Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مختلف شہروں   میں   مہمان خانے ومسافر خانے قائم فرمائے۔ کیونکہ دور دراز علاقوں   سے آنے والے لوگوں   کو رہائش  ،  قیام  ، طعام وغیرہ میں   سخت مشکلات پیش آتی تھیں   ،  اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مہمان خانے قائم کرنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری فرمائیں  ۔ کوفہ اور حیر ہ کے درمیان ایک بستی  جس کا نا م  ’’ ملطاط ‘‘   تھا وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسافر خانہ بنوانے کے لیے ایک حکم نامہ بھیجا کہ مسافروں   اور راہگیروں   کے لیے ایک مہمان خانہ بنایا جائے تو وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ایک مسافر خانہ ومہمان خانہ قائم کردیا گیا۔([1])

(47)…سب سے پہلےخبر رسانی کا نظام بنانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے اِخباری نظام بنایا۔ کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ کوشش ہوتی تھی کہ سلطنت کی کوئی بھی بات آپ سے کسی طرح پوشیدہ نہ رہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مختلف علاقوں   میں   ایسے افراد کو متعین کیا جو پَل پَل کی خبر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو پہنچاتے تھے۔امام عبد اللہ بن جریرطبری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ وَكَانَ عُمَرُ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِيْ عَمَلِهٖ كُتِبَ اِلَيْهِ مِنَ الْعِرَاقِ بِخُرُوْجٍ مَنْ خَرَجَ وَمِنَ الشَّامِ بِجَائِزَةٍ مَنْ اُجِيْزَ فِيْهَا یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر کوئی بات مخفی نہیں   رہتی تھی ،  عراق میں   جن لوگوں   نے خروج کیا اور شام میں   جن لوگوں   کو انعام دیے گئے سب کی تحریری ومفصل رپورٹ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو پہنچادی گئی۔ ‘‘  ([2])

(48)…سب سے پہلے شورائی نظام قائم فرمانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے شورائی نظام قائم فرمایا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بعد خلیفہ مقرر کرنے کے لیے چھ اَکابر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  پر مشتمل ایک شوری قائم فرمائی جس کا فیصلہ آپ ہی کا فیصلہ تھا۔وقت وفات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِرشاد فرمایا:   ’’ اگر مجھے جلدی موت آجائے تو اِن چھ اَفراد پر مشتمل مجلس شوریٰ میرے بعد خلیفہ کا تقرر کرے گی کہ ان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے وصال ظاہری تک راضی تھے۔ ‘‘  ([3])

(49)…سب سے پہلے شہروں   میں   قاضی مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے شہروں   میں   قاضی مقرر فرمائے۔ چنانچہ امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ ھُوَ اَوَّلُ مَنْ اسْتَقْضٰى الْقُضَاءَ فِي الْاَمْصَارِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے شہروں   میں   قاضی مقرر فرمائے۔ ‘‘  ([4]) 

(50)…سب سے پہلے عمال کے کاموں   کو بیان کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے عُمَّال کے کاموں   کو واضح فرمایا۔

 چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اَوّلیات میں   سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک خطبہ دیا جس کا مضمون یہ تھا کہ اُن کے عاملوں   کو کیا کیا کام کرنے ہیں  ۔([5])

(51)…سب سے پہلے عمال کا احتساب مکتب بنانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے عُمَّال کے لیے اِحتساب مکتب بنایا جہاں   عوام میں   سے کوئی بھی کسی بھی عامل (یعنی گورنریاحاکم) کے خلاف شکایت کرسکتا تھا۔ جس کے خلاف شکایت ہوتی اگر وہ عامل قریب ہوتا تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاُسے فوراً بلاتے اور پوچھ گچھ فرماتے اور اگر وہ کہیں   دور علاقے میں   ہوتا تو بذریعہ مکتوب اُس سے پوچھ گچھ فرماتے۔([6])

(52)…سب سے پہلے جنگلات کی پیمائش کرانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جنگلات کی پیمائش کروائی۔ عام زمین کے مقابلے میں   چونکہ جنگلات بہت وسیع ہوتے ہیں   اِس لیے جب سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   فتوحات کی وسعت ہوئی تو اُس میں   بے شمار جنگلات بھی آئے  ،  اُن میں   خراج وغیرہ کے معاملے میں   سخت مشکلات پیش آئیں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عثمان بن حنیف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو جنگلات کی پیمائش کا حکم دیااور یوں   یہ مسئلہ بطریق احسن حل ہوگیا۔([7])

(53)…سب سے پہلے پہاڑوں   کی پیمائش کروانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جنگلوں   اور پہاڑوں  کی پیمائش کروائی۔ چنانچہ علامہ محمد بن سعد بصری زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ مَسَحَ السَّوَادَ وَاَرْضَ الْجَبَلِیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جنگلات اور پہاڑوں   کی پیمائش کروائی ۔ ‘‘  ([8])

 



[1]   فتوح البلدان  ،  القسم الرابع ،  ذکر تمصیر الکوفۃ ،  ص۳۹۱۔

[2]   تاریخ طبری ،  ج۲ ،  ص۴۹۱۔

[3]   مسلم  ، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ  ،  باب نھی من اکل ثوما وبصلا۔۔۔الخ ،  ص۲۸۳ ،  حدیث: ۷۸ ملتقطا۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴۔

[5]   ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۲۳۱۔

[6]   الاوائل للعسکری ،  ص۱۷۲۔

[7]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸ ،  الاوائل للعسکری ،  ص۱۶۶ ملتقطا۔

[8]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To