Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

۵ ہجری میں   غزوۂ بنی مصطلق سے واپسی کے وقت قافلہ مدینہ منورہ کے قریب ایک مقام پر ٹھہرا تو اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  ضرورت کے لئے کسی گوشہ میں   تشریف لے گئیں   وہاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ہار ٹوٹ گیا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  اس کی تلاش میں   مصروف ہو گئیں  اور قافلے والے آپ کو قافلے میں   سمجھ کر روانہ ہوگئے۔ بعد ازاں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  حضرت سیِّدُنا صفوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ آگئیں   تو قافلے میں   موجود منافقین نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی شان میں   بدگوئی شروع کردی اور اَوہام فاسدہ (غلط وسوسے)پھیلانا شروع کر دیے۔ سرکارِ نامدار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے اس معاملے میں   گفتگو فرمائی تو تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کی پاکدامنی کی گواہی دی۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ مَنْ زَوَّجَکَھَا یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کے ساتھ آپ کا نکاح کس نے فرمایا؟ ‘‘   فرمایا:  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے۔ ‘‘   عرض کیا:   ’’ اَتَنْظُرُ اَنَّ رَبَّكَ دَلَّسَ عَلَيْكَ فِيْهَا یعنی کیا آپ یہ گمان کرتے ہیں   کہ آپ کے رب عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو عیب دار چیز عطا فرمائی ہے؟ ہرگزنہیں  ۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے سُبْحَانَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ یعنی الٰہی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   یہی الفاظ رب عَزَّ وَجَلَّ نے نازل فرمادیے:  (وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا ﳓ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ(۱۶)) (پ۱۸ ،  النور: ۱۶)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور کیوں   نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں   نہیں   پہنچتا کہ ایسی بات کہیں   الٰہی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے۔ ‘‘   ([1])

(13)تیرہویں   آیت مبارکہ ،  رمضان کی راتوں   میں   مباشرت کی اجازت:

ابتدائے اسلام میں   رمضان المبارک کی راتوں   میں   اپنی زوجہ سے مباشرت کرنا جائز نہیں   تھا ،  لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ودیگر چند صحابہ کرام نے جماع کرلیا تو رمضان المبارک کی راتوں   میں   جماع کے جواز کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-فَالْــٴٰـنَ بَاشِرُوْهُنَّ) (پ۲ ،  البقرۃ: ۱۸۷)ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ روزوں   کی راتوں   میں   اپنی عورتوں   کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا وہ تمہاری لباس ہیں   اور تم ان کے لباس اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں   کو خیانت میں   ڈالتے تھے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں   معاف فرمایا تو اب ان سے صحبت کرو ۔ ‘‘  ([2])

(14)چودہویں   آیت مبارکہ ،  جو جبریل کا دشمن ،  اللہ اس کا دشمن:

حضرت سیِّدُنا ابن ابی حاتم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن ابی لیلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کی ہے کہ ایک بار امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایک یہودی کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہا:   ’’ اِنَّ جِبْرِيْلَ الَّذِيْ يَذْكَرُ صَاحِبُكُمْ عَدُوٌّ لَّنَا یعنی یہ جو جبریل ہے جس کا تذکرہ تمہارے دوست (محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کرتے ہیں   وہ ہمارا دشمن ہے۔ ‘‘  یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِيلَ وَمِيكَائِیلَ فَإِنَّ اللَّهَ عَدُوٌّ لِلْكَافِرِينَ یعنی جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں   اور اس کے رسولوں   اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں   کا۔ ‘‘   چنانچہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   انہی الفاظ میں   یہ آیت مبارکہ نازل فرمادی:  (مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸)) (پ۱ ،  البقرۃ:  ۹۸) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ جو کوئی دشمن ہو اللہ اور اس کے فرشتوں   اور اس کے رسولوں   اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں   کا۔ ‘‘  ([3])

(15)پندرہویں   آیت مبارکہ ،  رسول اللہ کو حکم بنانے کا حکم:

حضرت سیِّدُنا ابن ابی حاتم اور حضرت سیِّدُنا ابن مردویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا     حضرت سیِّدُنا ابو الاسود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ دو شخصوں   نے اپنا مقدمہ تاجدارِ رِسالت ،  شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   پیش کیاتو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے مابین فیصلہ فرمادیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے دوسرے سے کہا کہ آؤ ہم حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے فیصلہ کرواتے ہیں  ۔ دونوں   بارگاہِ فاروقی میں   پہنچےتو جس کے حق میں   فیصلہ ہوا تھا اس شخص نے عرض کیا کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے حق میں   فیصلہ فرمادیا ہے۔ یہ سن کر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ مَكَانَكُمَا حَتّٰى اَخْرُجَ اِلَيْكُمَا  فَاَقْضِیْ بَیْنَکُمَایعنی میرے واپس آنے تک یہیں   ٹھہرو  ، میں   ابھی تم دونوں   کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں  ۔ ‘‘   پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاندر تشریف لے گئے اور ننگی تلوار ہاتھ میں   لیے باہر تشریف لائے اور جس کے خلاف رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فیصلہ فرمایا تھا اس کا سر قلم کردیا۔یہ دیکھ کر دوسرا شخص خوف سے بھاگ کر رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   پہنچا اور عرض کیا:   ’’ قَتَلَ عُمَرُ وَاللہ صَاحِبِیْ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے میرے ساتھی کو قتل کردیا ہے۔ ‘‘  شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:   ’’ مَا کُنْتُ اَظُنُّ اَنْ یَجْتَرِئَ عُمَرُ عَلَی قَتْلِ مُؤْمِنٍ یعنی مجھے یقین ہے کہ عمر کسی مؤمن کو قتل کرنے کی جرأت نہیں   کرسکتا۔ ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:  (فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا



[1]   خزائن العرفان ،  پ۱۸ ،  النور ،  تحت الآیۃ: ۱۶ ،  ص۵۵۲۔

                                                عمدۃ القاری ،  کتاب الصلاۃ ،  باب ما جاء فی القبلۃ ۔۔۔ الخ ،   ج۳ ،  ص۳۸۷ ،  تحت حدیث: ۴۰۲ ملتقطا۔

[2]   سنن ابی داود ،  کتاب الاذان ،  کیف الاذان ،  ج۱ ،  ص۲۱۳ ،  الحدیث: ۵۰۶ ،  خزائن العرفان ،  پ۲ ،  البقرہ: ۱۸۷۔

[3]   درمنثور ،  پ۱ ،  البقرۃ ،  تحت الآیۃ: ۹۷ ،  ج۱ ،  ص۲۲۴۔



Total Pages: 349

Go To