Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بارگاہ میں   حاضر ہوا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ اَبْشِرُوا وَبَشِّرُوا مَنْ وَرَاءَكُمْ  ،  اَنَّهُ مَنْ شَهِدَ اَنْ لا اِلهَ اِلاَ اللہ  صَادِقًا بِهَا  دَخَلَ الْجَنَّةَ یعنی تمہارے لیے خوشخبری ہے اور تم اپنے بعد والوں   کو خوشخبری دے دو کہ جو شخص سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   تو وہ جنت میں   داخل ہوگیا۔ ‘‘   یہ سن کرجب ہم بارگاہِ رسالت سے واپس آئے تو لوگوں   کواس بات کی خوشخبری دینے لگے اتنے میں   ہمارا سامنا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوگیا ،  ہماری گفتگو سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہمیں   لیے بارگاہِ رسالت میں   حاضر ہوگئے اور عرض کیا:   ’’ يَارَسُولَ اللہ اِذا يَتَّكِلُ النَّاسُ یعنی اے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر لوگوں   میں   یہ بات پھیلا دی جائے تووہ اسی پر تکیہ کرکے دیگر عمل وغیرہ چھوڑ دیں   گے۔ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بات سن کر نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہوگئے اور انکار نہ فرمایا۔(گویا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کو تقریری موافقت حاصل ہوگئی۔)([1])

(26)دعائے نبوی سے فاروقِ اعظم کی موافقت:

حضرت سیِّدُنا ازرق بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ ہمیں   ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے نماز پڑھائی جن کی کنیت ابو رمثہ تھی۔نماز کے بعد انہوں   نے ایک واقعہ ہمیں   بیان کیا کہ میں   نے میٹھے میٹھے آقا ،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اقتداء میں   یہی یا کوئی اور نماز اداکی۔امیر المؤمنین خلیفۂ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں   طرف صف اَوّل میں   کھڑے ہوتے تھے۔میں   نے دیکھا کہ صف اَوّل میں   ایک ایسا شخص بھی تھا جو تکبیر اولیٰ میں   شریک ہوا تھا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جیسے ہی نماز ختم کی تو وہ شخص وہیں   کھڑا ہو کر دو رکعت پڑھنے لگا۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جیسے ہی اسے دیکھا تو فوراً اٹھے اور اسے کندھے سے پکڑکر جھنجھوڑا اور فرمایا:   ’’ اِجْلِسْ فَاِنَّهُ لَمْ يَهْلِكُ اَهْلَ الْكِتَابِ اِلَّا اَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَوَاتِهِمْ فَصْلٌ یعنی بیٹھ جائو! اہل کتاب اسی لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں   نے اپنی نمازوں   (یعنی فرائض وسنن)میں   فاصلہ نہ رکھا۔ ‘‘  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نگاہ اٹھا کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی طرف دیکھا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فعل کی موافقت فرماتے ہوئے یوں   دعا ارشاد فرمائی:  ’’ اَصَابَ اللّٰهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ یعنی اے عمر ! اللہ تجھے ہمیشہ صائب الرائے رکھے۔ ‘‘  ([2])

(27)فاروقِ اعظم کی رائے کی بارگاہِ رسالت میں   قبولیت:

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار ہم دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خدمت میں   حاضرتھے ہمارے ساتھ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ و حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی موجود تھے۔اچانک سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اٹھ کر کہیں   تشریف لے گئے۔ جب کافی دیر ہوگئی تو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو تشویش لاحق ہوئی۔ سب سے پہلے میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی تلاش میں   نکل کھڑا ہوا اور میرے پیچھے پیچھے دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  بھی نکل آئے۔ میں   بنو نجار کے ایک باغ تک پہنچ گیا مگر باغ میں   داخل ہونے کا کوئی راستہ نظر نہ آیا بالآخر ایک چھوٹی سی جگہ مل گئی جس سے میں   اندر داخل ہوگیا۔جیسے ہی رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے رخ انور کی زیارت کی تو سکھ کا سانس لیا۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جیسے ہی مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا:   ’’ مَا شَاْنُكَ یعنی اے ابوہریرہ! کیا بات ہے؟ ‘‘  میں   نے سارا ماجرا بیان کردیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ دیگر اصحاب میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں  ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے اپنی نعلین (مبارک چپل) عطا کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’ اِذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِیعنی میری یہ نعلین لے جاؤ اور اس باغ کے باہر جس شخص سے ملاقات ہو اور وہ دل سے گواہی دے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   تو اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ ‘‘  فرماتے ہیں   کہ میں   وہ نعلین مبارکہ لے کر جیسے ہی باغ  کے باہرآیا تو سب سے پہلے میری ملاقات امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ہوگئی۔ انہوں   نے میرے ہاتھ میں   جب نعلین مبارکہ دیکھیں   تو پوچھا :   ’’ مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا اَبَا هُرَيْرَةَیعنی اے ابو ہریرہ! یہ نعلین کیسی ہیں  ؟ ‘‘  میں   نے عرض کیاکہ یہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی نعلین مبارکہ ہیں   اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے یہ دے کر بھیجا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ’’  اے ابو ہریرہ! اس دیوار کے پیچھےجس شخص سے ملاقات ہو اور وہ دل سے اس بات کی گواہی دے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   تو اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔ ‘‘ 

یہ سن کر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے میرے سینے میں   اتنے زور کی ضرب لگائی کہ میں   پیٹھ کے بل گر گیااور فرمایا:  ’’  رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   واپس چلو۔ ‘‘  میں   روتا ہوا بارگاہِ رسالت میں   پہنچا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے استفسار فرمایا کہ:  ’’  مَا لَكَ يَا اَبَا هُرَيْرَةاے ابوہریرہ کیا ہوا؟ ‘‘  میں   نے سارا ماجرا بیان کردیا تو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے استفسار فرمایا:   ’’ يَا عُمَرُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ یعنی اے عمر! تمہیں   کس بات نے ایسا کرنے پر مجبور کیا؟ ‘‘ 

سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا :  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیاآپ نے ابوہریرہ کو اپنی نعلین دے کر بھیجا تھا اور ساتھ میں   یہ بھی فرمایا تھا کہ دل سے اس بات کی گواہی دے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   تو اسے جنت کی خوشخبری دے دو؟ ‘‘  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ ہاں  ۔ ‘‘  عرض کیا:   ’’ فَلَا تَفْعَلْ فَاِنِّي اَخْشَى اَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُونَ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ایسا مت کیجئےکیونکہ مجھے خوف ہے کہ لوگ اسی پر تکیہ کر کے بیٹھ جائیں   گے اور کوئی عمل وغیرہ نہیں   کریں   گے لہٰذا آپ انہیں   عمل کرنے دیجئے۔ ‘‘   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کی موافقت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:   ’’



[1]   مسند امام احمد ، حدیث ابی موسی اشعری  ، ج۷ ،  ص۱۴۴ ،  حدیث: ۱۹۶۱۴۔

[2]   ابو داود  ، کتاب الصلوۃ  ، باب فی الرجل یتطوع فی مکانہ ، ج۱ ،  ص۳۷۶ ،  حدیث: ۱۰۰۷ مختصرا۔



Total Pages: 349

Go To