Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فاروقِ اعظم کے دور میں   ایک ہزار چھتیس ۱۰۳۶شہر مع مضافات فتح ہوئے۔ ‘‘   ([1])

(9)…سب سے پہلے درازیٔ عمر کی دعا دینے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے مولا علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو درازیٔ عمر کی دعا دی۔امام جلال الدین سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے شخص ہیں   جنہوں   نے کسی کو یوں   درازیٔ عمر کی دعا دی:  اَطَالَ اللہُ بَقَاءَکَیعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ ‘‘  ([2])

            حضرت سیِّدُنا عبید بن رفاعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں   ایک بار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا علمی حلقہ لگا ہوا تھا اور عزل (یعنی زوجہ سے جماع کرنے کے بعد منی کو باہر خارج کردینا) کے بارے میں   گفتگو ہورہی تھی ،  بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ موقف تھا کہ اس میں   کوئی حرج نہیں   ،  جبکہ بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  یہ گمان تھا کہ عزل  ’’ موؤدۂ صغری ‘‘   ہے۔(یعنی زمانۂ جاہلیت میں   کفار اپنی بچیوں   کو زندہ درگور کردیتے تھےیہ بھی اُسی کی ایک صورت ہے۔)تو مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اِس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ یہ حکم اُسی صورت میں   لگ سکتا ہے جب تک یہ سات صورتیں   پوری نہ ہوجائیں  :  سُلَالَۃً مِّنْ طِیْن ،  نُطْفَة ،  عَلَقَة ،  مُضْغَة ،  عِظَامًا ،  لَحْمًا ،  خَلْقاً آخَر۔ ‘‘  یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ صَدَقْتَ یعنی اے علی! آپ نے سچ کہا۔ ‘‘   پھر مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو درازیٔ عمر کی دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اَطَالَ اللہُ بَقَاءَكَ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ ‘‘  ([3])

قرآن پاک میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انسان کی تخلیق کے سات مراحل بیان فرمائے ہیں   مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ان ہی سات مراحل کو بیان فرمایا۔ چنانچہارشاد ہوتا ہے:  (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ(۱۲) ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪(۱۳) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ(۱۴)) (پ۱۸ ،  المؤمنون:  ۱۲تا۱۴)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا پھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں   پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں   پھر ان ہڈیوں   پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں   اٹھان دی تو بڑی برکت والا ہے اللہ سب سے بہتر بنانے والا ہے ۔ ‘‘ 

(10)…سب سے پہلے تائید الہی کی دعا دینے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہی سب سے پہلے کسی کو تائید الٰہی کی دعا دی۔ جنہیں   تائید الٰہی کی دعا دی وہ بھی مولاعلی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ہی ہیں  ۔چنانچہ امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے شخص ہیں   جنہوں   نے کسی کو یوں   تائید الٰہی کی دعا دی:   اَيَّدَكَ اللہُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری تائید فرمائےاور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دعا بھی مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو دی۔ ‘‘  ([4])

(11)…سب سے پہلے ہجوکرنے پرسزا دینے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے اَشعار میں   ہجو کرنے پر سزا دی۔ کیونکہ عربوں   میں   اِس بات کا رواج تھا کہ جب وہ قبیلے کی ہجو یعنی مذمت بیان کرتے تو پھر اُس قبیلے کے کسی فرد کی عزت وشرافت کا قطعاً خیال نہ کرتے یہاں   تک کہ شریف عورتوں   کے نام لے کر اُن کی مذمت بیان کرتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ بات سخت ناگوار تھی اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِس پر سختی سے پابندی لگادی بلکہ عرب کے ایک مشہور شاعر  ’’ حطیئہ ‘‘   کو اِسی جرم میں   ایک کنویں   کے اندر قید کردیا۔اُس نے کنویں   کے اندر ہی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شفقت  طلب کرنے کے لیے چند اشعار کہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُسے باہر نکالا تو اُس نے عُذر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضور کسی کی ہجو یعنی مذمت میں   اَشعار کہنا تو میری عادت ہے پھر اُس نے اپنے والدین ،  بہن بھائیوں   اور خود اپنی مذمت میں   بھی چند اَشعار کہے تو سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمُسکرا دیے اور اُسے اِس شرط پر چھوڑا کہ آئندہ وہ کسی کی ہجو نہیں   کرے گا اور ساتھ ہی اُسے تین ہزار درہم بھی عطا فرمائے۔

امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ عَاقَبَ عَلَى الْهِجَاءِیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے شخص ہیں   جنہوں   نے مذمت والے اَشعار کہنے پر سزا دی۔ ‘‘   ([5])

(12)…سب سے پہلے جلا وطنی کی سزا دینے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے جلا وطنی کی سزا جاری فرمائی۔ مجرم کو اُس کے جرم کی وجہ سے کسی اور ملک بھیج دینا تاکہ اُسے تکلیف ہو اور دوسرے لوگ بھی اُس کے شرسے بچیں   جلا وطنی کہلاتا ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے  ’’ اَبُو مِحْجَن ‘‘   ([6])نامی شخص کو ملک بدر



[1]   فتاویٰ رضویہ ج۵ ،  ص۵۶۰۔

[2]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[3]   مرقاۃ المفاتیح ،  کتاب النکاح ،  باب المباشرۃ ،  ج۶ ،  ص۳۴۷ ،  تحت الحدیث:  ۳۱۸۹۔

[4]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[5]   الاوائل للعسکری ،  ص۱۵۷ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸ ،  مفاکھۃ الخلان ،  ص۲۴۳۔

[6]   واضح رہے کہ حضرت سیِّدُنا اَبُو مِحْجَن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سن ۹ ہجری کو اپنے قبیلے بنو ثقیف کے ساتھ اسلام لے آئے تھے ،  آپ بہترین شاعر ،  زمانۂ اسلام اور زمانۂ جاہلیت دونوں   میں   بہادری اور شجاعت کے حوالے سے بڑے مشہور تھے۔(اسد الغابۃ ،  ابومحجن الثقفی ، ج۶ ،  ص۲۹۰)



Total Pages: 349

Go To