Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو مسلمانوں   کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے قاضی مقرر فرمایا۔ یوں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاِسلام کے سب سے پہلے قاضی کہلائے۔ ‘‘  ([1])

(5)…سب سے پہلے  ’’ دُرَّہ  ‘‘  بنانے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے دُرَّہ ایجاد فرمایا۔علامہ ابو زكريا محي الدين بن شرف نووي عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :  ’’ وَهُوَاَوَّلُ مَنِ اتَّخَذَ الدُّرَّةَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے سب سے پہلے دُرَّہ بنایا۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ دُرَّہ اِتنا مشہور تھا کہ اِس کے متعلق عربوں   میں   ضرب المثل مشہور گئی کہ ’’ لَدُرَّةُ عُمَرَ اُهْيَبُ مِنْ سَيْفِكُمْ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا دُرَّہ تمہارے تلواروں   سے بھی زیادہ ہیبت والا ہے۔ ‘‘  ([2])

(6)…سب سے پہلے ہجری تاریخ کی ابتدا کرنے والے:

حضرت علامہ ابو زكريا محيي الدين یحی بن شرف نووي عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ اَرَّخَ بِالْهِجْرَةِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِیعنی جنہوں   نے سب سے پہلے ہجری تاریخ کی بنیاد ڈالی وہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہیں  ۔ ([3])

حضرت سیِّدُنا امام زہری وامام شعبی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا سے مروی ہے کہ کعبۃ اللہ  شریف کی تعمیر سے قبل بنو اسماعیل حضرت سیِّدُنا ابرہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آگ میں   ڈالے جانے کے دن سے تاریخ کا حساب کرتے اور تعمیرِ کعبہ کے بعد تعمیرِ کعبہ سے۔ پھر جو قبیلہ تہامہ سے باہر چلاجاتا وہ اپنی علیحدگی کے دن سے تاریخ کا شمار کرتا اور جوتہامہ میں   رہ جاتے وہ سعد ،  ہند اور جہینہ بنی زید کے تہامہ کے خروج سے حساب رکھتے۔ یہ سلسلہ حضرت سیِّدُنا کعب بن لؤی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکی وفات تک جاری رہا پھر اُن کی وفات کے دن سے حساب ہونے لگا۔ اِس کے بعد واقعۂ فیل پیش آیا تو بنو اِسماعیل نے اُس واقعۂ فیل سے تاریخ کا حساب رکھنا شروع کردیا اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمانہ سے ہجرتِ نبوی سے مسلمانوں   نے حساب رکھنا شروع کیا۔([4])

ایک اہم وضاحت:

بعض علماء کرام نے ہجری تقویم کی وضع کی نسبت عہد ِنبوی کی طرف کی ہے اور بعض علماء نے عہدِ فاروقی کی طرف کی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جب مدینہ منورہ ہجرت کرکے تشریف لائے تو اوّلاً مقام قباء میں   قیام فرمایا۔ابھی قباء میں   قیام فرماتھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نئی تقویم ہجری کی وضع کا حکم دیا چنانچہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اُسے ہجرت سے شروع کیا اور اس سنہ کی ابتداء محرم الحرام سے کی کیونکہ حجاج اسی مہینے اپنے گھروں   کو واپس لوٹتے ہیں  ۔واضح رہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہجری تقویم کی وضع کا حکم دیا تھا جبکہ اسی وضع کی ہوئی ہجری تقویم کا باقاعدہ حساب کتاب مسلمانوں   نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور سے رکھنا شروع کیا۔ لہٰذا دونوں   اقوال میں   کوئی تضاد نہیں  ۔([5])

(7)…سب سے پہلے راتوں   کودورہ کرنے والے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے خلیفہ ہیں   جن کا یہ معمول تھا کہ وہ راتوں   کو مدینہ منورہ کا دورہ کرتے تاکہ رعایا کے حالات معلوم کرسکیں   کہ کہیں   کوئی کسی تکلیف یا مصیبت میں   تو نہیں   اگربالفرض کہیں   ایسا ہوتو اس کی مدد فرمائیں  ۔اِمام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ اَوَّلُ مَنْ عَسَّ بِاللَّیْلِیعنی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ پہلے خلیفہ ہیں   جو رِعایا کے حالات سے آگاہی کیلے راتوں   کا دَورہ کیا کرتے تھے۔ ‘‘  ([6])

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا مدینہ منورہ کے دورے کے دوران پیش آنے والا ایک مشہور واقعہ بھی ہے جس میں   ایک خاتوں   اپنے ننھے منے بچوں   کے ساتھ اُن کا دل بہلانے کے لیے رات کے اندھیرے میں   ہنڈیاپکا رہی تھی آپ دورہ فرماتے ہوئے اُس کے پاس پہنچے اور اُس خاتون کی مدد فرمائی۔ ([7])

(8)…سب سے پہلے خلیفہ جن کے دور میں   بے شمار فتوحات ہوئیں  :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہوہ سب سے پہلے خلیفہ ہیں   جن کے دورِ خلافت میں   بے شمار فتوحات ہوئیں  ۔ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن سعد بن منيع بصري زهري عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  :   ’’ ھُوَ اَوَّلُ مَنْ فَتَحَ الْفُتُوْحَ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی وہ پہلے خلیفہ ہیں   جنہوں   نے سے سب سے زیادہ فتوحات کیں  ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی فتوحات میں   مختلف جائیدادیں   ،  علاقے صوبے ،  مختلف قصبے نیز وہ زمینیں   بھی شامل ہیں   جن سے  ’’ خِراج ‘‘   اور  ’’ فَی ‘‘   وصول کیا جاتا تھا۔ ([8])اعلی حضرت ،  عظیم البرکت ،  مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مفتوحہ عَلَاقوں   کی تعداد بیان کرتے ہوئے اِرشاد فرماتے ہیں  :   ’’



[1]   الاستیعاب  ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۹۔

[2]   تھذیب الاسماء ،  عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۳۳۳۔ الاستیعاب ،  عمر بن الخطاب ،  ج۳ ،  ص۲۳۶ ،    تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸۔

[3]   تھذیب الاسماء  ،   فصل بدء التاریخ الھجری ،  ج۱ ،  ص۴۷۔

[4]   تاریخ طبری ،  ج۲ ،  ص۴۔

[5]   سیرتِ سیدالانبیاء ،  ص۲۴۵ ،  تاریخ طبری ،  ج۲ ،   ص۴۔

[6]   تاریخ الخلفاء ،  ص۱۰۸ ،  الاوائل للعسکری ،  ص۴۲۔

[7]   تفصیلی واقعہ اِسی کتاب کے صفحہ نمبر۳۳پرملاحظہ کیجئے۔

[8]   طبقات کبریٰ ،  ذکر استخلاف عمر ،  ج۳ ،  ص۲۱۳ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To