Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

(7)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تجسس اور چاپلوسی جیسی گندی عادات سے پاک تھے۔

(8)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی جھوٹ وغلط بیانی کا سہارا نہ لیا۔

(9)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مکرو فریب اور دھوکہ دہی سے اجتناب فرماتے تھے۔

(10)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہظلم وتشدد جیسی بری صفات سے ہمیشہ پاک وصاف رہے۔

(11)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ذکر اللہ کی کثرت کیا کرتے تھے۔

(12)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عاجزی وانکساری کو پسند فرماتے تھے۔

(13)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نہایت متقی وپرہیزگار تھے۔

(14)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ باکمال فہم وفراست کے مالک تھے۔

(15)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خوف خدا میں   گریہ وزاری کرتے تھے۔

(16)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کابھی خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔

(17)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حقوق اللہ میں   کسی شخص کی ملامت کی پرواہ نہیں   کرتے تھے۔

(18)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ناموس رسالت کے معاملے میں   کسی کی رعایت نہیں   کرتے تھے۔

(19)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اہل بیت سے خصوصی محبت رکھتے تھے۔

(20)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ حقوق العباد کی پاسداری فرماتے تھے۔

(21)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پابندیٔ وقت کا خیال رکھتے اوروقت کے ضیاع سے بچتے تھے۔

(22)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نیکی کی دعوت دینے اور برائیوں   سے منع کرنے والے تھے۔

(23)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ چھوٹے بچوں   پر شفقت فرماتے تھے۔

(24)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بزرگوں   کا ادب واحترم کرنے والے تھے۔

(25)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اُمور خیر میں   سبقت کرنے والے تھے۔

(26)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مریضوں   کی عیادت کرنے والے تھے۔

(27)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لواحقین سے تعزیت فرمانے والے تھے۔

(28)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ منافقین پر شدت فرمانے والے تھے۔

(29)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ عبادات کا خصوصی اہتمام فرمانے والے تھے۔

(30)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ راہ خدا میں   صدقہ وخیرات کرنے والے تھے۔

(31)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سخاوت کو پسند فرماتے تھے۔

(32)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کنجوسی اور بخل سے نفرت کرتے تھے۔

(33)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمیشہ فکر آخرت میں   مشغول رہتے تھے۔

(34)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کثرت سے تلاوت قرآن فرماتے تھے۔

(35)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا فرمانے والے تھے۔

(36)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی رعایا کے ساتھ حسن سلوک فرمانے والے تھے۔

(37)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ ورسول کی معرفت رکھنے والے تھے۔

(38)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجدوں   کو آباد فرمانے والے تھے۔

(39)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دین میں   تفقہ رکھنے والے تھے۔

(40)…سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہر معاملے میں   شریعت کی پاسداری فرمانے والے تھے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فضائل وکمالات ،  معنوی کرامات ،  اوصاف حمیدہ پر آج تک جتنی کتب تصنیف کی گئی ہیں   ان میں   صرف آپ کے وہی فضائل ومناقب بیان کیے گئے ہیں   جن کا روایات میں   کسی نہ کسی طرح تذکرہ آگیا ،  لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اوصاف کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہی نہیں   بلکہ ناممکن ہے۔ چنانچہ ،  

حضرت سیِّدُنا ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ،  فرماتے ہیں   کہ ایک بار سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام



Total Pages: 349

Go To