Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

جماعت میں    ’’ اشتر ‘‘  نام کا ایک شخص بھی تھا ،  دوسرے لوگوں   کی بنسبت میرا اُن سے قریبی تعلق تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاُسے باربار جلالی نگاہوں   سے دیکھتے رہے پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ  ’’ کیا یہ شخص تمہارے ہی قبیلہ کا ہے ؟ ‘‘  میں   نے عرض کیا:  ’’ جی ہاں  ۔ ‘‘   اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اللہ تعالٰی اس کو غارت کرے اور اس کے شروفساد سے اس امت کو محفوظ رکھے ۔ ‘‘   امیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس دعا کے بیس برس بعد جب باغیوں   نے حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کیا تو یہی  ’’ اشتر ‘‘  اس باغی گروہ کا ایک بہت بڑا لیڈر تھا۔([1])

ایک خارجی کے متعلق پیشن گوئی:

اسی طرح ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہملک شام کے کفار سے جہاد کرنے کے لیے لشکر بھرتی فرمارہے تھے۔ اچانک ایک گروہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے انتہائی کراہت کے ساتھ ان سے منہ پھیرلیا۔ پھر دوبارہ یہ لوگ آپ کے روبروآئے تو آپ نے منہ پھیرکر ان لوگوں   کو اسلامی فوج میں   بھرتی کرنے سے انکار فرمادیا۔ لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اِس طرز عمل پرانتہائی حیران تھے لیکن آخر میں   یہ راز کھلا کہ اس گروہ میں    ’’ اسودتجیبی ‘‘  بھی تھا جس نے اس واقعہ سے بیس برس بعد حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی تلوار سے شہید کیا اوراس گروہ میں   عبدالرحمن بن ملجم مرادی بھی تھا جس نے اس واقعہ سے تقریباًچھبیس برس کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنی تلوار سے شہید کرڈالا۔([2])

فاروقِ اعظم کو تقدیر کاحال معلوم ہوجاتاتھا:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا کرامتوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ربیعہ بن امیہ بن خلف کے خاتمہ کے بارے میں   برسوں   پہلے یہ خبر دیدی کہ وہ کافر ہوکرمرے گا اوربیس برس پہلے آ پ نے  ’’ اشتر ‘‘  کے شروفساد سے امت کے محفوظ رہنے کی دعامانگی اور ’’ اسودتجیبی ‘‘  سے اس بناء پر منہ پھیرلیا اوراسلامی لشکر میں   اس کو بھرتی کرنے سے انکار کردیا کہ یہ دونوں   حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قاتلوں   میں   سے تھے اورچھبیس برس پہلے آپ نے عبدالرحمن بن ملجم مرادی کو بنظر کراہت دیکھا اوراسلامی لشکر میں   اس بناء پر بھرتی نہیں   فرمایا کہ وہ حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا قاتل ہوگا۔ ان مستندروایتوں   سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم اور اس کی عطا سے لوگوں   کی تقدیروں   کا حال معلوم ہوجاتا ہے۔ اسی لئے حضرت مولانا جلال الدین رومی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنی مثنوی شریف میں   فرماتے ہیں  :

لوح محفوظ است پیش اولیاء

از چہ محفوظ است محفوظ از خطا

 یعنی  ’’ لوح محفوظ ‘‘   اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کے پیش نظر رہتی ہے جس کو دیکھ کر وہ انسانوں   کی تقدیروں   میں   کیا لکھا ہے۔اس کو جان لیتے ہیں  ۔ ’’  لوح محفوظ ‘‘   کو اس لئے  ’’ لوح محفوظ ‘‘   کہتے ہیں   کہ وہ غلطیوں   اورخطاؤں   سے محفوظ ہے ۔

(19)فاروقِ اعظم نے جیسا کہا ویسا ہی ہوا:

حضرت سیِّدُنا یحییٰ بن سعید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک شخص سے پوچھا:   ’’ مَااسْمُکَ یعنی تمہارا نام کیا ہے؟  ‘‘  وہ کہنے لگا :  ’’ جَمْرَہ یعنی اَنگارا ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پھر پوچھا:   ’’ اِبْنُ مَنْ یعنی کس کے بیٹے ہو ؟ ‘‘   اس نے جواب دیا:  ’’ اِبْنُ شِھَابٍ یعنی شعلوں   کا بیٹا  ‘‘  آپ نے فرمایا:  ’’ مِمَّنْ یعنی کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو ؟ ‘‘  کہنے لگا:   ’’ اَلْحُرْقَۃُ یعنی جلن سے ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا:   ’’ اَیْنَ مَسْکَنُکَ یعنی رہتے کہاں  ہو؟ ‘‘  اس نے کہا:  ’’  بِحَرَّۃِ النَّار یعنی تپش میں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ بِاَیِّھَا یعنی کس قبیلے سے تعلق ہے؟ ‘‘   اس نے کہا:  ’’  بِذَاتِ لَظٰی یعنی شعلے سے  ‘‘  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:   ’’ اَدْرِکْ اَھْلَکَ فَقَدِ احْتَرَقُوْا یعنی جلدی جلدی گھر پہنچو تمہارے گھر والے جل چکے ہیں۔ ‘‘  یہ سن کر وہ شخص بہت تیزی سے اپنے گھر والوں   کی طرف لوٹا لیکن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے فرمان کے مطابق وہ سب جل چکے تھے۔ ‘‘  ([3])

خبردی آگ لگ جانے کی حرا کے ساکن کو

کرامت سب پہ ظاہر ہوگئی فاروقِ اعظم کی

ہیں   یہ صدیق فیضان صدیق اکبر سے

کہ ہے صدیق ہونا بھی کرامت فاروق اعظم کی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(20)فاروقِ اعظم اللہ کےنور سے دیکھتے ہیں  :

حضرت سیِّدُنا مولا علی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں  :  ’’  میں   نے خواب میں  سرکار مدینہ ،  راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی زیارت کی ،  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نماز فجر ادا فرمارہے تھے۔نماز کی ادائیگی کے بعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  دیوار سے ٹیک لگا کر تشریف فرما ہوئے۔ اتنے میں   ایک بچی نے ترکھجوروں  کا تھال لا کر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی



[1]   ازالۃ الخفاء  ، ج۴ ، ص۹۷ ، ۱۰۹ ،  الریاض النضرۃ ،  ج۱ ،  ص۳۲۵۔

[2]   ازالۃ الخفاء  ،  ج۴ ،  ص۱۰۹۔

[3]   موطا امام مالک  ، کتاب الاستئذان ،  باب ما یکرہ من الاسماء ،  ج۲ ،  ص۴۵۴ ،  حدیث: ۱۸۷۱۔



Total Pages: 349

Go To