Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے بنو تغلب کے عیسائیوں   سے محصول ٹیکس وصول فرمایا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا زیاد بن جدیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جس شخص کو سب سے پہلے سڑکوں   کے ناکوں   پر محصول وصول کرنے کے لیے بھیجا وہ میں   ہی ہوں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے حکم دیا کہ میں   کسی کی تلاشی نہ لوں   اور جو چیز میرے سامنے گزرے میں   چالیس درہم پر ایک درہم کے حساب سے مسلمانوں   سے لوں   اور ذمیوں   سے بیس درہم ،  غیر ذمی سے دسواں   حصہ ،  نیز بنو تغلب کے نصاریٰ سے کھرے پن سے پیش آؤں   کیونکہ وہ اہل کتاب نہیں   ہیں   شاید وہ اِسلام لے آئیں  ۔([1])

(60)…سب سے پہلے کتابیوں   سے بطریق معیشت جزیہ لینے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے بطریق معیشت کتابیوں   سے جزیہ لیا۔چنانچہ علامہ محمد بن سعد بصری زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ اَلْجِزْيَةُ عَلٰى جَمَاجَمِ اَهْلِ الذِّمَّةِ فِيْمَا فَتَحَ مِنَ الْبُلْدَانِ فَوَضَعَ عَلَى الْغَنِيِّ ثَمَانِيَةً وَّاَرْبَعِيْنَ دِرْهَماً وَعَلَى الْوَسْطِ اَرْبَعَةً وَّعِشْرِيْنَ دِرْهَماً وَعَلَى الْفَقِيْرِ اِثْنَيْ عَشَرَ دِرْهَماً یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مفتوحہ علاقوں   کے کتابیوں   سے اس طرح جزیہ لیا کہ غنی سے اڑتالیس درہم ،  متوسط سے چوبیس درہم جبکہ فقیر سے بارہ درہم ۔ ([2])

فاروقِ اعظم کی جنگی اَوّلیات

(61)…سب سے پہلے فوجی چھاؤنیاں   قائم کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مفتوحہ علاقوں   میں   فوجی چھاؤنیاں   قائم فرمائیں  ۔مفتوحہ ممالک کے تمام شہروں   میں   اور خصوصاً ملک شام کے شہروں   میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جن فوجی چھاؤنیوں   کو قائم کیا آپ نے انہیں    ’’ اَجناد  ‘‘  (یعنی لشکر کے رہنے کی جگہ)کا نام دیا۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُن شہروں   میں   فوجی چھاؤنیاں   اِس طرح بنائیں   کہ اُن میں   فوجیوں   کے رہنے کے لیے بیرکیں   بنائیں    ،  گھوڑوں   کے اصطبل بنائے ،  جن میں   بیک وقت کم از کم چار ہزار گھوڑے مع سازوسامان اور پوری جنگی تیاری کے ساتھ ہر وقت تیار رہتے تھے۔ ([3])

(62)…سب سے پہلے فوجیوں   کی گھروں   سے جدائی کی مدت معین کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جنگ میں   جانے والے فوجیوں   کی اپنے گھروں   میں   واپس آنے کی مدت معین کی ،  اِس کا سبب ایک فوجی کی زوجہ بنی جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرات کو شہر کا دورہ کرتے ہوئے اُس کے گھر کے قریب سے گزرے تو اُس نے اپنی شوہر کی جدائی سے متعلقہ درد بھرے کلمات کہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی بیٹی زوجۂ رسول اللہ حضرت سیدتنا  حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مُشاورت کے بعد حکم جاری فرمادیا کہ میدانِ جنگ میں   کم ازکم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک فوجی رہ سکتاہے اس کے بعد وہ فی الفور اپنے گھر چھٹی لے کر آجائے۔ ([4])

(63)…سب سے پہلے جنگی گھوڑے کا حصہ نافذ کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جنگ میں  حصہ لینے فوجیوں   کے گھوڑوں   کا حصہ بھی نافذ فرمایا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا مجاہد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنگی گھوڑے کے لیے دو حصے مقرر فرمائے اور گھڑ سوار کے لیے ایک حصہ۔ ‘‘  اور حضرت سیِّدُنا حکم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ،  فرماتے ہیں  :   ’’ أَوَّلُ مَنْ جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ عُمَرُیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جنگی گھوڑوں   کے دو حصوں   کو نافذ فرمایا۔ ‘‘   ([5])

فاروقِ اعظم کی اُخروی اَوّلیات

(64)…سب سے پہلے نامۂ اَعمال دائیں   ہاتھ میں   دیے جانے والے:

کل بروز قیامت سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو دائیں   ہاتھ میں   نامۂ اَعمال دیا جائے گا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا زید بن ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روا یت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَوَّلُ مَنْ يُعْطِىَ كِتَابَہُ بِیَمِیْنِہٖ مِنْ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِیعنی اِس اُمت محمدیہ میں   سے کل بروزِ قیامت جسے سب سے پہلے دائیں   ہاتھ میں   نامۂ اعمال دیا جائے گا وہ عمر ہے۔ ‘‘   ([6])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سترہواں باب

وصالِ فاروقِ اعظم

اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔۔

 



[1]   کتاب الخراج ،  ص۱۲۰۔

[2]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴۔

[3]   تاریخ طبری ،  ج۲ ،  ص۴۸۳۔۴۹۰۔

[4]   در منثور ، پ۲ ،  البقرۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۲۷ ،  ج۱ ،  ص۶۵۳۔

[5]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الجھاد ،  باب فی الفارس کم یقسم لہ ، ج۷ ،  ص۶۶۲ ،  حدیث: ۷۔

[6]   تاریخ ابن عساکر ،  ج۳۰ ،  ص۱۵۴۔



Total Pages: 349

Go To