Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق گفتگو فرمارہے تھے ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:   ’’ يَا جِبْرِيْلُ!اُذْكُرْ لِيْ فَضَائِلَ عُمَر وَمَالَهُ عِنْدَ اللہ یعنی اے جبریل! میرے سامنے عمر کے فضائل اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں   ان کا مقام ومرتبہ بیان کرو۔ ‘‘  تو سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا:   ’’ لَوْ جَلَسْتُ مَعَكَ مِثْلَ مَا جَلَسَ نُوْحٌ فِيْ قَوْمِه مَا بَلَغْتُ فَضَائِلَ عُمَر وَلَيَبْكِيَنَّ الْاِسْلَامُ بَعْدَ مَوْتِكَ يَا مُحَمَّدُ عَلٰى عُمَر یعنی یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر میں   آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بیٹھ کر اتناعرصہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل بیان کروں   جتنا حضرت سیِّدُنا نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی قوم میں  (تبلیغ کے لیے) ٹھہرے رہے(یعنی نو سوپچاس سال) تب بھی حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل بیان نہ کرسکوں  اور یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اسلام آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری پرروئے گا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات گرامی کے وصال پر روئے گا۔ ‘‘  ([1])

ہمیں   فاروقِ اعظم سے پیار ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حُجَّۃُ اللہ عَلَی الْعٰلَمِیْن ،  وزیر سیدالمرسلین ،  مُحبُّ المسلمین ،  امیرالمؤمنین حضرت ِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عالیشان مرتبہ عطافرمایا اور بہت زیادہ عزّت وشرافت اور فَضائل وکرامات سے نوازا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی شانِ رِفعت نشان کو تسلیم کرنا ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو برحق جان کر راہِ ہدایت کا روشن مینار سمجھنا اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے محبت وعقیدت رکھنا بہت ضروری ہے جیسا کہ جلیل القدر صحابی حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید خُدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں  کہ محبوبِ ربِّ دو جہان ،  شاہِ کون ومکان ،  سروَرِ ذیشان صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ توجُّہ نشان ہے:  مَنْ اَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ اَبْغَضَنِیْ وَمَنْ اَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ اَحَبَّنِیْ یعنی جس شخص نے عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی۔([2])

وہ عمر وہ حبیبِ شہ بحر و بر

وہ عمر خاصۂ ہاشمی تاجور

وہ عمر کھل گئے جس پہ رحمت کے در

وہ عمر جس کے اعداء پہ شیدا سَقَر

اُس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں   سلام

صحابہ کرام کی عظمت وشان:

            دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ ۲۹۱صفحات پر مشتمل کتاب  ،   ’’  سَوانح کربلا‘ ‘ صفحہ۳۱ پر حدیث پاک منقول ہے:  حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مُغَفَّل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے ،  محبوبِ ربُّ العباد عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ حقیقت بنیاد ہے:   ’’ میرے اَصحاب کے حق میں   خدا سے ڈرو ،  خدا کا خوف کرو ،  اِنہیں   میرے بعد نشانہ نہ بنائو ،  جس نے اِنہیں   محبوب رکھا میری محبت کی وجہ سے محبوب (یعنی پیارا) رکھا اور جس نے اِن سے بُغض کیا اُس نے مجھ سے بُغض کیا ،  جس نے اِنہیں   اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی ،  جس نے مجھے اِیذا دی بے شک اُس نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اِیذا دی ،  جس نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اِیذا دی قریب ہے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُسے گِرِفتار کرے۔ ‘‘  ([3])

ہم کو اصحابِ نبی سے پیار ہے

اِنْ شَآءَ اللّٰہ اپنا بیڑا پار ہے

صدرالافاضِل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں  :  ’’ مسلمان کو چاہیے کہ صَحابۂ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) کا نہایت ادَب رکھے اور دل میں   اُن کی عقیدت ومحبت کو جگہ دے۔ اُن کی محبت حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی محبت ہے اور جو بد نصیب صحابہ کرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  ) کی شان میں   بے ادَبی کے ساتھ زَبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول (عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہے  ، مسلمان ایسے شخص کے پاس نہ بیٹھے۔ ‘‘   (سوانحِ کربلا ص۳۱ )میرے آقا اعلیٰ حضرت  ،  اِمامِ اَہلسنّت  ،  مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  :  

اہلسنّت کا ہے بیڑا پار اصحاب حضور

نجم ہیں   اور نائو ہے عترت رسول اللہ کی

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ وعشقِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پانے ، دل میں   صحابہ کرام واولیائِ عُظام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی محبت جگانے  ، نیک صحبتوں   سے فیض اُٹھانے  ،  نمازوں   اور سنّتوں   کی عادت بنانے کیلئے دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہر دم وابستہ رہئے ،  عاشقانِ رسول کے مدنی قافلوں   میں   سنّتوں   کی تربیت کیلئے سفر اختیار کیجئے اورکامیاب زندگی گزارنے اور اپنی آخِرت سنوارنے کیلئے روزانہ ’’ فکر مدینہ ‘‘   کے ذریعے مدنی انعامات کا رِسالہ پُر کیجئے اور ہر مَدَنی ماہ کے ابتدائی ۱۰دن کے اندر اندر اپنے یہاں   کے ذمّے دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے۔ ہفتہ وار سنّتوں   بھرے اجتِماع میں   شرکت کیجئے اور دعوتِ اسلامی کے ہر دلعزیز مَدَنی چینل کے سلسلے دیکھئے۔

 

 



[1]   اللالی المصنوعۃ ،  ج۱ ،  ص۲۷۸۔

[2]   معجم اوسط ،  بقیۃ ذکر من اسمہ محمد ،  ج۵ ،  ص۱۰۲ ،  حدیث: ۶۷۲۶ ملتقطا۔

[3]   ترمذی ،  کتاب المناقب ،  باب فی من سبّ اصحاب النبی ،  ج۵ ،  ص۴۶۳ ،  حدیث: ۳۸۸۸۔



Total Pages: 349

Go To