Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

زمانے میں   محفوظ رہا اور بِحَمْدِ اللہ تَعَالٰی کسی نے بھی اس کی پوجا نہیں   کی۔ 1967سے پہلے مقام ابراہیم کی حفاظت کے خاطر اَوّلاً ایک حفاظتی خول بنایا گیا۔ پہلے اس پتھر کو ایک چاندی کے

 

Description: C:Userskfmmr568Desktop3.PNG

صندوق میں   بند کرکے اس کے اوپر ایک گنبد نما کمرہ بنا دیا گیا جس کارقبہ اٹھارہ مربع میٹر تھا۔بعدازاں   طائفین کی راہ میں   رکاوٹ کے سبب اس عمارت کو ختم کرکے شیشے کا ایک خول تیار کیا گیا اورمقام ابراہیم کو ایک شاندار کرسٹل میں   نصب کرکے اس کے گرد لوہے کی مضبوط جالی لگادی گئی نیز اس کو سنگ مرمر کے ایک بڑے پتھر میں  نصب کردیا گیا۔ اس خول کے ڈھانچے کو پیتل سے بنا کر اندورنی جالی پر سونے کا پانی چڑھا یاگیا ہےاور بیرونی جانب دس ملی میٹر ایک ایسا شفاف شیشہ نصب کردیا گیا ہے جو  ’’ Bullet Proof ‘‘  ہونے کے ساتھ ساتھ  ’’ Heat Proof ‘‘   بھی ہے یعنی نہ تو اس پر گولی اثر کرسکتی ہےا ور نہ ہی سورج کی شعاعیں   وغیرہ۔اس شیشے میں   سے حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مبارک قدمین کی واضح طور پر زیارت کی جاسکتی ہے۔

شعائر اللہ کی تعظیم دلوں   کا تقوی ہے:

(6)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قدمین مبارکہ کی برکت سے مقام ابراہیم شعائرُ اللہ بن گیااوراس کی تعظیم ایسی لازم ہوگئی کہ طواف کے نفل اس کے سامنے کھڑے ہوکر پڑھنا قرار پائے۔معلوم ہوا کہ جس جگہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقدس بندوں   کا کوئی نشان موجود ہو وہ جگہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک بہت زیادہ عزت و عظمت والی ہے اور اس جگہ خدا کی عبادت خدا کے نزدیک بہت ہی بہتر اور محبوب تر ہے۔جب   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیاروں   کے قدم پڑجانے سے صفا مروہ اور مقام ابراہیم شعائر اللہ بن گئے اور قابل تعظیم ہوگئے تو انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے ان مزارات مقدسہ کی عظمت کیا ہوگی جن میں   ان حضرات کے نفوس قدسیہ بذات خود قیام فرما ہیں  ۔نیزسید الانبیاء والاولیاء ،  حضرت محبوب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قبر انور کی عظمت و بزرگی اور اس کے تقدس و شرف کا کیا عالم ہو گا کہ جہاں   حبیب خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صرف نشان ہی نہیں   بلکہ خدا کے محبوب اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پورا جسم انور موجود ہے اور اس زمین کا ذرہ ذرہ انوار نبوت کی تجلیوں   سے رشک آفتاب و غیرتِ ماہتاب بنا ہوا ہے۔ یقیناً یہ شعائر اللہ ہیں   اور ان کی تعظیم لازم ہے ۔ رب تعالیٰ قرآن پاک میں   ارشاد فرما تاہے :  ( فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًاؕ-رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْؕ-قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا(۲۱)) (پ ۱۵ ،    الکھف: ۲۱) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تو  بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ ان کا رب انہیں   خوب جانتا ہے وہ بولے جو اس کام میں   غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں   گے۔ ‘‘  اصحاب کہف کے غار پر جو ان کی آرام گاہ ہے گذشتہ مسلمانوں   نے مسجد بنائی اور رب نے ان کے کام پر ناراضگی کا اظہار نہ



Total Pages: 349

Go To