Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کی معاشی اَوّلیات

(54)…سب سے پہلے مصر سے مدینہ اَناج منگوانےوالے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مصر سے مدینہ منورہ اَناج منگوایا۔ علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ حَمَلَ الطَّعَامَ مِنْ مِصْرَ فِيْ بَحْرِ اِيْلَةَ اِلَى الْمَدِيْنَةِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مصر سے مدینہ منورہ اَناج منگوایا۔ ‘‘  ([1])

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   ایک سال مدینہ منورہ میں   قحط عظیم پڑا ،  اس کا نام  ’’ عام الرمادۃ ‘‘   (ہلاکت وبربادی یا راکھ والا سال)رکھا گیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عاملِ مصر حضرت سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ایک مکتوب بھیجا جس میں   مصر سے مدینہ منورہ کے رہنے والوں   کے لیے اَناج بھیجنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ انہوں   نے جواباً عرض کیا:   ’’ حضورمیں   اَناج کے اونٹ بھیج رہا ہوں   جس کا پہلا اونٹ آپ کے پاس ہوگا اور آخری اونٹ میرے پاس۔ ‘‘   اور سیِّدُنا عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مصر سے غلے سے لدے ہوئے اتنے اونٹ بھیجے کہ واقعی اُن کی قطار کا پہلا اُونٹ مدینہ منورہ میں   تھا اور آخری اُونٹ مصر میں   تھا۔ امیر المومنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہ تمام اُونٹ تقسیم فرمادیے ،  ہر گھر کو ایک ایک اُونٹ مع اَناج کے عطاکیا اور حکم دیا کہ اَناج کھاؤ اوراُونٹ ذبح کر کے اُس کا گوشت کھاؤ ، چربی کھاؤ ،  کھال کے جوتے بناؤ ،  جس کپڑے میں   اَناج بھرا تھا اُس کا لحاف وغیرہ بناؤ۔ یوں     اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سبب پورے مدینہ منورہ کے لوگوں   کی مشکل دور فرمائی۔ ([2])

(55)…سب سے پہلےدریائی قیمتی مال پر محصول مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے دریاسے نکلنے والی چیزیں   جیسے زمرد ،  عنبر وغیرہ پر خمس(پانچواں   حصہ) مقرر فرمایا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات میں   سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دریا پر عُمَّال مقرر فرمائے تاکہ وہ اُس سے نکلنے والے مال کا خُمس وصول کریں  ۔امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا یعلی بن امیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دریا پر عامل مقرر فرمایا۔([3])

(56)…سب سے پہلے اسلامی سکے رائج کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے اِسلامی سکے رائج فرمائے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ملک شام وعراق کی فتوحات تک قدیم سکوں   کو چلنے دیا بعد اَزاں   ۱۸سن ہجری میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نئے اسلامی سکوں   کا اِجراء کیاجوپرانے سکوں   کے مشابہ تھے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو سکے رائج فرمائے اُن پر  ’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ‘‘   اور بعض سکوں   پر  ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ‘‘   اور بعض پر  ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہُ ‘‘   لکھا ہوتا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دَورِ خلافت کے آخر تک دس درہم کا مجموعی وزن چھ مثقال کے برابر ہوتا تھا۔([4])

(57)…سب سے پہلے حربی تاجروں   پرعشرمقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے حربی تاجروں   کو دارالاسلام میں   آکر مسلمانوں   کے ساتھ خریدوفروخت کی اجازت عطا فرمائی۔ اِمام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  حضرت سیِّدُنا عمرو بن شعیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت کرتے ہیں   فرمایا کہ ’’  اَھْلِ مَنْبِج ‘‘  جو دریا پار کے حربی تھے انہوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو مکتوب لکھا کہ آپ ہمیں   اپنی سرزمین میں   تجارت کی اجازت عطا فرمائیں   اور اُس کے بدلے ہم سے عُشْر لے لیں  ۔ ‘‘   آپ نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ کیا تو اُنہوں   نے اُسے قبول کرلیا ،  لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُنہیں   عُشر کے ساتھ تجارت کی اِجازت عطا فرمادی۔([5])

(58)…سب سے پہلے تجارت کے گھوڑوں   پر زکوۃ مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے تجارت کے گھوڑوں   پر زکوۃ مقرر فرمائی۔علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ اَخَذَ زَكَاةَ الْخَيْلِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے تجارتی گھوڑوں   کی زکوۃ لی۔ ‘‘   ایک مرتبہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   ایک ایسا گھوڑا پیش کیا گیا جسے سو اونٹنیوں   کے قیمت میں   بیچا جا رہا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ مَا ظَنَنْتُ اَنَّ اَثْمَانَ الْخَيْلِ تَبْلُغُ هٰذَا الْمَبْلَغَ یعنی مجھے یقین نہیں   تھا کہ گھوڑوں   کی قیمت یہاں   تک پہنچ جائے گی۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ بھی خبر دی گئی کہ ملک شام میں   چرائی کے گھوڑے بھی ہیں  ۔ تو اِس کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے گھوڑوں   کی بھی زکوۃ کا حکم دے دیا۔([6])

(59)…سب سے پہلے بنو تغلب کے عیسائیوں   سے محصول وصول کرنے والے:

 



[1]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸ ،  طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴۔

[2]   مستدرک حاکم ،  کتاب الزکاۃ ،  لایدخل صاحب مکس الجنۃ ،  ج۲ ،  ص۲۵ ،  حدیث: ۱۵۱۱ ملتقطا۔

                                                صحیح ابن خزیمۃ ،  باب ذکر الدلیل علی ان العامل۔۔۔الخ ،  ج۴ ،  ص۶۸ ،  حدیث: ۲۳۶۸ ملتقطا۔

[3]   ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۲۴۹۔

[4]   النقود الاسلامیہ للمقریزی ، فصل فی ذکر النقود الاسلامیۃ ،  ص۴۔

[5]   کتاب الخراج ،  ص۱۳۵۔

[6]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸ ،  الاوائل للعسکری ،  ص۱۷۷۔



Total Pages: 349

Go To