Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے دور میں   بطور سزا شرابی کی پٹائی لگائی جاتی تھی۔ جب سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دور آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے شرابی کی حد چالیس کوڑے مقرر فرمادی اور اُسی کے مطابق آپ کے عہد میں   شرابی کو سزا دی جاتی ،  لیکن جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا دور آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف مکتوب لکھا جس میں   ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ النَّاسَ قَدْ اِنْهَمَكُوا فِي الشُّرْبِ وَتَحَاقَرُوا الْحَدَّ وَالْعُقُوبَةَ  یعنی لوگ بہت زیادہ شراب پینے میں   منہمک ہوگئے ہیں   شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شراب کی سزا کو حقیر سمجھتے ہیں  ۔لہٰذا اِس معاملے میں   کیا کیا جائے؟ ‘‘  سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ حضور! آپ کے پاس جید کبار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ہیں   اُن سے مشورہ کیجئے۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مہاجرین اَوّلین کبار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ کیا تو فَاَجْمَعُوا عَلَى أَنْ يَضْرِبَ ثَمَانِينَ یعنی تمام صحابہ کرام کااَسی کوڑے کی سزا پر اِجماع ہوگیا۔ ‘‘  ([1])

علامہ جلا ل الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ ضَرَبَ فِي الْخَمْرِ ثَمَانِيْنَیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے خلیفہ ہیں   جنہوں   نے شراب کی حد اسی کوڑے مقرر فرمائی۔ ‘‘  ([2])

(24)…سب سے پہلے مال کوملکیت میں   رکھ کر صدقہ کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم سے سب سے پہلے مال کو اپنی ملکیت میں   رکھ کر راہِ خدا میں   اُس کے منافع کو صدقہ کیا۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   کہ خیبر کی کچھ زمین امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے حصے میں   آئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوئے اور مشاورت کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے:   ’’ اِنِّيْ قَدْ اَصَبْتُ مَالًا لَمْ اَصَبْ مِثْلَهُ وَقَدْ اَرَدْتُّ اَنْ اَتَقَرَّبَ بِهٖ اِلَى اللہِ تَعَالٰییعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے حصے میں   جو مال آیا ہے اُس سے پہلے ایسا مال نہیں   آیا یعنی یہ مجھے بہت محبوب ہےاور میں   چاہتاہوں   کہ راہ خدا میں   اُسے صدقہ کرکے رب عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کروں   ،  آپ اِس بارے میں   کیا ارشاد فرماتے ہیں  ؟ ‘‘  تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اِحْبِسِ الْاَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ یعنی اے عمر! اصل زمین اپنی ملکیت میں   رکھو اور اس کے منافع کو صدقہ کردو۔ ‘‘  تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُس زمین کو اِس طرح صدقہ کیا کہ نہ تو اُسے بیچا جائے گا ،  نہ ہبہ کیا جائے گا ،  نہ ہی اُس میں   میراث جاری ہوگی ،  اُس کے منافع کو فقراء ،  رشتہ داروں   ،  غلاموں   ،  راہ خدا میں   جہاد کرنے والوں   ،  مہمانوں   وغیرہ پر خرچ کیا جائے گا۔ ([3])

(25)…سب سے پہلے ائمہ ومؤذنین کی تنخواہیں   جاری کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے ائمہ ومؤذنین کے مشاہرے مقرر فرمائے۔حضرت سیِّدُنا حسنرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے:   ’’ اِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَا یَرْزُقَانِ الْمُؤَذِّنِیْنَ وَالْاَئِمَّۃَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمؤذنین وائمہ کرام کو تنخواہیں   دیتے تھے۔ ‘‘  ([4])

(26)…سب سے پہلےمسجد حرام کی توسیع وکشادگی کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد حرام کی توسیع کا اہتمام فرمایا۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اولیات میں   سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک سال عمرہ کرنے کی نیت سے مسجد حرام کا قصد فرمایا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسجد حرام کو وسیع کرنے اور کشادہ کرنے کا اہتمام فرمایا۔ ‘‘  ([5])

(27)…سب سے پہلے مسجد حرام کی بیرونی دیوار بنانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مسجد حرام کی بیرونی دیوار تعمیر فرمائی۔ چنانچہ مروی ہے کہ:  ’’ عہدِ رسالت میں   مسجد حرام کی کوئی بیرونی دیوار نہیں   تھی ،  جب امیر المؤمنین سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  منصب خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ نے مسجد کے قریب کے گھروں   کو خرید کر انہیں   مسجد میں   شامل کردیا اور پھر پوری مسجد کے گرد ایک چھوٹی سی دیوار تعمیر فرمادی جس پر چراغ رکھے جاتے تھے۔ ‘‘  ([6])

(28)…سب سے پہلے مسجدوں   کو روشن کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے اپنے دور میں   مساجد کو آباد کرنے کے لیے انہیں   روشن کرنے کا خصوصی اہتمام فرمایا تاکہ لوگ رمضان المبارک کی راتوں   میں   آسانی سے نماز تراویح وغیرہ عبادات کا اہتمام کرسکیں  ۔چنانچہ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بیان فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ جَعَلَ فِی الْمَسْجِدِ الْمَصَابِیْحَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ



[1]   ابو داود ،  کتاب الحدود ،  باب اذا تتابع فی شرب الخمر ،  ج۴ ،  ص۲۲۱ ،  حدیث: ۴۴۸۹ ملخصا۔

[2]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[3]   دار قطنی ،  کتاب الاحباس ،  باب فی حبس المشاع ،  ج۴ ،  ص۲۲۸ ،  حدیث: ۴۳۸۳۔

                                                شعب الایمان  ،  باب فی الزکاۃ ،  فصل فی الاختیار فی صدقۃ التطوع ،  ج۳ ،  ص۲۴۶ ،  حدیث: ۳۴۴۶۔

[4]   تاریخ بغداد ،  ذکر من  اسمہ محمد واسم ابیہ ابان ،  ج۲ ،  ص۷۹ ، الرقم: ۴۶۰۔

[5]   ازالۃ الخفاء ،  ج۳ ،  ص۲۳۵۔

[6]   روح المعانی ،   پ۱۷ ،  الحج ،  تحت الآیۃ:  ۲۶ ،  ج۱۷ ،  ص۱۸۵ ،  

فتح الباری ،  کتاب مناقب الانصار ،  باب بنیان الکعبۃ ،  ج۸ ،  ص۱۲۵ ،  تحت الحدیث:  ۳۸۳۰۔



Total Pages: 349

Go To