Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

خصوصیاتِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  ’’ خاصہ ‘‘   کسی شخص کی ذات میں   موجود اس وصف کو کہتے ہیں   جو صرف اسی کی ذات میں   پایا جائے اس کے غیر میں   نہ پایا جائے۔یااس کے غیر میں   پایا تو جائے لیکن وہ اتنا مشہور نہ ہو۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات مبارکہ میں   بھی کئی ایسی خصوصیات ہیں   جو کسی اور میں   نہیں   پائی جاتیں   یا اگر پائی بھی جاتی ہیں   تو مشہور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات سےہی ہیں  ۔چند خصوصیات پیش خدمت ہیں  :

(1)فاروقِ اعظم مُرادِ رسول :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ مُراد رسول ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے مانگا ہے۔ چنانچہ اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں   کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے لیے یوں   دعا فرمائی:   ’’ اَللّٰهُمَّ اَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً یعنی اے   اللہ

عَزَّ وَجَلَّ! خصوصاً عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو عزت عطا فرما۔  ‘‘  ([1])

(2)فاروقِ اعظم چالیسویں   مسلمان:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ چالیسویں   نمبر پر اسلام لائے اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ خصوصیت بدیہی (بالکل واضح )ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پہلے جو اسلام لائے وہ اُنتالیسویں   اور جو آپ کے بعد اسلام لائے وہ اکتالیسویں   صحابی تھے ،  لہٰذا یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خصوصیت ہے کہ آپ چالیسویں   مسلمان ہیں  ۔اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں  :   ’’ حضرت عمرفاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاس وقت ایما ن لائے جب کل مرد و عورت ۳۹ مسلمان تھے۔ آپ چالیسویں   مسلمان ہیں   ، اسی واسطے آپ کا نام ’’ مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِیْن ‘‘  ہے یعنی چالیس مسلمانوں   کے پورا کرنے والے۔ ‘‘  ([2])

(3)فاروقِ اعظم کے قبولِ اسلام پر آیت کا نزول:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ۳۹اَفراد اسلام لاچکے تھے حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مسلمان ہونے پر چالیس کی تعداد مکمل ہوگئ تو   اللہ

 عَزَّ وَجَلَّ نےیہ آیت مبارکہ نازل فرمائی: (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴)) (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے غیب کی خبریں   بتانے والے نبی! اللہ تمہیں   کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔ ‘‘  ([3])

(4)قبولِ اسلام کے بعد اظہار اسلام:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خصوصیات میں   سے یہ بھی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے قبول اسلام کے فوراً بعد اس کا اظہار فرمادیا اور بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا کہ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا ہم حق پرنہیں   ہیں  ؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ کیوں   نہیں  ۔ ‘‘  عرض کیا:  ’’ پھر اظہار حق میں   خوف اور خطرے کا احساس کیوں  ۔ ‘‘   بعد ازاں   تمام مسلمان دو قطاروں   میں   کعبۃ اللہ شریف گئے ۔([4])

(5)قبولِ اسلام کے بعد کفارکے گھروں   میں   اظہار اسلام:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی خصوصیات میں   سے یہ بات ہے کہ قبول اسلام کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبڑے بڑے کفار مکہ کے گھروں   میں   خود گئے اور ان پر اپنا اسلام ظاہر کیا۔نیز کعبۃ اللہ شریف میں   جاکر اپنے قبول اسلام کا اظہار کیا جس سے تمام کفار مکہ میں   یہ بات فی الفور پھیل گئی۔ ([5])

(6)فاروقِ اعظم کے قبولِ اسلام کے بعد تقویت اسلام:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ کے قبول اسلام سے اسلام کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا ،  اسلام

 کو تقویت ملی ،  مسلمانوں   کے حوصلے بڑھ گئے اور اعلانیہ اسلام کی دعوت دی جانے لگی ،  مسلمانوں   نے کعبۃ اللہ شریف میں   کفار مکہ کے سامنے اعلانیہ نماز ادا کی ،  کفار کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمانوں   کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عزت بخشی۔([6])

(7)فاروقِ اعظم محبوبِ خدا :

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بھی خصوصیت ہے کہ آپ محبوب خدا ہیں  ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یوں   دعا فرمائی:  اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِیعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں   



[1]   ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  فضل عمر رضی اللہ عنہ ،  ج۱ ،  ص۷۷ ،  حدیث: ۱۰۵۔

[2]   ملفوظاتِ اعلی حضرت ،  ص۳۹۷۔

[3]   معجم کبیر  ، احادیث عبد اللہ بن  العباس۔۔۔الخ ، ج۱۲ ، ص۴۷ ، حدیث: ۱۲۴۷۰۔

[4]   تاریخ الخلفاء ،  ص۹۰۔

[5]   طبقات کبری ، ذکر اسلام عمر ، ج۳ ، ص۲۰۴۔

[6]   تھذیب الاسماء ،   عمر بن الخطاب ،  ج۲ ،  ص۳۲۴ ماخوذا۔



Total Pages: 349

Go To