Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آیت نمبر(12)…اللہ ورسول کے دشمنوں   سے دوستی نہ کرنا:

(لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُؕ-وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-اُولٰٓىٕكَ حِزْبُ اللّٰهِؕ-اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠(۲۲))  (پ۲۸ ،  المجادلۃ: ۲۲) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تم نہ پاؤ گے ان لوگوں   کو جو یقین رکھتے ہیں   اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں   ان سے جنہوں   نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کُنبے والے ہوں   یہ ہیں   جن کے دلوں   میں   اللہ نے ایمان نقش فرما دیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں   باغوں   میں   لے جائے گا جن کے نیچے نہریں   بہیں   ان میں   ہمیشہ رہیں   اللہ ان سے راضی اور وہ اللہسے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے سنتا ہے اللہہی کی جماعت کامیاب ہے ۔اس آیت مبارکہ میں   لفظ  ’’ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْ ‘‘   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   نازل ہوا ہے جب جنگ بدر میں   انہوں   نے اپنے رشتہ دار ماموں   عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا۔([1])

آیت نمبر(13)… بارگاہِ رسالت کے مشیر:

(فَاعْفُ  عَنْهُمْ  وَ  اسْتَغْفِرْ  لَهُمْ  وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِۚ-فَاِذَا  عَزَمْتَ  فَتَوَكَّلْ  عَلَى  اللّٰهِؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  یُحِبُّ  الْمُتَوَكِّلِیْنَ(۱۵۹))  (پ۴ ، آل عمران:  ۱۵۹)ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ تو تم انہیں   معاف فرماؤ اور ان کی شفاعت کرو اور کاموں   میں   ان سے مشورہ لو اور جو کسی بات کا ارادہ پکا کر لو تو اللہپر بھروسہ کروبے شک توکل والے اللہکو پیارے ہیں  ۔ ‘‘ 

سیِّدُنا امام جلال الدین سیوطی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس آیت کی تفسیر میں   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہما کا قول نقل فرماتے ہیں   کہ یہ آیت مبارکہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے بارے میں   نازل ہوئی۔ حضرت عبدالرحمٰن بن غنم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے روایت ہےنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سےارشاد فرمایا:  ’’ ا گر تم دونو ں   کسی مشورےپر متفق ہو جاؤ تو میں   تمہاری مخالفت نہیں   کروں   گا۔ ‘‘  ([2])

آیت نمبر(14)… آوازپست کرنے والے:

(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ) الآیۃ۔ (پ۲۶ ،  الحجرات: ۲)

ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے ایمان والو اپنی آوازیں   اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے اور ان کے حضور بات چِلّا کر نہ کہو۔ ‘‘ 

جب مذکورہ بالا آیت مبارکہ نازل ہوئی تو حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق و عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور بعض صحابہ نے بہت احتیاط لازم کرلی اور خدمتِ اقدس میں   بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے پھر اِن حضرات کے حق میں   یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی :  ( اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى١ؕلَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) (پ۲۶ ، الحجرات ،  ۳)ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ بے شک وہ جو اپنی آوازیں   پست کرتے ہیں   رسول اللہ کے پاس وہ ہیں   جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لئے پرکھ لیا ہے ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ ‘‘  ([3])  

آیت نمبر(15)… اوصاف حمیدہ:

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  سے روایت ہے کہ یہ آیت مبارکہ شیخین کریمین یعنی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کے حق میں   نازل ہوئی:  (اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ-قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۹)) (پ۲۳ ، الزمر: ۹) ترجمۂ کنز الایمان:   ’’ کیا وہ جسے فرمانبرداری میں   رات کی گھڑیاں   گزریں   سجود میں   اور قیام میں   آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے کیا وہ نافرمانوں   جیسا ہو جائے گا تم فرماؤ کیا برابر ہیں   جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں   جو عقل والے ہیں  ۔ ‘‘   ([4])

آیت نمبر(16)…ایمان والوں   کا اجر:

(اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ(۳۰)) (پ۱۵ ،  الکھف: ۳۰) ترجمۂ کنزالایمان:  ’’ بے شک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ(اجر) ضائع نہیں   کرتے جن کے کام اچھے ہوں   ۔ ‘‘  یہ آیت مبارکہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق ، سیِّدُنا عمر فاروق ،  سیِّدُناعثمان غنی اورسیِّدُناعلی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کے بارے میں   نازل ہوئی ،  ان چاروں   کی موجودگی میں   ایک اعرابی نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا:   ’’ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ آیت کس کے بارے میں   نازل ہوئی ہے؟ ‘‘   توارشاد فرمایا:   ’’ اپنی قوم کو بتادو کہ یہ آیت مبارکہ ان چاروں   کے بارے میں   نازل ہوئی ہے۔ ‘‘  ([5])

آیت نمبر(17)…تواضع کرنے والے:

 



[1]   خازن ،  پ۲۸ ،  المجادلۃ ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ج۴ ،  ص۲۴۳۔

[2]   در منثور ، پ۴ ،  آل عمران ،  تحت الآیۃ: ۱۵۹ ،  ج۲ ،  ص۳۵۹۔

[3]   البحر المحیط ،  پ۲۶ ،  الحجرات ،  تحت الآیۃ: ۳ ، ۲ ، ج۸ ،  ص۱۰۶۔

[4]   خازن ،  پ۲۳ ،  الزمر ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ج۴ ،  ص۵۰۔

[5]   المحرر الوجیز  ، پ۱۵ ، الکھف ،  تحت الآیۃ:  ۳۰ ،  ج۳ ،  ص۵۱۵۔



Total Pages: 349

Go To