Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فرمایا ،  پتا چلا کہ وہ جگہ شعائر اللہ بن گئی جس کی تعظیم ضروری ہوگئی۔

فرماتاہے:  (وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ ﳓ)  (پ۱۷ ،  الحج: ۳۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور قربانی کے ڈیل دار جانور اونٹ اور گائے ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں   سے کئے تمہارے لئے ان میں   بھلائی ہے۔ ‘‘  جو جانور قربانی کے لئے یا کعبہ معظمہ کیلئے نامزد ہوجائے وہ شعائر اللہ ہے اس کا احترام چاہیے جیسے قرآن کا جزدان اور کعبہ کا غلاف اور زمزم کاپانی اورمکہ شریف کی زمین۔ کیوں   ؟ اس لئے کہ ان کو رب یا رب کے پیاروں   سے نسبت ہے ان سب کی تعظیم ضروری ہے ۔

فرماتا ہے :  (لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲))  (پ۳۰ ،  البلد: ۱تا۲)ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں   تشریف فرما ہو۔‘‘ 

فرماتاہے:  (وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ(۱) وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ(۲) وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ(۳))  (پ۳۰ ،  التین: ۱تا۳) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ انجیر کی قسم اور زیتون اور طور سینااور اس امان والے شہر کی۔ ‘‘ 

طور سینا پہاڑ اور مکہ معظمہ اس لئے عظمت والے بن گئے کہ طو ر کو حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اور مکہ معظمہ کو حبیب اللہ سیِّدُنا الانام صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت ہوگئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارو ں   کی چیزیں   شعائر اللہ ہیں   جیسے قرآن شریف ،  خانہ کعبہ ،  صفا مروہ پہاڑ  ، مکہ معظمہ  ، بیت المقدس ،  طورسینا ،  مقابر اولیاء اللہ وانبیاء کرام  ،  آب زمزم وغیرہ۔ اورشعائر اللہ کی تعظیم و تو قیر قرآن کی رو سے تقویٰ ہے ۔ لہٰذاجو کوئی نمازی اور روزہ دار تو ہو مگر اس کے دل میں   تبرکات اور شعائر اللہ کی تعظیم نہ ہو یقیناً وہ حقیقی پر ہیز گا ر نہیں  ۔([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (2)دوسری آیت مبارکہ ، مسلمان عورتوں   کو پردے کا حکم:

حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ رسالت میں   عرض کیا:  ’’ اِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ لَوْاَمَرْتَ اُمَّھَاتَ الْمُؤْمِنِیْنَ بِالْحِجَابِ یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کے پاس نیک اور بد ہر قسم کے لوگ حاضر آتے ہیں    ،  پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم امہات المؤمنین کو حجاب میں   رہنے کا حکم دیں  ۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   یہ آیت حجاب نازل ہوگئی :  (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۵۹)) (پ۲۲ ، الاحزاب:  ۵۹)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے نبی اپنی بیبیوں   اور صاحبزادیوں   اور مسلمانوں   کی عورتوں   سے فرما دو کہ اپنی چادروں   کا ایک حصہ اپنے منھ پر ڈالے رہیں   یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو تو ستائی نہ جائیں   اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘‘   ([2])

(3)تیسری آیت مبارکہ ، ازواج مطہرات سے خطاب:

ایک بار دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  حضرت سیدتنا اُمّ المومنین حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر میں   رونق ا فروز ہوئے  ،  وہ آپ کی اجازت سے اپنے والد گرامی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کےلئے تشریف لے گئیں   ۔ان کے جانے کے بعدآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حضرت سیدتنا ماریہ قبطیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو خدمت سے سرفراز فرمایاتو یہ بات حضرت سیدتنا حفصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا پر گراں   گذری۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ان کی دلجوئی کےلئے فرمایا:   ’’  میں   نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیا ۔ ‘‘   وہ اس سے خوش ہوگئیں   اور نہایت خوشی میں   انہوں   نے یہ تمام گفتگو حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  کو بتادی ۔بعد ازاں   رب عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں   ازواج مطہرات سے تنبیہاً خطاب فرمایا۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس بات کا علم ہوا تو انہوں   نے ان دونوں   ازواجِ مطہرات سے ارشاد فرمایا:  ’’ عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ یعنی ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں   طلاق دے دیں   کہ انہیں   تم سے بہتر بیبیاں   بدل دے۔  ‘‘  توآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت میں   ان ہی الفاظ میں   یہ آیت مبارکہ نازل ہوگئی:  (عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ)  (پ۲۸ ،  التحریم: ۵)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ ان کا رب قریب ہے اگر وہ تمہیں   طلاق دے دیں   کہ انہیں   تم سے بہتر بیبیاں   بدل دے ۔ ‘‘  ([3])

(4)چوتھی آیت مبارکہ ،  بدرکے قیدیوں   کے متعلق رائے:

جب جنگ بدر میں   ستّر کافِر قید کرکے خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں   لائے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اُن کے متعلق صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے مشورہ طلب فرمایا۔ امیر المؤمنین خلیفہ رسول اللہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آپ کی قوم و قبیلے کے لوگ ہیں   میری رائے میں   انہیں   فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس سے مسلمانوں   کو قوت بھی پہنچے گی اور کیا بعید کہ اللہ تعالٰی اسی سبب سے انہیں   دولت اسلام سے سرفراز فرمادے۔ جبکہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا:  ’’  یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ان لوگوں   نے آپ کی تکذیب کی ،  آپ کو مکۂ مکرّمہ میں   نہ رہنے دیا یہ کُفر کے سردار اور سرپرست ہیں   ان کی گردنیں   اُڑائیں   ۔اللہ تعالٰی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فدیہ سے غنی کیا ہے ،  علی المرتضٰی کو عقیل پر اور حضرت حمزہ کو



[1]   علم القرآن ،  ۴۸ ،  عجائب القرآن مع غرائب القرآن ،  ص۶۸ماخوذا۔

[2]   بخاری ،  کتاب التفسیر ،  باب قولہ لا تدخلوا۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۳۰۴ ،  حدیث: ۴۷۹۰۔

[3]   خزائن العرفان ،  پ۲۸ ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۵ ،  ص۱۰۳۷ ،  عمدۃ القاری ،  کتاب الصلاۃ ،  باب ما جاء فی القبلۃ۔۔۔الخ ،  ج۳ ،  ص۳۸۹۔



Total Pages: 349

Go To