Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے ایسی قوی امید کہ اپنے ہی نفس کو جنت کی نوید ،  مگر اسی ربّ عَزَّ وَجَلَّ کے قہر وجلال وعذاب سے ایسے لزاں   وترساں   کہ اپنے ہی نفس کو جہنم کی وعید ،  شہری  ، ملکی اور بین الاقوامی قانون سازی کے بیک وقت ماہر واستاذ۔ الغرض ہرموضوع پر  ’’ سیرت فاروق اعظم  ‘‘  ایک حسین مرقع ہے۔

آپ کی ذات مبارکہ میں   بھی انسانی خواہشات موجود تھیں   مگر آپ کی عظمت یہ تھی کہ نہ تو بھوک کی صورت میں   کوئی ناپسندیدہ فعل صادر ہوتا نہ خواہشات کی تکمیل میں   جلدی فرماتے ،  غصے میں   بھی کبھی خوف خدا سے عاری نہ ہوتے  ،  خوشی میں   کبھی یادِ خدا سے غافل نہ پائے گئے ۔خلیفہ کی حیثیت سے آپ نے اپنے عدل وانصاف ،  زہد وتقویٰ ،  مردم شناسی  ،  تواضع  ،  سادگی ،  ارباب کمال کی قدردانی ،  خیر خواہی خلق ،  اصابت رائےسے مجاہدین اور عامۃ المسلمین کی مُحَیِّرُالْعُقُوْل (عقل کو حیران کرنے والی)قیادت ورہنمائی کی ایسی مثال قائم کی کہ آج بھی مسلم ممالک وریاستوں   کے حکمران اُن سے سبق سیکھ کر کامیابی و کامرانی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں  ۔ واقعی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ’’ گفتار وکردار کے حقیقی غازی تھے۔ ‘‘   

ہر انسان دنیا میں   دو باتوں   کی بڑی فکر کرتا ہے ایک رزق کی ،  دوسرا زندگی کی۔ حالانکہ رزق کا ذمہ خود   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے لے لیا اور موت کا وقت بھی متعین فرمادیا۔ رز ق جتنا قسمت میں   لکھا ہے وہ ضرور مل کر رہے گا اور موت جس لمحے آنی ہے آکر رہے گی ،  نہ ایک لمحہ آگے ہوسکتی ہے اور نہ پیچھے۔ دنیا میں   کتنے ہی مالدار لوگ ہیں   جن کو بے چینی وبے اطمینانی کے سوا کچھ حاصل نہیں   اور کتنے ہی فقیر ہیں   جو اطمینان قلب سے مالا مال ہیں  ۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے زندگی کے ہر ہر معاملے میں   تربیت کا حکیمانہ اسلوب اور دلنشین انداز اختیار فرمایا۔ آج مسلمان جس صورت حال سے دوچار ہیں   اس کے لیے  ’’ سیرت فاروق اعظم ‘‘   اِکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔ کاش! تمام مسلمان سیرت فاروقی پر عمل کرنے والے بن جائیں  ۔

یارب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے

جو قلب کر گرما دے جو روح کو تڑپا دے

اس دور کی ظلمت میں   ہر قلب پریشاں   کو

وہ داغ محبت دے جو چاند کو شرما دے

بے لوث محبت ہو بے باک صداقت ہو

سینے میں   اُجالا کر دل صورت مینا دے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم  ‘‘  کے بارے میں  ۔۔۔

میٹھےمیٹھے اِسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک  ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘   کی مجلس  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘   کے شعبے  ’’ فیضانِ صحابہ واہل بیت ‘‘   نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سیرت طیبہ پر کام کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اَوّلاً  ’’ عشرہ مبشرہ ‘‘   کی سیرت پر کام شروع کیا گیا۔عشرہ مبشرہ میں   سے چاروں   خلفائے راشدین کے علاوہ بقیہ چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی سیرت طیبہ پرکام کی تکمیل کے بعد خلیفۂ اوّل ،  یارِ غار ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرت طیبہ بنام ’’ فیضانِ صدیق اکبر ‘‘   پر کام کرنے کی سعی کی اور کم وبیش چھ ماہ کے قلیل عرصے میں   اِس مبارک کتاب کی تکمیل ہوگئی۔ بِحَمْدِاللہِ تَعَالٰیاِس کتاب کو توقعات سے بڑھ کر پذیرائی ملی ،  مختلف اسلامی بھائیوں   ،  مبلغین و واعظین ،  ائمہ ومؤذنین ،  خطباء وپروفیسر حضرات ،  علمائے کرام و مفتیان عظام کی طرف سے کثیر مکتوب (خطوط)موصول ہوئے جن میں   اس کتاب کے مواد ،  ترتیب ،  تخریج ،  وطباعت وغیرہ مختلف اُمور کو سراہا گیا۔ نیز کئی لوگوں   کی طرف سے سلسلہ  ’’ فیضانِ عشرہ مبشرہ ‘‘   کی آئندہ آنے والی کتاب  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ کسی شے کے مطالبے کے بعد اُس کی اہمیت میں   مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   پر فی الفور کام شروع کردیا گیا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  ’’ المدینۃ العلمیۃ ‘‘   عالمی معیار کی ایک علمی وتحقیقی مجلس ہے ،  اس کی مختلف کتب دنیا بھر میں   عام ہورہی ہیں   ،  اس کے کام کرنے کاعلمی وتحقیقی انداز علمائے اہلسنت کی کتب کو چار چاند لگا دیتا ہے ،  یہی وجہ ہے کہ عوام وخواص بے شمار لوگ اِس کی مطبوعہ کتب پر اعتماد کرتے ہیں  ۔مؤلفین ومصنفین اِس بات سے بخوبی آگاہ ہیں   کہ کسی بھی ایسے موضوع پر کتاب لکھنا یا مرتب کرنا جس پر پہلے ہی سے کئی کتب لکھی جاچکی ہوں  ایک مشکل کام ہے۔ لیکن پہلے سے لکھی گئی کتابوں   کی خوبیوں   اور دیگر تمام اُمور کو سامنے رکھتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں   کے مطابق اُسی موضوع پر ایک نئی کتاب  ،  علمی وتحقیقی طرز پر مرتب کی جائے تو اُس کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرت طیبہ بنام ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم ‘‘   پر اِسی انداز میں   کام کرنے کی سعی کی گئی اور کم وبیش بارہ ماہ کے قلیل عرصے میں   دو جلدوں   پر مشتمل یہ ضخیم کتاب مکمل کی گئی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اِس کتاب پر شعبہ  ’’ فیضانِ صحابہ واہل بیت ‘‘   (المدینۃ العلمیۃ)کے تین اِسلامی بھائیوں   ابوفرازمحمداعجاز عطاری المدنی ،  ناصرجمال عطاری المدنی اور ولی محمد عطاری المدنی سَلَّمَہُمُ اللّٰہُ الْغَنِی نے کام کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔اِس کتاب پر اَوّل تا آخر کم وبیش ۱۲ مختلف مراحل میں   کام کیا گیا ہے جو اِس کتاب کی خصوصیات میں   شمار کیے جاسکتے ہیں   ،  تفصیل کچھ یوں   ہے:

(1)…مواد جمع کرنے کا مرحلہ:

تالیف وتصنیف دونوں   کے لیے اَوّلاً مواد کی موجودگی بہت ضروری ہے ،  جب تک مواد موجود نہ ہو کسی بھی کتاب کو مرتب نہیں   کیا جاسکتا۔  ’’ فیضانِ فاروقِ اعظم  ‘‘  کے مواد کے حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھا گیا:

 



Total Pages: 349

Go To