Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

یعنی مساجد میں   سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے روشنی کےلیےچراغ چلائے۔ ‘‘  ([1])

اور تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے اسے بہت پسند فرمایا۔ مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے اس فعل پر خصوصی دعا بھی فرمائی۔ چنانچہ ، حضرت سیِّدُنا ابو اسحاق ہمدانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ:  ’’  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم رمضان المبارک کی پہلی رات باہر نکلے تو دیکھا کہ مساجد پر قندیلیں   چمک رہی ہیں  اور لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہیں  ۔ یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ نَوَّرَ اللہُ لِعُمَرَ فِيْ قَبْرِہ كَمَا نَوَّرَ مَسَاجِدَ اللہِ تَعَالٰى بِالْقُرْآنِیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ امیر المؤمنین سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قبر کو ویسا ہی منور کردے جیسا آپ نے مساجد کو قرآن سے منور کیا۔ ‘‘  ([2])

(29)…سب سے پہلے مسجد نبوی کا فرش پکا کرانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد کا فرش پکا کروایا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے  ،  فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ اَلْقَى الْحَصَى فِي مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللہ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّاب یعنی مسجد نبوی میں   سب سے پہلے پتھر بچھانے والے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں   کہ مسجد نبوی کا فرش کچا ہونے کے سبب لوگ جب سجدے سے سر اٹھاتے تو مٹی لگنے کے سبب اپنے ہاتھوں   کو جھاڑتے ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجدکے فرش کو پکا کرنے کے لیے ریتی بچھانے کا حکم دیا چنانچہ مقامِ عقیق سے بجری لائی گئی اور مسجد نبوی میں   بچھا کر اس کے فرش کو پکا کردیا گیا۔ ‘‘  ([3])

(30)…سب سے پہلے مسجد میں   چٹائیاں   بچھانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد نبوی میں   نمازیوں   کے لیے چٹائیاں   بچھائیں  ۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجد نبوی کے فرش کو پکا فرمایا تو اس کے بعد چٹائیاں   بچھانے کا حکم دیا۔ چنانچہ علامہ اسماعیل حقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ فَرَّشَ الْحَصِيْرَ فِى الْمَسَاجِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِىَ اللہُ عَنْهُ وَكَانَتْ قَبْلَ ذٰلِكَ مَفْرُوْشَةٌ بِالْحِصِىِّیعنی جس نے سب سے پہلے مساجد میں   نمازیوں   کے لیے چٹائیاں   بچھائیں   وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔چٹائیاں   بچھانے سے قبل مسجد نبوی کا فرش پکا تھا۔ ‘‘   ([4])

(31)…سب سے پہلے مسجد نبوی کی توسیع کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد نبوی کی توسیع فرمائی اور اُس میں   کنکریوں   کا فرش بچھا کر اسے پکا کیا۔امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ ھَدَمَ الْمَسْجِدَ النَّبَوِیِّ ،  وَزَادَفِیْہِ وَوَسَّعَہُ وَفَرَّشَہُ بِالْحُصْبَاء یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجد نبوی کو شہید کراکے نئے سرے سے اُس کی تعمیر کی اور اُس کے رقبے میں   اضافہ کیا ،  نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجد نبوی کے فرش کو پکا کروانے کے لیے وہاں   بجری بچھائی۔([5])

فاروقِ اعظم کی فلاحی اَوّلیات

(32)…سب سے پہلے نہریں   کھدوانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے زراعت ودیگر فوائد کے لیے نہریں   کھدوائیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو نہریں   کھدوائیں   اُن میں   نہر اَبی موسیٰ ،  نہر معقل ،  نہر سعد اور نہر امیر المؤمنین بہت ہی مشہور ومعروف ہیں  ۔([6])

(33)…سب سے پہلے شہروں   کو تعمیر کرانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے شہروں   کو تعمیر کروایا۔ چنانچہ علامہ ابن جوزی  عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ مَصَّرَ الْاَمْصَارَ فِي الْاِسْلَامِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِیعنی جس نے اسلام میں   سب سے پہلے شہر تعمیر کرائے وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ ‘‘  ([7])

(34)…سب سے پہلے مفتوحہ ممالک کو تقسیم کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مفتوحہ ممالک کے نظام کو بطریقِ اَحسن مُنَظَّم کرنے کے لیے مختلف حصوں   میں   تقسیم فرمادیا۔ نیز اُن کی تقسیم کے بعد ہر حصے پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنا حاکم مقرر فرمادیتے جو اُس علاقے کے تمام معاملات کا نظام سنبھال لیتا۔ ([8])

(35)…سب سے پہلے مردم شماری کرانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مردم شماری کرواکے لوگوں   کے ناموں   کی فہرستیں   مرتب فرمائیں  ۔ چنانچہ علامہ ابو جعفر محمد بن جریر



[1]   روح البیان ،  پ۱۰ ،  التوبۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ج۳ ،  ص۴۰۰۔

[2]   مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب ، الباب الحادی و الثلاثون ، ص۶۶۔

[3]   مصنف ابن ابی شیبہ ،  کتاب الاوائل ،  باب اول ما فعل ومن فعلہ ،  ج۸ ،  ص۲۴۵ ،  حدیث: ۱۷۶۔

                                                طبقات کبری ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۸۴۔

[4]   روح البیان ، پ۱۰ ،  التوبۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ج۳ ،  ص۳۳۹۔

[5]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۹۔

[6]   فتوح البلدان ،  ص۳۵۷ ،  حسن المحاضرۃ ،  ذکر خلیج مصر ،  ج۲ ،  ص۳۲۶۔

[7]   تلقیح فھوم اھل الاثر ،  ذکر الاوائل ،  ص۳۳۷۔

[8]   تاریخ طبری ،   ج۲ ،  ص۴۴۹۔



Total Pages: 349

Go To