Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فَخَلِّهِمْ یعنی اے عمر! اگر ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے انہیں   عمل کرنے دو۔ ‘‘  ([1])

صحابہ کرام کی موافقت

(28)فاروقِ اعظم کی رائے ،  صدیق اکبر کی موافقت:

حضرت سیِّدُنا طارق بن شہاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ بنی اسداور بنی غطفان کا ایک وفد خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس صلح کی غرض سے آیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   ارشاد فرمایا:   ’’ یا تو فیصلہ کن جنگ اختیار کرلو یاذلت آمیز صلح ۔ ‘‘  وہ کہنے لگے :  ’’ فیصلہ کن جنگ کا مطلب تو ہم جانتے ہیں   مگر یہ ذلت آمیز صلح سے آپ کی کیا مراد ہے؟ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ تم سے ذرعیں   اورہتھیار وغیرہ سب لے لیے جائیں   گے ،  جو مال غنیمت ہمیں   حاصل ہوگا وہ ہمارا ہی ہوگا اور جو کچھ تم ہم سے حاصل کرو گے وہ واپس کردو گے۔ تم ہمارے مقتولین کی دیتیں   ادا کرو گے مگر تمہارے مقتولین جہنم میں   جائیں   گے۔( یعنی ہم ان کا خون بہا ادا نہیں   کریں   گے) تمہیں   ایسی قوموں   کی طرح آزاد چھوڑ دیا جائے گا جو اونٹوں   کی دم کےپیچھے کھنچی چلی جاتی ہیں  ۔ یہ معاملہ تم سے اس وقت تک کیا جاتارہے گا جب تک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنےپیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ پر کوئی دوسری صورت ظاہر نہ کردے جس کے سبب تمہیں   معذور قرار دےدیا جائے۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ گفتگو عام مسلمانوں   کے سامنے پیش کی تاکہ ان کی بھی رائے معلوم کی جاسکے۔ تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ حضور یہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا فیصلہ تھا ہماری عرض یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فیصلہ کن جنگ اور ذلت آمیز صلح کی بات بہت اچھی کہی ہے ،  یونہی ہم ان سے جولیں   وہ ہمارا اور وہ جو کچھ لے لیں   وہ بھی ہمارا یہ بھی بڑی اچھی بات ہے۔ البتہ یہ جو آپ نے کہا ہے کہ ہمارے مقتولین کی دیتیں   ادا کی جائیں   گی اور ان کے مقتولین جہنم میں   ہیں۔اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ ہمارے شہداء یقیناً   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں   قربان ہوئے ہیں   ہمیں   ان کی دیتیں   لینے کی کیا ضرورت۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس بات پرامیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسمیت پوری قوم نےاتفاق رائے ظاہر کیا اور اسی بات پرکفار سے صلح کرلی گئی۔([2])

(29)صدیق اکبر کی جمع قرآن میں   فاروقِ اعظم کی موافقت:

امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے دور میں   مسیلمہ کذاب کے خلاف ایک زبردست جنگ لڑی گئی جس میں   کثیر تعداد میں   حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی شہادت ہوئی۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی فہم وفراست سے یہ بات جان لی کہ اگر یونہی مختلف جنگوں   میں   صحابہ کرام

 

عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  شہید ہوتے رہے تو قرآن کریم کا اکثرحصہ جاتا رہے گا ۔ لہٰذا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ رائے اور مدنی مشورہ دیا کہ موجودہ حفاظ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی معاونت سے جمع قرآن کی ترکیب بنائی جائے۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کی موافقت فرمائی اور جمع قرآن کا عظیم کام پایہ تکمیل تک پہنچایا۔([3])

(30)صحابہ کرام کی بیعتِ صدیق اکبر میں   فاروقِ اعظم کی موافقت:

اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد امیر المؤمنین ،  خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کے معاملے میں   جب مہاجرین وانصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   اختلاف واقع ہوا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فورًا آگے بڑھ کر حضرت سیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیعت کرلی ۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا بیعت کرنا تھا کہ مہاجرین وانصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   ٹوٹ پڑے اور تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے بیعت کرلی۔([4])

فاروقِ اعظم کی دیگر موافقات

(31)جیسا آپ چاہتے ویسا ہی ہوتا:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو جب بھی یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ  ’’ میرے خیال میں   یہ کام یوں   ہونا چاہیے۔ ‘‘   تووہ کام اسی طرح ہو کے رہا۔چنانچہ ایک بار آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں   سے ایک خوبرو نوجوان گزرا  ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’  مجھے لگتا ہے کہ یہ شخص جاہلیت میں   اپنی قوم کا نجومی تھا۔اُسے بلائو۔ ‘‘   لوگ اُسے بلا کر لائے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُس سے فرمایا:   ’’ میرا گمان غلط بھی ہوسکتا ہے مگر لگتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں   تم نجومی تھے؟ ‘‘   وہ کہنے لگا:   ’’  اس سے قبل کسی مسلمان شخص سے میری ایسی ملاقات نہیں   ہوئی۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ میں   تمہیں   قسم دیتا ہوں   کہ میری



[1]   مسلم  ، کتاب الایمان  ، الدلیل علی ان من مات علی التوحید  ، ص۳۷ ،  حدیث: ۵۲۔

[2]   سنن کبری   ، کتاب الاشربہ ، قتال اھل الردۃ ، ج۸ ،  ص۵۸۱ ،  حدیث: ۱۷۶۳۲ ملخصا۔

[3]   بخاری ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب جمع القرآن ،  ج۳ ،  ص۳۹۸ ،  حدیث: ۴۹۸۶ ملتقطا۔

                 ’’ جمع قرآن ‘‘   کی تفصیلات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۵ صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ فیضان صدیق اکبر ‘‘   باب  ’’ خلافت صدیق اکبر ‘‘   موضوع  ’’ صدیق اکبر اور جمع قرآن ‘‘   کا مطالعہ کیجئے۔

[4]   سنن کبری للنسائی ،  کتاب المناقب ،  باب فضل ابی ابکر الصدیق ،  ج۵ ،  ص۳۷ ،  حدیث: ۸۱۰۹ ملتقطا۔

                                                اسد الغابۃ ،  عبد اللہ بن عثمان ،  خلافتہ ،  ج۳ ،  ص۳۳۸ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To