Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور شہادت کی دعا

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت پر لوگوں کا مطلع ہونا

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اپنی شہادت کی خبر دینا

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر قاتلانہ حملہ

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت سے قبل وصیتیں  ،  رونے اور نوحہ کرنے کی مما نعت

انتخاب ِ خلیفہ  کے لیے مجلس شورٰی کا قیام  ، سیّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت

شانِ فاروقِ اعظم بزبان مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  

فاروقِ اعظم  کا غسل مبارک  ، کفن مبارک ،  نماز جنازہ اور تدفین

شہادت فاروقِ اعظم   کے بعد مختلف اَصحاب کے تاثرات ،  وصال فاروقِ اعظم   اور جِنّات

فیضانِ مَزاراتِ ثلاثہ  ،  تینوں مزاراتِ مبارکہ سے متعلق مختلف اُمور کا تفصیلی بیان

٭…٭…٭…٭…٭…٭

وصالِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! آج اگر دنیا کے مختلف ممالک کے نظام پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہیں   چلانے کے لیے بیسیوں   بڑے بڑے وزیروں   اور مشیروں   کی ضرورت پڑتی ہے ،  جہاں   داخلی امور کے لیے ایک وزیر مقرر ہوگا تو وہیں   خارجی معاملات کے لیے بھی علیحدہ سے ایک وزیر مقرر ہوگا ،  اسی طرح ملک کے دیگر معاملات پانی ،  بجلی ،  گیس ،  تجارت ،  زراعت ،  ثقافت ،  تعلیم  ،  معاشی ،  معاشرتی تمام اُمور کے لیے علیحدہ علیحدہ وزراء مقرر کیے جاتے ہیں   ،  جس شعبے کی بات کی جائے اس کے پیچھے علیحدہ سے ایک وزیر مقرر ہوگا ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مکمل خلافت اور اس کے مختلف نظام دیکھیں   جائیں  تو بڑے بڑے دانش ور حیران وپریشان ہوجاتے ہیں   کہ اگرچہ بعض معاملات میں   بظاہر ذمہ داران کا تقرر نظر آتا ہے لیکن اس کے تمام معاملات کے پیچھے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کی ذات مبارکہ کار فرما تھی ،  بیسیوں   شعبہ جات میں   ذمہ داران کی بجائے فقط آپ ہی کا حکم جاری ہوتا تھا ،  آپ کی ذات مبارکہ ہمہ جہت شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ہمہ جہت حاکم بھی تھی ،  سلطنت کے داخلی ،  خارجی ،  معاشی ،  تعلیمی اور جنگی دفاعی تمام معاملات پر بیک وقت آپ کی نظر ہوتی تھی ،  جس مضبوط اور مستحکم انداز میں   آپ نے امور سلطنت کو سرانجام دیا اگر اسے آپ کی کرامت کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اسی وجہ سے آپ کی ذات مبارکہ کی کمی کو تاقیامت محسوس کیا جاتا رہے گا۔ یقیناً کائنات کو جس ہستی کی ضرورت ہے وہ نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی ہے لیکن آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی دنیاسے وعدۂ الٰہی کے مطابق وصال ظاہری فرما گئےاور آپ کے بعد حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ کے خلیفہ مقرر ہوئے وہ بھی دنیا سے وصال فرماگئے۔ مشیت الٰہی یہہے کہ  ’’ کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ  ‘‘  یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔یقیناً اب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بھی دنیا سے تشریف لےجانا تھا۔ایک مجوسی غلام نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو نمازِ فجر میں   خنجر کے وار سے شدید زخمی کیا ،  اور وہی زخم آپ کی شہادت کا سبب بنا  ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے داعی اجل کو لَبَّیْک کہا اور دنیا سے تشریف لے گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

فاروقِ اعظم کا آخری حج:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آخری حج سن ۲۳ ہجری میں   فرمایا اور اسی سال حجِ بیت اللہ سے واپسی کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا گیا۔([1])

فاروقِ اعظم اور شہادت کی دعا

مدینہ منورہ میں   شہادت کی دعا:

حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد اور سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام حضرت سیِّدُنا اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بیان کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی شہادت کی دعا یوں   مانگی:   ’’ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِيْ شَهَادَةً فِيْ سَبِيْلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِيْ فِيْ بَلَدِ رَسُوْلِكَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تو مجھے اپنے راہ میں   شہادت کی موت عطا فرما اور اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے شہر مدینہ منورہ میں   شہادت عطا فرما۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کی شہادت کی دعا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منی سے وادی ابطح تشریف لے گئے اور یوں   دعا مانگی:   ’’ اَللّٰهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّيْ وَضَعُفَتْ قُوَّتِيْ وَانْتَشرَتْ رَعِيَّتِيْ فَاقْبِضْنِيْ اِلَيْکَ غَيْرَ مُضَيَّعٍ وَلَا مُفَرَّطٍ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! اب میں   بوڑھا ہوچکا ہوں   ،  میری قوت بھی کمزور ہوچکی ہے ،  میری رعایا بہت بڑھ گئی ہے ،  تو مجھے ضائع اور ناکارہ کیے بغیر اپنی بارگاہ میں   بلالے۔ ‘‘  پھر آپ مدینہ منورہ تشریف لائے اور لوگوں   کو ایک نصیحت آموز خطبہ دیا ۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ذوالحجہ کا مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی آپ کو



[1]   طبقات کبری ، ذکر استخلاف عمر ، ج۳ ، ص۲۱۵۔

[2]   بخاری ،  کتاب فضائل المدینۃ ،  ج۱ ،  ص۶۲۲ ،  حدیث:  ۱۸۹۰۔



Total Pages: 349

Go To