Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تبدیل فرمایا تھا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے ان کے مابین یوں   مطابقت فرمائی ہے کہ ہوسکتا ہے سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ وبیٹی دونوں   کا نام  ’’ عاصیہ ‘‘  ہو اور ان دونوں   کے ناموں   کو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبدیل فرمادیاہو۔([1])

(3)…تیسرا نکاح اور اس سے اولاد:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا تیسرا نکاح حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اور مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی لاڈلی شہزادی حضرت سیدتنا اُمّ كلثوم بنت علي بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہوا۔امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو نکاح کا پیغام بھیجا اور ارشاد فرمایا:   ’’ زَوِّجْنِیْ یَا اَبَا الْحَسَنْ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  یَقُوْلُ كُلُّ نَسَبٍ وَصِھْرٍ مُنْقَطِعٌ  یَوْمَ الْقِيَامَۃِ  اِلَّا نَسَبِیْ وَصِهْرِیْیعنی اے علی! آپ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیجئےکیونکہ میں   نے سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو یہ فرماتے سنا ہے کہ کل بروز قیامت ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے سوائے میرے نسب اور رشتے کے۔ ‘‘  (لہٰذاآپ مجھے اپنا رشتہ دار بنا لیجئے)تومولا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی بیٹی سیدتنا ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کا نکاح آپ سے فرمادیا۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کے حق مہر میں   چالیس ہزار درہم ادا کیے۔ان سے ایک بیٹے حضرت سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاو رایک بیٹی حضرت سیدتنا رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا پیدا ہوئیں  ۔حضرت سیِّدُنا زید اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدتنا رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا   والد کی نسبت سے  ’’ عمری ‘‘  یا  ’’ فاروقی ‘‘   ہیں  ۔ ([2])

(4)…چوتھا نکاح اور اس سے اولاد:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا چوتھا نکاح  ’’ ملیکہ بنت جرول بن خزاعیہ ‘‘   سے ہوا ،   کنیت  ’’ اُمّ کلثوم ‘‘   ہے ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ زوجہ مشرکہ تھی ،  اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے غزوہ حدیبیہ کے سال طلاق دے دی۔اس سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دو بیٹے حضرت سیِّدُنا عبیداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورحضرت سیِّدُنا زید اصغر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئے۔([3])

(5)…پانچواں   نکاح اور اس سےاولاد:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا پانچواں   نکاح  ’’ قریبہ بنت ابواُمیہ ‘‘   سے ہوا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ زوجہ مشرکہ تھی لہٰذاآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نےاُسے طلاق دے دی ۔سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے طلاق دینے کے بعدحضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ـ نے ان سے نکاح کرلیا تھااس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہایمان نہیں   لائے تھے۔بعد میں   صلح حدیبیہ کے موقع پر یہی  ’’ قریبہ بنت ابواُمیہ ‘‘   اسلام لے آئی تھیں  ۔([4])

ایک اہم وضاحت:

قریبہ بنت ابواُمیہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا ام سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی بہن تھیں   ، اور فتح مکہ کے موقع پر یہ اسلام لے آئی تھیں  ۔بعض روایات میں   یہ بھی ہے کہ قریبہ بنت ابوامیہ کانکاح حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوااور ان سےحضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبد الرحمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپیدا ہوئے۔حضرت علامہ ابن حجرعسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اِرشاد فرماتے ہیں  :  ’’ ہو سکتا ہے کہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دوبہنیں   ہوں   اوردونوں   کا ہی نام  ’’ قریبہ ‘‘   ہو۔ ایک بہن پہلے ہی اسلام لے آئی تھیں  اور یہی حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے نکاح کے وقت موجود تھیں   ااور انہی سے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نکاح فرمایا ہو جبکہ دوسری بہن بعد میں   فتح مکہ کے موقع پر اِسلام لائی ہوں  جن سے حضرت سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبولِ اِسلام سے قبل نکاح فرمایا تھا۔ ‘‘  علامہ ابن حجر عسقلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی اس توجیہ کی تائید حضرت علامہ ابن سعد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے اِس قول سے بھی ہوتی ہے جسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ :  ’’ قریبہ صغریٰ بنت ابوامیہ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا اُمّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بہن اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ ہیں   اور اُن سے عبد اللہ ، حفصہ اوراُمّ حكيم پیدا ہوئے۔ ‘‘  ([5])

فاروقِ اعظم کا اپنی دو ازواج کو طلاق دینے کا سبب:

صلح حدیبیہ سے متعلقہ بخاری شریف کی ایک طویل حدیث مبارکہ میں   مذکور ہے کہ جب سورہ ممتحنہ کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی ان دونوں   مشرکہ ازواج کو طلاق دے دی:  ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّؕ-اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّۚ-فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِؕ-لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّؕ-وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْاؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّؕ-وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْــٴَـلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْــٴَـلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْاؕ-ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِؕ-یَحْكُمُ بَیْنَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ



[1]     الاصابۃ ،  جمیلۃ بنت عمر ،  ج۸ ،  ص۷۵ ،  الرقم: ۱۱۰۱۲۔

[2]     الاستیعاب ،  ام کلثوم بنت علی ،  ج۴ ،  ص۵۰۹ ،  تاریخ ابن عساکر ،  ج۱۹ ،  ص۴۸۲ ،  الاصابۃ ،  ام کلثوم بنت علی ،   ج۸ ،  ص۴۶۴ ،  الرقم: ۱۲۲۳۷۔

[3]     الاصابۃ ،  ام کلثوم بنت علی ،  ج۸ ،  ص۴۶۴ ،  الرقم: ۱۲۲۳۴۔

[4]     بخاری ، کتاب الشروط ،  الشروط فی الجھاد والمصالحۃ مع اھل الحرب ، ج۲ ،  ص۲۲۷ ،  حدیث: ۲۷۳۱ ،  ۲۷۳۲۔

                                                 فتح  الباری  ، کتاب الطلاق ،  باب نکاح من اسلم من المشرکات ،  ج۱۰ ،  ص۳۵۸ ،  تحت الحدیث: ۵۲۸۶۔

[5]     فتح الباری  ، کتاب الطلاق ،  باب نکاح من اسلم من المشرکات ،  ج۱۰ ،  ص۳۵۸ ،  تحت الحدیث: ۵۲۸۷ ماخوذا۔

                                                طبقات کبری ،  قریبۃ الصغری بنت ابی امیۃ ،  ج۸ ،  ص۲۰۶ ماخوذا۔



Total Pages: 349

Go To