Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

طبری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ کَتَبَ النَّاسَ عَلٰی قَبَائِلِھِمْ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے (سب سے پہلے )لوگوں   (کے ناموں   )کو اُن کے قبائل کے مطابق لکھا۔ ‘‘  ([1])(یعنی مردم شماری کرواکرانہیں   مرتب فرمایا۔)

(36)…سب سے پہلے معلموں   اورمدرسوں   کے مشاہرے مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مُعَلِّمِیْن اور مُدَرِّسِیْن کے مشاہرے مقرر فرمائے۔ خطیب بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ الْعَفَّانِ کَانَا یَرْزُقَانِ الْمُؤْذِّنِیْنَ وَالْاَئِمَّۃِ وَالْمُعَلِّمِیْنَ وَالْقُضَاۃِ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وسیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مؤذنوں   ،  اماموں   اور معلموں   یعنی قرآن وسنت کی تعلیم دینے والوں   اور قاضیوں   کو وظائف دیا کرتے تھے۔  ‘‘  ([2])

(37)…سب سے پہلے گورنروں   کی تنخواہیں   مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے عاملوں   ،  گورنروں   کی تنخواہیں   ،  وظائف اور سہ ماہی وسالانہ بونس مقرر فرمائے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے گورنروں   کو اس بات کی نصیحت کررکھی تھی کہ اَوّلاً منصبِ قضاء کے لیے نیک لوگوں   کا انتخاب کیا جائے اور پھر اُن کی ضرورت کے مطابق تنخواہیں   بھی دی جائیں  ۔ نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہگورنروں   ،  قاضیوں   اور فوجیوں   کو سہ ماہی وسالانہ بونس بھی دیا کرتے تھے۔ ([3])

(38)…سب سے پہلے لوگوں   کے لیے وظائف مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے لوگوں   کے لیے مختلف وَظائف مقرر فرمائے۔ چنانچہ علامہ محمد بن سعد بصری زہری  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ اَوَّلُ مَنْ فَرَضَ لَھُمُ الْاَعْطِیَۃَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہی سب سے پہلے وظائف مقرر فرمائے۔ ‘‘  ([4])

(39)…سب سے پہلے شیر خواربچوں   کے وظائف مقرر کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے شیر خوار بچوں   کے وظائف اُن کی پیدائش ہی سے مقرر فرمائے۔ مشہور واقعہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسیِّدُنا عبد الرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ ایک تجارتی قافلے کی نگرانی کرتے ہوئے رات کو ایک خیمے سے گزرے جس سے بچے کی رونے کی آواز آرہی تھی ،   معلوم کرنے پر پتا چلا کہ اُس کی ماں   بچے کا دودھ چھڑا نا چاہتی ہے کیونکہ جو بچے دودھ چھوڑ چکے ہوں   اُن کو وظیفہ جاری کیا جاتا ہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نماز فجر کے بعد یہ حکم جاری فرمایا کہ کوئی عورت بچوں   کو دودھ چھڑانے میں   جلدی نہ کرےاب سے بچے کی پیدائش ہی سے اُس کا وظیفہ جاری کردیا جائے گا۔ ([5])

(40)…سب سے پہلے لاوارث بچوں   کی پرورش کا انتظام کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے  ’’ لَقِیْط ‘‘  یعنی لاوارث بچوں   کی پرورش کے لیے اُن کا وظیفہ مقرر فرمایا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فارو ق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   جب کسی لاوارث بچے کو لایا جاتا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس کے لیے سو درہم وظیفہ مقرر فرماتے جو اُس کے سرپرست ہر مہینے لے جاتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانہیں   اُس بچے کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتے نیز اُس کے دودھ اور کھانے وغیرہ کا خرچہ بھی بیت المال سے دیتے۔ ‘‘  ([6])

فاروقِ اعظم کی اِدارتی اَوّلیات

(41)…سب سے پہلے بیت المال قائم کرنے والے:

حضرت سیِّدُنا امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنِ اتَّخَذَ بَيْتَ الْمَالِیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے بیت المال قائم فرمایا ۔ ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا امام جمال الدین ابو الفرج ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ حضرت سیِّدُنا قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ جو سب سے آخری مال آیا وہ بحرین کے آٹھ لاکھ درہم تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے سارے درہم تقسیم فرمادیے۔ لہٰذا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے زمانے میں   بیت المال نہیں   تھا نہ ہی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانے میں   تھا اور جس نے سب سے پہلے بیت المال قائم فرمایا وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔([7])

ایک اہم وضاحت:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بعض علماء کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ عہدِ نبوی وعہدِ رسالت میں   کوئی بیت المال نہیں   تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ  سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی



[1]   تاریخ طبری ،  ج۲ ،  ص۵۷۰۔

[2]   تاریخ بغداد ،  ذکر من اسمہ محمد واسم ابیہ ابان ،  ج۲ ،  ص۷۹ ، الرقم:  ۴۶۰۔

[3]   تاریخ طبری ،  ج۲ ،  ص۴۷۸۔

[4]   طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۴۔

[5]   البدایۃ والنھایۃ ،  ج۵ ،  ص۱۴۰۔

[6]   موطا امام مالک ،  کتاب الاقضیۃ ،  باب القضاء فی المنبوذ ،  ج۲ ،  ص۲۶۰ ،  حدیث: ۱۴۸۲ ملخصا۔

[7]   مناقب امیرالمومنین عمر بن الخطاب ، الباب التاسع و الثلاثون ،  ص۹۷ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸ ملتقطا ۔



Total Pages: 349

Go To