Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

بیان کرتے ہیں   اور قیامت تک کرتے رہیں   گے۔ اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ

سب صحابہ سے ہمیں   تو پیار ہے اِنْ شَآءَ اللّٰہ اپنا بیڑا پار ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

چودہواں باب

موافقاتِ فاروقِ اعظم
اس باب میں ملاحظہ کیجئے۔۔۔۔

قرآن پاک میں سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائےکے موافق احکام

سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقات کی چار اقسام کی تفصیل

سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کتاب اللہ سے موافقت

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقت میں نازل ہونے والی آیات مبارکہ

مقام ابراہیم سے متعلق اہم معلومات

شعائر اللہ کی تعظیم دلوں کا تقویٰ ہے۔

سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رسول  اللہ سے موافقت

سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے موافقت

سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقات سے متعلق دیگر واقعات

سیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دیگر  آسمانی کتابوں سے موافقت

٭…٭…٭…٭…٭…٭

موافقاتِ فاروقِ اعظم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگرچہ کسی شخص کی بات کا فی نفسہٖ (بذات خود ) درست ہونا ایک اچھا وصف ہےلیکن اس کی بات کو اگر کسی اور مسلمہ شخصیت کی تائید وتوثیق حاصل ہوجائے تو یہ اس سےبھی بڑھ کر کمال ہےکیونکہ یہ تائید وتوثیق اس کے لیے سند کا درجہ رکھتی ہے۔قربان جائیے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شان و عظمت پر! یوں   تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بے شمار فضائل وکمالات ہیں   مگر آپ کی  ’’ حکمت ودانائی ا ور پختہ فہم وفراست ‘‘  جیسی امتیازی خصوصیت کے سبب آپ کوبارگاہِ ربُّ العزت میں   وہ بلند مقام حاصل تھاکہ آپ کے اقوال ،  فیصلے اورمشوروں   کی موافقت کتاب اللہ اورتائید رسول اللہ سے ہوجاتی اور یقیناً جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ورسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تائید حاصل ہوجائے یہ اُس کی سعادتوں   کی معراج ہے۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی موافقت کے تو خود صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی تذکرے کرتے رہتے تھے۔چنانچہ ،

قرآن میں   آپ کی رائے کے موافق احکام:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں  :   ’’ اِنَّ فِی الْقُرْآنِ لَقُرْآناً مِنْ رَاْیِ عُمَریعنی یقیناً قرآن پاک میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی رائے کے موافق احکام موجود ہیں  ۔ ‘‘  ([1])

آپ کی رائے کے موافق نزول قرآن:

حضرت سیِّدُنا مجاہد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں   :   ’’ کَانَ عُمَرُ یَرَی الرَّاْیَ فَیَنْزِلُ بِہِ الْقُرْآنُ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب کوئی رائے پیش فرماتے تو اس کے مطابق قرآن پاک نازل ہوجاتا۔ ‘‘  ([2])

قرآن کریم آپ کی رائے کے مطابق نازل ہوتا:

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ :  ’’ جب کسی معاملے میں   مختلف صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے رائے طلب کی جاتی اورساتھ ہی میرے والد گرامی حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی اپنی رائے پیش کرتے تو قرآن کریم آپ کی رائے کے مطابق نازل ہوتا ۔ ‘‘([3])

ایک اہم وضاحت:

 



[1]   سیرۃ حلبیہ ،  باب الھجرۃ الاولی الی ارض الحبشۃ۔۔۔الخ ،  ج۱ ،  ص۴۷۴۔

                                                 تاریخ ابن عساکر ،  ج۴۴ ،  ص۹۵ ،  الریاض النضرۃ ،  ج۱ ، ص۲۹۸۔

[2]   تاریخ الخلفاء ،  ص۹۶ ،  الصواعق المحرقۃ ،   ص۹۹۔

[3]   فضائل الصحابۃ ، و من فضائل عمر بن الخطاب ،  ج۱ ،  ص۴۱۵ ،  حدیث: ۴۸۸ ،  تاریخ الخلفاء ،  ص۹۶۔



Total Pages: 349

Go To