Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو خاموش رہنے کا حکم ارشاد فرمایا۔اس نے پھرپوچھا:   ’’ اَفِي الْقَوْمِ ابْنُ اَبِي قُحَافَةَیعنی کیا تم میں   ابو قحافہ کا بیٹا(حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) ہے؟ ‘‘  اس بار بھی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو خاموش رہنے کا حکم ارشاد فرمایا۔اس نے پھر پوچھا:   ’’ اَفِي الْقَوْمِ ابْنُ الْخَطَّابِ یعنی کیا تم میں   خطاب کا بیٹا (حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)ہے؟  ‘‘   لیکن اس بار رحمتِ عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو خاموش رہنے کا حکم ارشاد نہ فرمایا۔ ابو سفیان کہنے لگا:   ’’ اِنَّ هَؤُلَاءِ قُتِلُوا فَلَوْ كَانُوا اَحْيَاءً لَاَجَابُوا یعنی یہ سارے قتل(شہید) ہوگئے ہیں   اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جیسے ہی اپنے محبوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شہادت کا سنا تو آپ کی غیرت ایمانی جوش میں   آگئی اور چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اب جواب دینے سے منع نہ فرمایا تھاتو رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موافقت بھی آپ کو حاصل تھی لہٰذا آپ نے باآواز بلند ارشاد فرمایا:   ’’ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ اَبْقَى اللّٰهُ عَلَيْكَ مَا يُخْزِيكَ یعنی اے   اللہَ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن! تو جھوٹا ہے ،    اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تیرے خلاف اس چیز کو باقی رکھا ہے جو تجھے ذلیل کردے گی۔‘‘([1])

(23)فاروقِ اعظم کا مدنی مشورہ اور لشکر کی شکم سیری:

حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے بتایا کہ ہم ایک بار جنگی سفر میں   حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے اور زاد راہ تقریباً ختم ہوچکا تھا جب بھوک کی شدت نے تنگ کیا تو لوگوں  نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ  ’’ بعض سواریاں   ذبح کرلی جائیں   تاکہ کچھ تو بھوک کم کی جاسکے۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب یہ دیکھا کہ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں   اس بات کی اجازت دینے ہی والے ہیں   تو انہوں   نے آگے بڑھ کر عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگرہم اپنی سواریاں   ذبح کرکے کھانا شروع کردیں   تو دشمن کے سامنے ہم بھوکے اور بغیر سواریوں   کے ہوں   گے۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں   مسلمانوں   کی خیر خواہی سے پھرپور مدنی مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا:  ’’ اِنْ رَاَيْتَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ اَنْ تَدْعُوَ لَنَا بِبَقَايَا اَزْوَادِهِمْ فَتَجْمَعَهَا ثُمَّ تَدْعُوَ اللّٰهَ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ فَاِنَّ اللّٰهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَيُبَلِّغُنَا بِدَعْوَتِكَ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرا مشورہ یہ ہے کہ تمام لشکر والے ایسا کریں   کہ جس کے پاس جو کچھ بھی تھوڑا بہت کھانے کے لیے کچھ بچا ہوا ہے وہ آپ کی بارگاہ میں   حاضر کردے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کھانے کے ڈھیر پر برکت کی دعا فرمادیں   تو اللہ تعالٰی آپ کی دعا سے اس کھانے میں   ایسی برکت پیدا فرمادے گا کہ وہ کھانا ہم سب کے لیے کافی ووافی ہوگا۔ ‘‘ 

شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    کو یہ مشورہ بہت ہی پسند آیا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس مدنی مشورے کی موافقت فرماتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا۔ چنانچہ جس کے پاس جو کچھ بچا ہوا تھا سب نے بارگاہِ رسالت میں   لا کر پیش کردیا۔راوی کہتے ہیں  :   ’’ فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَدَعَا مَا شَاءَ اللّٰهُ اَنْ يَدْعُوَیعنی میٹھے میٹھے آقا ،  مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان تمام اشیاء کو ایک جگہ جمع کردیا ،  پھر کھڑے ہوئے اوراس پر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مرضی سے جو دعا فرمانی تھی فرما دی۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لشکر کے تمام لوگوں   کو حکم ارشاد فرمایا کہ اپنے اپنے برتن اس سے بھرلیں  ۔راوی فرماتے ہیں   کہ :  ’’ فَمَا بَقِىَ فِى الْجَيْشِ وِعَاءٌ اِلاَّ مَلأُوهُ وَبَقِىَ مِثْلُهُ یعنی لشکر میں   موجود تمام کے تمام برتن اس سے بھر گئے اور وہ ویسا ہی رہا اس میں   بھی کچھ کمی نہ آئی۔ ‘‘  یہ دیکھ کر حضور نبی ٔکریم ،  رَ ء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اتنا مسکرائے کہ آپ کی مبارک داڑھیں   ظاہر ہوگئیں  ۔ارشاد فرمایا:   ’’ اَشْهَدُ اَنْ لاَ اِلَهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاَنِّى رَسُولُ اللّٰهِ لاَ يَلْقَى اللّٰهَ عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِهِمَا اِلاَّ حُجِبَتْ عَنْهُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِیعنی میں   گواہی دیتا ہوں   کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں   اور میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں   ،  یہ دونوں   کلمات پڑھنے والا کل بروز قیامت   اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس حال میں   ملاقات کرے گا کہ اس کے اور دوزخ کے مابین ایک آڑ قائم کردی جائے گی۔ ‘‘  ([2])

فاروقِ اعظم کا نبی کریم سے مدد طلب کرنے کا عقیدہ :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا واقعے سے علم وحکمت کے بے شمار مدنی پھول ملتے ہیں   چنانچہ چند مدنی پھول پیش خدمت ہیں   انہیں   اپنے دل کے مدنی گلدستے میں   سجا لیجئے:

٭…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ عقیدہ تھا کہ جب کوئی مشکل گھڑی آجائے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے مدد مانگنا جائز ہے۔

٭…نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا یہ بھی عقیدہ تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول  ، بی بی آمنہ کے پھول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مشکل گھڑی میں   مدد فرماسکتے ہیں   ،  جبھی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت سے مدد طلب کی۔

٭…آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کثیر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کے سامنے سیِّد عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اسلامی لشکر کے لیے مدد طلب کی اور کسی صحابی نے اس بات پر انکار نہ فرمایا ۔معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا اس بات پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مدد مانگنا جائز ہے۔

٭…تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سچے رسول ہیں   ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٰمِرْ بِالْمَعْرُوْف یعنی نیکی کا حکم دینے والے اور نَاھِیْ عَنِ الْمُنْکَر یعنی برائی سے منع فرمانے والے ہیں  ۔ اگر غیر اللہسے مدد طلب کرنا ناجائز ہوتا امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مدد



[1]   بخاری ،  کتاب المغازی ،  غزوۂ احد ،  ج۳ ،  ص۳۴ ،  حدیث: ۴۰۴۳۔

[2]   مسند امام احمد ، حدیث ابی عمرۃ الانصاری  ، ج۵ ،  ص۲۶۴ ،  ص۱۵۴۴۹۔



Total Pages: 349

Go To