Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۴)) (پ۱۰ ،  التوبۃ: ۸۴) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور ان میں   سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بیشک وہ اللہ و رسول سے منکِر ہوئے اور فسق ہی میں   مر گئے۔ ‘‘   ([1])

منافق کو قمیص عطا فرمانے اور جنازے میں   شرکت کی حکمتیں  :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن ،  اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے علم ہونے کے باوجود منافقوں   کے سردار عبد اللہ بن ابی کو اپنی قمیص بھی عطا کی اور اس کی جنازے میں   بھی شرکت کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس عمل میں   فوائد سے بھرپوربے شمار حکمتیں   تھیں   ،  چند درج ذیل ہیں  :

(1)رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے منافق عبد اللہ بن ابی کو جب اپنی مبارک قمیص عطا فرمائی اور جنازے وتدفین میں   شرکت کی اس وقت ممانعت کا حکم نازل نہیں   ہوا تھا۔

(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو معلوم تھا کہ آپ کا یہ عمل ایک ہزار آدمیوں   کے ایمان لانے کا باعث ہوگا اسی لئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے عبد اللہ بن ابی کو اپنی قمیص بھی عنایت فرمائی اور جنازے میں   بھی شرکت کی ۔

 (3)…قمیص دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چچا حضرت سیِّدُنا عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجو بدر میں   اسیر ہو کر آئے تھے انہیں   عبداللہ بن اُبی نے اپنا کُرتہ پہنایا تھا توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اسے اپنی قمیص عطا فرماکر بدلہ پورا کردیا۔

(4)سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس فعل میں   ایک حکمت یہ بھی تھی کہ کفار آپ کے اس رویے سے متاثر ہوں   گے چنانچہ جب کُفّار نے دیکھا کہ ایسا شدید عداوت رکھنے والا شخص جب دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے کُرتے سے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کے عقیدے میں   بھی آپ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب اور اس کے سچّے رسول ہیں   تو یہ سوچ کر ایک ہزار کافِر مسلمان ہوگئے۔ ‘‘   ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(10)دسویں   آیت مبارکہ ،  منافقین کے لیے دعائے مغفرت:

دو جہاں   کے تاجور ،  سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جب منافقین کے استغفار کی کثرت کی تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی زبان پر یہ کلمات آئے:  ’’ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کا ان منافقین کے لیے استغفار فرمانا یا نہ فرمانا دونوں   برابر ہیں   ،  تو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان ہی الفاظ میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   یہ آیت کریمہ نازل فرمادی:  ( سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْؕ-)  (پ۲۸ ،  المنافقون: ۶)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو ۔ ‘‘  ([3])

(11)گیارہویں   آیت مبارکہ ،  مقام بدر کی طرف جانے کا حکم:

ملک شام سے کفار کا ایک قافلہ سازوسامان کے ساتھ آرہا تھا ،   سرکارِ مکۂ مکرمہ ،  سردارِ مدینۂ منورہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اصحاب کے ساتھ اس قافلے سے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے ،  ادھر جب کفار مکہ کو معلوم ہوا تو ابوجہل بھی قریش کا ایک بڑا لشکر لے کر ملک شام سے آنے والے قافلے کی مدد کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ لیکن جب اس قافلے کو معلوم ہوا کہ مسلمان ان کے مقابلے کے لیے آرہے ہیں   تو انہوں   نے وہ راستہ تبدیل کردیا اور سمندی راستے سےکسی اور راہ نکل گئے۔ ابو جہل کو جب یہ معلوم ہوا تواس کے ساتھیوں   نے کہا کہ قافلہ تو صحیح سلامت دوسرے راہ نکل گیا لہٰذا واپس مکہ مکرمہ چلتے ہیں   لیکن اس نے واپس جانے سے انکار کردیااور مسلمانوں   سے جنگ کرنے کے لیے مقام بدر کی طرف چل پڑا۔ادھر نورکے پیکر ،  تمام نبیوں   کے سَروَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو معلوم ہوا تو آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا:  ’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کُفّار کے دونوں   گروہوں   میں   سے ایک پر مسلمانوں   کو فتح عطا فرمائے گا خواہ وہ ملک شام والا قافلہ ہو یا مکہ مکرمہ سے آنے والے کفار قریش کا لشکر۔ ‘‘  قافلہ چونکہ نکل چکا تھا لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بدر کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا۔ بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے عرض کی:  ’’ ہم باقاعدہ جنگ کی تیاری سے نہیں   آئے تھے ،  لہٰذا ابو جہل کے لشکر سے اعراض کرکے اسی ملک شام والے قافلے کا تعاقب کرنا چاہیے۔ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! جیسا آپ کے ربّ

 عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو حکم فرمایا ہے ویسا ہی کیجئے یعنی بدر کی طرف تشریف لے چلیے۔ ‘‘   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ۪-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ(۵)) (پ۹ ،  الانفال: ۵)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ جس طرح اے محبوب تمہیں   تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا اور بے شک مسلمانوں   کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا۔ ‘‘  ([4])

(12)بارہویں   آیت مبارکہ ،  سیدہ عائشہ صدیقہ کی پاکیزگی کا بیان:

 



[1]   خزائن العرفان ،  پ۱۰ ،  التوبۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ، ص۳۷۶ ،  الصواعق المحرقۃ ،   ص۱۰۰ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۹۷ملخصا۔

[2]   خزائن العرفان ،  پ۱۰ ،  التوبۃ ،  تحت الآیۃ: ۸۴ ،  ص۳۷۶۔

[3]   الصواعق المحرقۃ ، ص۱۰۰ ،  تاریخ الخلفاء ،  ۹۷۔

[4]   خزائن العرفان ،  پ۹ ،  الانفال ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ص۳۳۴ ،  تفسیرالبیضاوی ،  پ۹ ،  الانفال ،  تحت الآیۃ: ۵ ، ج۳ ،  ص۸۹۔

تاریخ الخلفاء ،  ص۹۷ ،  الصواعق المحرقۃ ،   ص۱۰۰۔

 



Total Pages: 349

Go To