Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

طلب کی تو آپ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو فورا ًمنع فرمادیتے کہ ’’  اے عمر! غیر اللہ سے مدد مانگنا ناجائز ہے لہٰذا تم صرف   اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی سے مدد طلب کرو۔ ‘‘ 

٭…حضور نبی ٔپاک ،  صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو منع کرنے کے بجائے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کی موافقت فرمائی اور پورے لشکر کو ان کی رائے پر عمل کرنے کا حکم دیا اورلشکر نے اس پر عمل بھی کیا۔ معلوم ہوا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے بندوں   سے مدد طلب کرنے کی بات کرنا اور ان سے مدد طلب کرنا دونوں   باتیں   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے ثابت ہیں  ۔

٭…اس واقعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بے شمار اختیارات عطا فرمائے ہیں   اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اگر کسی چیز میں   برکت کی دعا فرمادیں   تو رب تعالیٰ اس میں   اتنی برکت پیدا فرمادیتاہے کہ کثیر تعداد اُس سے فیضیاب ہوجائے تب بھی اُس میں   کسی قسم کی کوئی کمی نہیں   آتی۔

لَا وَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا ان سے ملا

بٹتی ہے کونین میں   نعمت رسول اللہ کی

عرش حق ہے مسند رفعت رسول اللہ کی

دیکھنی ہے حشر میں   عزت رسول اللہ کی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (24)طاعون زدہ علاقے میں   نہ جانے کے متعلق آپ کی موافقت:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ملک شام کی طرف نکلے۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہتبوک کے قریب ایک بستی سرغ میں   پہنچے تو راستے میں  ملک شام کی طرف سے آنے والے صحابی رسول امین الامت حضرت سیِّدُنا ابو عبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دیگر امراء لشکر کی آپ سے ملاقات ہوگئی۔انہوں   نے آپ کواس بات سے مطلع کیا کہ ملک شام میں   طاعون کی وبا پھیل گئی ہے۔سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے حکم دیا کہ  ’’ سابق الہجرت مہاجرین صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان   ‘‘   کو بلالائو۔ میں   گیا اور ان تمام صحابہ کو بُلالایا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   صورتِ حال سے آگاہ کیا اور مشورہ لیا تو ان میں   دو گروہ ہوگئے۔بعض کہنے لگے کہ ہم نے جس کام کا ارادہ کیا ہے اس سے پیچھے نہیں   ہٹنا چاہیے یہ مناسب نہیں   ہے۔جبکہ بعض کی رائے یہ تھی کہ طاعون زدہ علاقے میں   داخل ہونامناسب نہیں   ہے۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان تمام کو بھیج دیا اور مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ اب  ’’ انصار ‘‘   کو بلا لاؤ۔میں   گیا اور انصار صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بلا لایا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے بھی مشورہ طلب کیا تو ان میں   بھی دو گروہ ہوگئے۔ بعض کہنے لگے کہ ہم جس کام کا ارادہ کرکے آئے ہیں   اسے ضرور پورا کرنا چاہیے۔ اس سے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں  جبکہ بعض کی رائے یہ تھی کہ طاعون زدہ علاقے میں   داخل ہونامناسب نہیں   ۔

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان تمام کو بھی بھیج دیا اور مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ اب انہیں   بلاؤ جو فتح مکہ کے قریب اسلام لانے والےقریش ہیں  ۔میں   گیا اور ان تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بلا لایا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے بھی مشورہ طلب کیا لیکن ان سب سے اس بات پر اتفاق کیا کہ واپس لوٹ چلیں   طاعون زدہ علاقے میں   داخل نہ ہوں  ۔ بہرحال آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب ان تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ لے لیا تو حکم ارشاد فرمایا کہ تمام صبح واپس جائیں   گے۔صبح حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ اَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللّٰهِ حضور! یہ آپ نے کیا فیصلہ فرمایا ہے ؟کیا ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر واپس جائیں   گے؟ ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابوعبیدہ! اگر یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی تو بہتر ہوتا۔ ‘‘  پھر فرمایا:  ’’ نَعَمْ !نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللّٰهِ اِلَى قَدَرِ اللہ ہاں  ! ہم   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے بھاگ کر اس کی تقدیر ہی کی طرف لوٹیں   گے۔ذرا ایک بات بتاؤ!اگر تم حالت سفر میں   اونٹ پر سوار ہواور تمہیں   ایک ایسی وادی میں   اترنا پڑے جس کے دو کنارے ہوں   ،  ایک سرسبز اور دوسرا خشک۔ وہاں   اگر تم اپنا اونٹ چرنے کے لیے سرسبز کنارے پر چھوڑو تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ایسا کرو گے اور اگر خشک کنارے میں   چھوڑودو تو بھی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تقدیر سے ہی ایسا کرو گے۔  ‘‘ 

حضرت سیِّدُنا عبد اللہبن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ اتنے میں   حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف تشریف لے آئے جو کسی حاجت کے لیے باہر گئے ہوئے تھے۔جب انہیں   معلوم ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ حضور اس معاملے میں   میرے پاس ایک حدیث پاک ہے۔ میں   نے حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ اِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِاَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَاِذَا وَقَعَ بِاَرْضٍ وَاَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ یعنی جب تم سنو کہ کسی علاقے میں   طاعون کی وبا آگئی ہے تو وہاں   مت جائو اور اگرتم ایسے علاقے میں   موجود ہو جس میں   طاعون کی وبا ہے تو اس سے ڈر کر وہاں   سے مت بھاگو۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی رائے کی موافقت میں   جب یہ حدیث مبارکہ سنی تو آپ نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی اور پھر واپس لوٹ آئے۔([1])

(25)فاروقِ اعظم کی رائے کہ ’’  لوگ عمل کرنا چھوڑ دیں   گے  ‘‘  :

حضرت سیِّدُنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ میں   اپنی قوم کے کچھ لوگوں   کے ساتھ حضورنبی ٔرحمت ،  شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی



[1]   بخاری  ، کتاب الطب  ، باب مایذکرفی الطاعون  ، ج۴ ،  ص۲۸ ،  حدیث: ۵۷۲۹۔

                                                  صحیح ابن حبان  ، کتاب الجنائز ،  ذکر الزجر عن  القدوم علی البلد۔۔۔الخ ،  الجزء: ۴ ،  ج۳ ،  ص۲۶۵ ،  حدیث: ۲۹۴۲۔



Total Pages: 349

Go To