Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

نفس کا محاسبہ کرے۔ ‘‘   یہ سنتے ہی حضرت سیِّدُنا کعب احبا ررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فورا عرض کیا:   ’’ وَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ اِنَّهَا فِي التَّوْرَاةِیعنی اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں   میری جان ہے! تورات شریف میں   بعینہ یہی لکھا ہوا ہے جو آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ‘‘   جیسےہی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ سنا تو اللہ اکبر کہا اور سجدہ ریز ہوگئے۔ ‘‘  ([1])

(34)فاروقِ اعظم کا جواب اور توارت کی موافقت:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ قوم یہود میں   ایک شخص امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں   حاضر ہوا اور عرض کی:   ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے:  (وَ  سَارِعُوْۤا  اِلٰى  مَغْفِرَةٍ  مِّنْ  رَّبِّكُمْ  وَ  جَنَّةٍ  عَرْضُهَا  السَّمٰوٰتُ  وَ  الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ  لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)) (پ۴ ،  آل عمران: ۱۳۳) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنّت کی طرف جس کی چوڑان میں   سب آسمان و زمین آ جائیں   پرہیزگاروں   کے لئے تیار رکھی ہے۔ ‘‘  اگر جنت کی چوڑائی اتنی بڑی ہے تو پھر دوزخ کہاں   گئی؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا سوال سن کر اپنے پاس بیٹھے ہوئے دیگر اصحاب سے فرمایا:   ’’ اسے جواب دو۔ ‘‘   لیکن ان میں   سے کسی نے جواب نہ دیا۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے جواباً ایک سوال کیا:   ’’ اَرَاَيْتَ النَّهَارَ اِذَا جَاءَ اَلَيْسَ يَمْلَاُ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضَ یعنی کیا تم نے کبھی دن کو نہیں  دیکھا جب وہ آتاہے تو زمین وآسمان اس کی روشنی سے بھرجاتے ہیں   ،  یعنی دن ہی دن ہوتاہے؟ ‘‘   اس نے کہا:  ’’ جی ہاں   واقعی ایسا ہوتاہے۔ ‘‘   فرمایا:   ’’ فَاَیْنَ اللَّیْلُ تو پھر رات کہاں   جاتی ہے؟ ‘‘  اس نے عرض کیا:   ’’ حَيْثُ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ یعنی جہاں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ فَالنَّارُ حَيْثُ شَاءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بس پھر دوزخ بھی وہیں   چلی گئی جہاں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے چاہا۔ ‘‘  یہ سن کر اس نے عرض کیا:   ’’ وَالَّذِيْ نَفْسِیْ بَيَدِهٖ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ اِنَّهَا لَفِيْ كِتَابِ اللہ الْمُنَزَّلِ كَمَا قُلْتَ یعنی اے امیر المؤمنین !اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں   میری جان ہے! جیسا آپ نے فرمایا ہے ویسا ہی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازل کردہ کتاب (تورات)میں   لکھا ہے۔ ‘‘   ([2])

ملی تائید خدا ،  تائید حبیب خدا ،  مل گئی تائید اصحاب خیر الوری

دیا حق نے ان کا ساتھ ہے فاروقِ اعظم کی کیا بات ہے

پیکر صدق وصفا ،  ان کے حق میں   رسول خدا کی دعا

جب بھی تو کچھ کہے حق تیرے ساتھ ہے ،  فاروقِ اعظم کی کیا بات ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پندرواں باب

خصوصیاتِ فاروقِ اعظم

اس باب میں ملاحضہ کیجئے۔۔۔۔۔

خاصہ کسے کہتے ہیں؟

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ۲۳  خصوصیات کا تفصیلی بیان

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مراد رسول ہیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چالیسویں مسلمان ہیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبول اسلام  پر آیت کا نزول  ہوا۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے قبول اسلام سے اسلام  اور مسلمانوں دونوں  کی تقویت ملی۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بلا خوف وخطراعلانیہ ہجرت کی ۔

حق ہمیشہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ رہا۔

سب س ے زیادہ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقت میں آیات نازل ہوئیں۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جنتی محل کو خود رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں  ملاحظہ فرمایا۔

سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس اُمت کے مَحْدِّث ہیں۔

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

 



[1]   الرد علی الجھمیہ للدارمی ،  باب استواء الرب ۔۔۔الخ ،  الرقم: ۸۴ ،  ص۵۹ ،  الصواعق المحرقۃ ،  ص۱۰۱ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۹۹۔

[2]   در منثور ،  پ۴ ،  آل عمران ،  تحت الآیۃ: ۱۳۳ ، ج۲ ،  ص۳۱۵۔

                                                 کنزالعمال ،  کتاب القیامۃ ،  باب النار ،  الجزء: ۱۴ ،  ج۷ ،  ص۲۷۸ ،  حدیث:  ۳۹۷۷۸۔



Total Pages: 349

Go To