Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

عباس پر اور مجھے میرے رشتہ داروں   پر مقرر کیجئے کہ ان کی گردنیں   مار دیں  ۔ ‘‘   بہرحال امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہہی کی رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا اور فدیہ لینے کی رائے قرار پائی۔لیکن بعد ازاں   یہ آیت مبارکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کی موافقت میں   نازل ہوگئی:  (مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِؕ-تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا ﳓ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَؕ-وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ(۶۷)) (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۷)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ کسی نبی کو لائق نہیں   کہ کافروں   کو زندہ قید کرے جب تک زمین میں   ان کا خون خوب نہ بہائے تم لوگ دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ‘‘  ([1])

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ یعنی میں   نے اپنے رب کی تین چیزوں   میں   موافقت کی:  مقام ابراہیم میں   ،  حجاب میں   اور بدر کے قیدیوں   میں  ۔ ‘‘  ([2])

(5تا7)پانچویں   ،  چھٹی ،  ساتویں   آیت مبارکہ ،  حرمت شراب کا حکم:

شراب کی حرمت سے متعلقہ تین آیات مبارکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   نازل ہوئیں  ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یوں   دعا کی:  ’’ اللّٰهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءًیعنی یا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں   واضح حکم بیان فرما۔تو سورۂ بقرہ کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ) (پ۲ ،  البقرۃ: ۲۱۹)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں   تم فرما دو کہ ان دونوں   میں   بڑا گناہ ہے۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلایا گیا اور انہیں   یہ آیت مبارکہ سنائی گئی تو انہوں   نے دوبارہ یہی دعا کی:  ’’  ’’ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءًیعنی یَااللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں   واضح حکم بیان فرما۔تو سورہ نساء کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى) (پ۵ ،  النساء: ۴۳)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے ایمان والو نشہ کی حالت میں   نماز کے پاس نہ جاؤ ۔ ‘‘  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلایا گیا اور انہیں   یہ آیت مبارکہ سنائی گئی تو انہوں   نے دوبارہ یہی دعا کی:  ’’  ’’ اللَّهُمَّ بَيِّنْ لَنَا فِي الْخَمْرِ بَيَانًا شِفَاءًیعنی یَا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمارے لیے شراب کے بارے میں   واضح حکم بیان فرما۔تو سورۂ مائدہ کی یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)) (پ۷ ،  المائدۃ: ۹۱)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں   بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں   اور تمہیں   اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ۔ ‘‘  جب یہ تیسری آیت مبارکہ نازل ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِطمینان کا اظہار فرمایا۔([3])

(8)آٹھویں   آیت مبارکہ ،  اللہ بڑی برکت والاہے:

حضرت سیِّدُنا ابو خلیل صالح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب حسن اَخلاق کے پیکر ،  محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں   :  (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ(۱۲) ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪(۱۳) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاۗ-ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَؕ-) (پ۱۸ ،  المؤمنون: ۱۲تا۱۴)ترجمۂ کنز الایمان:    ’’ اور بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایاپھر اسے پانی کی بوند کیا ایک مضبوط ٹھہراؤ میں   پھر ہم نے اس پانی کی بوند کو خون کی پھٹک کیا پھر خون کی پھٹک کو گوشت کی بوٹی پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں   پھر ان ہڈیوں   پر گوشت پہنایا پھر اسے اور صورت میں   اٹھان دی ۔ ‘‘   تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یوں   فرمایا:   ’’ فَتَبَارَكَ اللہ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ ‘‘  تو یہی الفاظ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   نازل ہوگئے اور سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا:   ’’ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهٖ اِنَّهَا خَتَمَتْ بِالَّذِيْ تَكَلَّمْتَ يَا عُمَر یعنی اے عمر!اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے! یہ آیت مبارکہ تو بعینہ انہی الفاظ پر ختم کردی گئی ہے جو الفاظ تمہاری زبان سے نکلےتھے۔ ‘‘  ([4])

(9)نویں   آیت مبارکہ ،  منافقین کی نمازجنازہ اور تدفین کی ممانعت:

جب منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبد اللہ بن ابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنےجو مسلمان  ،  صالح  ،  مخلِص صحابی اور کثیر العبادت تھےیہ خواہش ظاہر کی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  اُن کے والد عبداللہ بن اُبی بن سلول کو کفن کے لئے اپنی قمیص مبارک عنایت فرمائیں   اور نمازِ جنازہ بھی پڑھائیں  ۔ یہ سن کر سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ان دونوں   امور کے ارادے سے آگے بڑھے تو حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میں   فوراً اٹھا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے بالکل سامنے کھڑا ہوگیا اور دست بستہ عرض کی:   ’’ اَعَلٰى عَدُوِّ اللہ ابْنِ اُبَيْ الْقَائِلِ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَایعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ دشمن خدا   عبد اللہ بن اُبی کی نماز جنازہ پڑھتے ہیں   ؟جس نے فلاں   فلاں   دن ایسی ایسی گستاخیاں   کی تھیں  ۔ ‘‘  لیکن سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اس منافق کو اپنی قمیص بھی عطا فرمائی اور اس کے جنازے میں   بھی شرکت فرمائی۔بعد میں   یہ آیت مبارکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   نازل ہوگئی:  (وَ



[1]   تفسیر خزائن العرفان ،  پ۱۰ ،  الانفال: تحت الآیۃ: ۶۷ ،  ص۳۵۰ ،   مسلم ،  کتاب الجھاد ،  باب الامداد۔۔۔الخ ،  ص۹۷۰ ،  حدیث: ۹۰۔

[2]   مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  باب من فضائل عمر ،  ص۱۳۰۶ ،  حدیث: ۲۴۔

[3]   ابو داود ، کتاب الاشربۃ ،  باب فی تحریم الخمر ،  ج۳ ،  ص۴۵۴ ،  حدیث: ۳۶۷۰۔

[4]   درمنثور ،  پ۱۸ ، المؤمنون ،  تحت الآیۃ: ۱۴ ،  ج۶ ،  ص۹۲۔



Total Pages: 349

Go To