرحمن بن عوف ۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۴۱۶ ،  حدیث: ۳۷۶۹۔

[5]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۵۳۔



Total Pages: 349

Go To