Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

فقط سیِّدُنا فاروقِ اعظم  وسیِّدُصدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں کی شان میں نازل کردہ آیات

سیِّدُنا فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دیگر  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی شان میں نازل کردہ آیات

٭…٭…٭…٭…٭…٭

 

فاروقِ اعظم کی شان میں   نازل ہونے والی آیات

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شان میں   نازل ہونے والی آیات کی دو قسمیں   ہیں  :  (۱) آیات فضیلت:  وہ آیات جو مطلقاً آپ کی فضیلت میں   نازل ہوئیں  ۔پھر اس میں   وہ آیات بھی شامل ہیں   جو شیخین یعنی حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق وسیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں   کے حق میں   نازل ہوئیں   یا حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بارے میں   بھی نازل ہوئیں  ۔(۲) آیات موافقات:  وہ آیات جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی رائے کی موافقت میں   نازل ہوئیں  ۔ان دونوں   قسموں  کی مجموعی آیات کی تعداد 41ہے۔اَوّلاً اُن آیات کو بیان کیا جاتا ہے جو فقط فضیلت میں   نازل ہوئی ہیں  ۔اور اِن کے بعد اُن آیات کو بیان کیا جائے گا جو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی موافقت میں   نازل ہوئی ہیں  ۔

آیت نمبر(1)…پیروکار مسلمان کافی ہیں  :

حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ دو عالم کے مالِک و مختار ،  مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر ۳۹ لوگ ایمان لاچکے تھے ۔ پھر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمان ہوئے اور مسلمانوں   کی تعداد چالیس ہوگئی تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:  (یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴))  (پ۱۰ ،  الانفال: ۶۴)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اے غیب کی خبریں   بتانے والے نبی اللہ تمہیں   کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے۔ ‘‘  ([1])

آیت نمبر(2)… رسول اللہ کی طرف رجوع کا حکم:

ایک بار سُلْطَانُ الْمُتَوَکِّلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے جدائی اختیار فرمالی۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  میں   یہ مشہور ہوگیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب معلوم ہوا تو فورا کاشانۂ نبوت میں   حاضر ہوئےاور جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  سے استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط ہے۔ بعد ازاں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مسجد نبوی آئے اور اعلان کردیا کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنی ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو طلاق نہیں   دی۔تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:  (وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖؕ-وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۳)) (پ۵ ،  النساء: ۸۳)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور جب اُن کے پاس کوئی بات اطمینان یا ڈر کی آتی ہے اس کا چرچا کر بیٹھتے ہیں   اور اگر اس میں   رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں   کی طرف رجوع لاتے تو ضرور ان سے اُس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بعد میں   کاوش کرتے ہیں   اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے مگر تھوڑے ۔ ‘‘  ([2])

آیت نمبر(3)…مردے کو زندگی دے دی:

حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ یہ آیت مبارکہ حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور ابوجہل کے بار ے میں   نازل ہوئی:  (اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۲۲)) (پ۸ ، الانعام: ۱۲۲)ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور کیا وہ کہ مُردہ تھا تو ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور کر دیا جس سے لوگوں   میں   چلتا ہے وہ اس جیسا ہو جائے گا جو اندھیریوں   میں   ہے اُن سے نکلنے والا نہیں   یوں   ہی کافروں   کی آنکھ میں   ان کے اعمال بھلے کر دیئے گئے ہیں   ۔ ‘‘  ([3])

آیت نمبر(4)…نیک ایمان والے مددگار ہیں  :

(فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-)  (پ۲۸ ،  التحریم: ۴) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ تو بیشک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے۔ ‘‘  حضرت سیِّدُنا سعید بن جبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے فرماتے ہیں  :   ’’ آیت مبارکہ کا یہ حصہ ’’ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ‘‘   خاص طور پر امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں   نازل ہوا۔([4])

آیت نمبر(5)… رب عزوجل قریب ہے:

(وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-) (پ۲ ،  البقرۃ: ۱۸۶) ترجمۂ کنزالایمان:   ’’ اور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں   تو میں   نزدیک ہوں   ۔ ‘‘ 



[1]   معجم کبیر ، احادیث عبداللہ ابن عباس ، ج۱۲ ،  ص۴۷ ،  حدیث: ۱۲۴۷۰۔

[2]   مسلم  ، کتاب الطلاق  ، فی الایلاء واعتزال النساء ، ص۷۸۴ ،  حدیث: ۳۰  ملتقطا۔

[3]   در منثور ،  پ۸ ،  الانعام ،  تحت الآیۃ: ۱۲۲ ،  ج۳ ،  ص۳۵۲۔

[4]   در منثور ،  پ۲۸ ،  التحریم ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ج۸ ،  ص۲۲۳۔



Total Pages: 349

Go To