Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

غَيُّوْرٌ یعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ غیرت فرمانے والا ہے اور غیرت مند کو پسند فرماتا ہے اور بے شک عمر بھی غیرت مند ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

 (15)فاروقِ اعظم کی رضا اللہ کی رضا :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رضا کو رب کی رضا اور رب کی رضا کو آپ کی رضا فرمایا۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ رحمتِ عالَم ،  نُورِ

مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ رِضَا اللہِ رِضَا عُمَرَ وَرِضَا عُمَرَ رِضَا اللہِ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا عمر کی رضا ہے اور عمر کی رضا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا ہے۔ ‘‘  ([2])

(16)فاروقِ اعظم ہمیشہ مصیب رہے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سچائی اور حق گوئی کی گواہی خود رسولِ اَکرم ،  شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دی۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اِنَّ اللہ جَعَلَ الْحَقَّ عَلٰى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِہٖیعنی بے شک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عمر کے دل اور زبان پر حق کو جاری فرمادیا۔ ‘‘  ([3])

(17)حق اور سچائی ہمیشہ فاروقِ اعظم کے ساتھ ہے:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ اور حق اور سچائی ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی ،  چاہے آپ دنیا کے کسی بھی گوشے میں   ہوں  ۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا فضل بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ اَلصِّدْقُ وَالْحَقُّ بَعْدِيْ مَعَ عُمَرَ حَيْثُ كَانَ یعنی حق اور سچائی عمر کے ساتھ ہے وہ جہاں   بھی رہیں  ۔ ‘‘  ([4])

(18)فاروقِ اعظم کوبارگاہِ رسالت سے اصابت کی دعا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو خود شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اصابت (درستگی) کی دعادی۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا ازرق بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار مسجد نبوی میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک نمازی کو فرض نماز کے فورا بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا تو شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اَصَابَ اللّٰهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ یعنی اے خطاب کے بیٹے!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں   اصابت (درستگی) عطا فرمائے۔ ‘‘   ([5])

(19)بارگاہِ رسالت سے فاروق لقب عطا ہوا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بارگاہِ رسالت سے لقب فاروق عطا ہوا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود اس کو بیان فرمایاکہ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبول اسلام کیا تو تمام مسلمانوں   نے کھل کر کعبۃ اللہ شریف میں   نماز ادا کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو حق وباطل یعنی اسلام وکفر کے مابین امتیاز کے سبب لقب فاروق عطا فرمایا۔([6])

(20)سورہ بقرہ کی تفسیر ۱۲سال میں   رسول اللہ سے پڑھی:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت سے بارہ سال تک سورۃ البقرہ کی تفسیر پڑھی۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ تَعَلَّمَ عُمَرُ الْبَقَرَةَ فِي اِثْنَتَيْ عَشَرَةَ سَنَةً فَلَمَّا خَتَمَهَا نَحَرَ جَزُوْراًیعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سورۂ بقرہ کی تفسیر بارہ سال تک پڑھی۔ جب تفسیر مکمل ہوگئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے شکرانے میں   ایک اونٹ ذبح کیا۔ ‘‘  ([7])

(21)فاروقِ اعظم کی قرانی موافقت:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   قرآن پاک کی سب سے زیادہ آیات نازل ہوئیں   ، جن کی تعداد کم وبیش اکیس ہے۔([8])

 



[1]   کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضل عمر بن الخطاب ،  الجزء: ۱۱ ،  ج۶ ،  ص۲۶۵ ،  حدیث: ۳۲۷۴۳۔

 

[2]   کنزالعمال ،  کتاب الفضائل ،  فضل عمر بن الخطاب ،  الجزء: ۱۱ ،  ج۶ ،  ص۲۶۵ ،   حدیث: ۳۲۷۴۵۔

[3]   ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی مناقب ابی۔۔۔الخ ،  ج۵ ،  ص۳۸۳ ،  حدیث: ۳۷۰۲۔

[4]   جمع الجوامع ، حرف الصاد ، ج۵ ، ص۹۶ ، حدیث: ۱۳۷۳۲۔

 

[5]   ابو داود ،  کتاب الصلوۃ ،  باب فی الرجل یتطوع ۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۳۷۶ ،  حدیث: ۱۰۰۷ ملتقطا۔

[6]   طبقات کبری ، ذکر اسلام عمر ، ج۳ ، ص۲۰۵ ،  تاریخ 

Total Pages: 349

Go To