Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

یَا غَائِباً مَا یَئُوْبُ مِنْ سَفَرٍ عَاجَلَہُ عَلَی صِغْرِہٖ

ترجمہ:   ’’ اے جانے والے ! تیری سفر سے واپسی ممکن نہیں   ،  تجھے موت نے بچپن میں   ہی آلیا۔ ‘‘ 

یَا  قُرَّۃَ  الْعَیْنِ  کُنْتَ  لِیْ  اُنْساً  فِیْ طُوْلِ لَیْلِیْ نَعَمْ وَ فِیْ قَصْرِہٖ

ترجمہ:   ’’  اے میری آنکھوں  کی ٹھنڈک ! چھوٹی اور لمبی راتوں   میں  تو میری انسیت کا باعث تھا۔ ‘‘ 

مَا  تَقَعُ   الْعَیْنُ  حِیْنَ  مَا  وَقَعَتْ فِی الْحَیِّ مِنِّی الْاَعْلٰی اَثَرِہٖ

ترجمہ:   ’’  جب میں   محلے میں   چلتا ہو ں   تو تیر ے ننھے ننھےقدموں   کے نشانا ت پر آنکھیں   گڑ کر رہ جاتی ہیں  ۔ ‘‘ 

شَرِبْتَ کَاْساً اَبُوْکَ شَارِبُہُ لَا بُدَّ مِنْہُ لَہُ عَلٰی کِبَرِہٖ

ترجمہ:   ’’  تونے موت کا وہ جام ابھی سے پی لیا ہے جو تیرے باپ نے بڑھاپے میں   پینا تھا۔ ‘‘ 

تو نے نوعمر ی میں   مو ت کا جام پیا ہے اورمجھے اس بڑھاپے میں   غم کا پیالا پینا پڑا ہے۔ ‘‘ 

بِشُرْبِھَا وَالْآنامُ کُلُّھُمْ مَنْ کَانَ فِیْ بَدْوِہٖ وَفِیْ حَضْرِہٖ

ترجمہ:   ’’  یہ جام تو ہر کسی نے پینا ہے خوا ہ وہ شہری ہو یا دیہاتی ۔ ‘‘ 

فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ لَا شَرِیْکَ لَہُ فِیْ حُکْمِہٖ کَانَ ذَا وَفِیْ قَدْرِہٖ

ترجمہ:   ’’  تمام تعریفیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے ہیں   جس کا کوئی شریک نہیں   ،  اس کے فیصلے اور تقدیرمیں   ایسا ہی مقدر تھا۔ ‘‘ 

قَدَّرَ موتاً عَلَی الْعِبَادِ فَمَا یَقْدِرُ خَلْقٌ یَزِیْدُ فِیْ عُمْرِہٖ

ترجمہ:   ’’  اسی نے بندوں   کے لئے مو ت مقد ر فرمائی ہے اسی لیے کوئی اپنی عمر بڑھا نہیں   سکتا۔ ‘‘ 

یہ درد بھر ے اشعار سن کر امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی اور فرمایا :  ’’ اے اعرابی! تو نے سچ کہا ۔ ‘‘    ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جہاں   اس واقعے سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ کرامت ظاہر ہوتی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس شخص کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور اس کے اشعار کی پہلے ہی خبر دے دی تھی وہیں   ان حکمت بھرے اشعار سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ موت برحق ہے ،  موت نہ تو بچے کو دیکھتی ہےاور نہ ہی جوان وبوڑھے کو۔ موت کا جو وقت مقرر ہے وہ اس وقت پہ آکر ہی رہے گی ۔ کئی ہنستے کھیلتے نوجوان اچانک موت کا شکار ہو کر اندھیری قبر میں   چلے جاتے ہیں  ۔ہمیں   بھی یونہی ایک دن مرنا پڑے گااور اندھیری قبر میں   اترنا پڑے گا۔ یقیناً سمجھدار وہی ہے جسے جتنا دنیا میں   رہنا ہے اتنا دنیا کے لیے اور جتنا آخرت میں   رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری میں   مشغول رہے۔آخرت کی تیاری کا ایک بہترین ذریعہ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مدنی ماحول بھی ہے ،  اگر آپ ابھی تک اس مدنی ماحول سے وابستہ نہیں   ہوئے تو فی الفور اس مدنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ،  دعوت اسلامی کے اجتماعات میں   شرکت کیجئے ،  مدنی قافلوں   میں   سفر کیجئے ،  مدنی انعامات پر عمل کیجئے اور اپنی آخرت کی بہتری کا سامان کیجئے۔

اسی ماحول نے ادنی کو اعلی کر دیا دیکھو

اجالا ہی اجالا ہی اجالا کر دیا دیکھو

اللہ کرم ایسا کرے تجھ پہ جہاں   میں 

اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(18)مستقبل میں   ہونے والے واقعات کی خبریں  :

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ایک دن امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ٹھنڈا سانس لیا جس سے مجھے یہ گمان ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے ،  پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے آسمان کی جانب سر اٹھایا اور ایک درد بھری آہ لی۔ میں   نے عرض کیا:   ’’ اے امیر المؤمنین!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جو درد بھری آہ لی ہے ، ایسا لگتا ہے جیسے آپ کسی اہم معاملے کے بارے میں   سوچ رہے ہیں  ۔ ‘‘  فرمایا:  ’’  ہاں   واقعی بہت اہم معاملہ ہے۔دراصل میں   اس لیے پریشان ہوں   کہ اپنے بعد کسے منصب خلافت پر فائز کروں  ۔ ‘‘   حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ میں   نے حضرت سیِّدُنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  ،  حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عبید اللہ  ،  حضرت سیِّدُنا زبیر بن عوام  ،  حضرت سیِّدُنا عثمان غنی ،  حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص اور حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عوف رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  کے نام پیش کیے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہر ایک کے بار ے میں   مستقبل میں   پیش آنے والی کوئی نہ کوئی مشکل ظاہر کی۔([2])

ایک باغی کے متعلق پیشن گوئی:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکہتے ہیں   کہ ہمارے قبیلہ کا ایک وفد امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہِ خلافت میں   آیا تو اس



[1]   مرقاۃ المفاتیح  ، کتاب المناقب  ، مناقب عمر بن خطاب  ، ج۱۰ ،  ص۴۱۶۔

[2]   تاریخ ابن عساکر  ، ج۴۴ ،  ص۴۳۸ ملتقطا۔



Total Pages: 349

Go To