Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   جب بھی کوئی مال آتا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اُسے مستحقین میں   تقسیم فرمادیتے جیسا کہ سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی روایت گزری ،  یہی حال امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا بھی تھا کہ جب بھی کوئی مال آتا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فوراً اُسے تقسیم فرمادیتے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اَوّلاً اپنے گھر (مقامِ سُنح )میں   بیت المال قائم کیا ہوا تھا ،  بعد ازاں   اُسے مدینہ منورہ منتقل کردیا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے وصال کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ،  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ اُسی بیت المال میں   گئے جب دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بیت المال بالکل خالی تھااور کوئی درہم ودینار نہ تھا کیونکہ آپ سب تقسیم کردیا کرتے تھے۔ بعد ازاں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دورِ خلافت میں   فتوحات کی کثرت ہوئی تو مال بھی بڑھنے لگا اسی لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے باقاعدہ بیت المال قائم فرمادیا۔لہٰذا دونوں   اقوال میں   کوئی تضاد نہیں   ۔([1])

(42)…سب سے پہلے دیوان بنانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے دیوان مرتب فرمایا۔امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ اَوَّلُ مَنِ اتَّخَذَ الدِّیْوَانَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے دیوان بنایا۔ ‘‘  ([2])

دیوان اُس رجسٹر کو کہتے ہیں   جس میں   اُن تمام لوگوں   کی فہرست درج ہوتی ہے جنہیں   بیت المال سے عطیات اور وظائف وغیرہ دیے جاتے تھے۔یا اُس دفتر یا مکتب (Office)کو کہتے ہیں   جس میں   یہ کام سرانجام دیا جائے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے دیوان بنانے کے متعلق صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ کیا تو مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے عرض کیا:  ’’ حضور! جو مال آپ کے پاس جمع ہو اسے ہاتھوں   ہاتھ ہرسال تقسیم کر دیا کریں   اور اُس سے کچھ نہ بچائیں  ۔ ‘‘   سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’ حضور میرے خیال سے مال بہت زیادہ ہے جولوگوں   کی ضرورت پوری کرنے کے بعد بھی بچ جائے گا اور اگر مستحقین کی فہرست تیار نہ کی گئی تو اندیشہ ہے کہ غیر

 مستحقین بھی شامل نہ ہوجائیں  ۔ ‘‘  بہرحال سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہدیوان مرتب کرنے کا حکم دے دیا۔ ‘‘  ([3])

(43)…سب سے پہلے جیل خانہ قائم کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جیل قائم فرمائی اور اُس میں   مجرموں   کو قید فرمایا۔ آپ سے پہلے اسلام میں   جیل کا کوئی تصور نہ تھا ، مجرموں   کو دیگر سخت سزائیں   دی جاتی تھیں  ۔سب سے پہلے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مکہ مکرمہ میں   صفوان بن اُمیہ کا گھر چار ہزار درہم میں   خریدکراُسے جیل بنایا پھر دوسرے اضلاع میں   بھی جیلیں   بنانے کا حکم جاری فرمایا۔علامہ بغوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی امام مکحول کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ حَبَسَ فِي السِّجُوْنِ یعنی المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جیل میں   کسی مجرم کو قید کیا۔ ‘‘   اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکسی مجرم کو قید کرنے کے بعد ارشاد فرمایا کرتے تھے:   ’’ اَحْبِسُهُ حَتَّی اَعْلَمَ مِنْہُ الْتَّوْبَۃَ ،  وَلَا اَنْفِيْهِ اِلَی بَلَدٍ فَیُؤْذِیْھِم یعنی میں   اُسے اس وقت تک قید کرکے رکھوں   گا جب تک مجھے یہ علم نہ ہو جائے کہ اُس نے اپنے جرم سے توبہ کرلی ہے اور ہاں   میں   اُسے کسی دوسرے شہر بھی منتقل نہیں   کروں   گا کیونکہ یہ وہاں   کے لوگوں   کو بھی اپنے شر سے تکلیف پہنچائے گا۔ ‘‘  ([4])

(44)…سب سے پہلے پولیس کا محکمہ قائم فرمانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے پولیس کا محکمہ قائم فرمایا۔ مختلف اَقسام کے مقدمات مثلا زِنا ،  سرقہ وغیرہ کے ابتدائی تمام کاروائیاں   اِسی محکمہ سے متعلق تھیں  ۔نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِس محکمے کے چند آفیسرز کو بازاروں   میں   بھی تعینات فرمایا تھا تاکہ وہ تاجروں   کی بازاری خیانتوں   پر نظر رکھیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بازار میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ     کو مقرر فرمایا تھا۔([5])

(45)…سب سے پہلے مسافر خانے اور گودام بنوانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسافر خانے اور غلے کے گودام بنوائے جن سے مسافروں   کی مدد کی جاتی۔ چنانچہ علامہ محمد بن سعد بصری زہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اِتَّخَذَ عُمَرُ دَارَ الدَّقِيْقِ فَجَعَلَ فِيْهَا الدَّقِيْقَ وَالسَّوِيْقَ وَالتَّمَرَ وَالزَّبِيْبَ وَمَا يَحْتَاجُ اِلِيْهِ يُعِيْنُ بِهِ الْمُنْقَطِعَ بِهٖ وَالضَّيْفَ يَنْزِلُ بِعُمَرَ وَوَضَعَ عُمَرُ فِيْ طَرِيْقِ السُّبُلِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ مَا يَصْلَحُ مَنْ يُنْقَطَعُ بِهٖ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک گودام قائم فرمایا اور اس میں   آٹا ،  ستو ،  کھجور ،  کشمش ودیگر ضروریات کی اَشیاء رکھتے تھے۔ جب کوئی مسافر اور مہمان آپ کے پاس آتا تو اُس کی مدد فرماتے۔ اسی طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مکہ سے مدینہ منورہ کے درمیانی راستوں   یر ایسے وسائل قائم فرمائے جن سے مسافروں   کو مدد ملتی۔ ‘‘   ([6])        

(46)…سب سے پہلے شہروں   میں   مہمان خانے قائم کرنے والے:

 



[1]   تاریخ الخلفاء ،  ص۶۰ ملخصا۔

[2]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[3]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۲۴۔

                                                کنزالعمال ،  کتاب الجھاد ،  الارزاق والعطایا ،  الجزء: ۴ ،  ج۲ ،  ص۲۴۰ ،  حدیث: ۱۱۶۵۳ ملتقطا۔

[4]   تفسیر البغوی ،  پ۶ ،  المائدۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۳ ،  ج۲ ،  ص۲۷۔

[5]   طبقات کبری ، عبد اللہ بن عتبۃ ، ج۵ ، ص۴۳۔

[6]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴۔



Total Pages: 349

Go To