Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے زیادہ قریب بیٹھنے کی سعادت ملی۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں   موجود ایک شخص پر سرسری سی نظر ڈال کرپھیر لی۔ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھ سےمخاطب ہو ئے اور ارشاد فرمایا:  ’’ کیا یہ شخص بھی تمہارے وفد میں   شامل ہے؟ ‘‘  میں   نے کہا:  ’’  جی ہاں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہلاک فرماکر اپنے محبوب ،  دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی اُمت کو اس کے شر سے بچائے ، میرے خیال میں   اس شخص کے باعث مسلمانو ں   پر تکلیفوں   بھرا زمانہ آئے گا۔ ‘‘  ([1])

(15)مبارک فرزند کی بشارت:

            ایک دن امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نیند سے بیدار ہوئے اور اپنی آنکھیں   ملتے ہوئے کئی بار یہ بات ارشاد فرمائی:   ’’ عمر کی اولاد میں   سے نہ جانے کون اس شخص کو دیکھے گا جو عمر کی سیرت پر عمل کرنے والا ہوگا۔ ‘‘  (آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا اشارہ حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی جانب تھاجو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فرزند ’’ حضرت سیِّدُنا عاصم بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ‘‘   کے نواسے تھے)         ([2])

(16)آگ سے نجات پر فاروقِ اعظم کی مبارک باد:

حضرت سیِّدُنا ابو مسلم خولانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیمن میں   قیام پذیر تھے کہ اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کردیا  ، جب  اسے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے بارے میں   پتہ چلا تواس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو فوراًپکڑ کر لانے کا حکم دیا۔جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکواس کے سامنے پیش کیاگیا تو اس نے کہا:  ’’ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں  ۔ ‘‘  حضرت سیِّدُناابو مسلم خولانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ مجھے سنائی نہیں   دیا کہ تم نے کیا کہا؟ ‘‘   اسودعنسی نے دوبارہ کہا:  ’’ کیاتم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمدصَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا:  ’’ جی ہاں  ۔  ‘‘  اس نے پھر کہا:  ’’ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے جواب دیا :  ’’ مجھے سمجھ نہیں   آیا کہ تم نے کیا کہا؟ ‘‘  اس بات سے اسود عنسی کو بہت طیش آیا اور اس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو آگ میں  جلانے کا حکم دیا۔جب آگ کے شعلے بلند ہونے لگے تو اس ظالم نےبھڑکتی آگ میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ڈال دیا  ، لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو ذرہ برابر نقصان نہ پہنچا۔جب اسو د عنسی نے آپ کی یہ کرامت دیکھی تو ہکا بکا رہ گیا  ، اس کی حالت دیکھ کر اس کے نام نہاد مخلص دوستوں   نے مشورہ دیا:   ’’ اگر تو نے اس کو یمن سے نہ نکالا تو یہ تیرے پیروکاروں   کو بھی مخالف بنادے گا۔ ‘‘  اسود عنسی کو یہ مشورہ نہایت بھلا لگالہٰذا اس نے حضرت سیِّدُنا ابومسلم خولانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یمن سے نکال دیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہیمن سے مدینہ منورہ حاضر ہوئے (اس وقت شہنشاہِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   دنیا سے پردہ فرما چکے تھے اور حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلیفہ مقرر ہو چکے تھے لہٰذا)آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے مسجد نبو ی شریف حاضر ہوئےاور نماز ادا فرمائی ۔اتفاق سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبھی مسجد میں   موجو د تھے ۔جیسے ہی سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی نظر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہپر پڑی تو ارشاد فرمایا:   ’’ اے ابومسلم! آپ کہا ں   سے تشریف لائے ہیں  ؟ ‘‘  حالانکہ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور دیگر لوگوں   نے اس واقعے کو نہ تو سنا تھا اور نہ ہی دیکھا تھا۔انہوں   نے عرض کی:  ’’ یمن سے۔  ‘‘  فرمایا:  ’’ اس شخص کا کیا ہوا جسے اسود عنسی کذاب نےآگ میں   جلانے کی کوشش کی تھی؟ ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو مسلم خولانی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو بڑا تعجب ہوا اور عرض کی :  ’’ اُن کانا م تو عبد اللہ بن ثوب ہے۔ ‘‘  سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا:  ’’ میں   آپ کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں   کیا وہ آپ نہیں   ہیں  ؟ ‘‘  عرض کیا :  ’’ جی ہا ں   وہ میں   ہی ہوں  ۔ ‘‘  یہ سنتے ہی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہزاروقطار رونے لگے اور روتے ہوئے آپ کو اپنے گلے سے لگایا اور فرط محبت سے پیشانی پر بوسہ دیا ، پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو صدیق اکبر کی بارگاہ میں   لے گئے اورشفقت کے ساتھ اپنے اور صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے مابین بیٹھا کرارشاد فرمایا:  ’’ تمام تعریفیں     اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے ہیں   کہ جس نے مجھے زندگی میں  اس شخص کی زیارت کا شرف دیا جو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خلیل حضر ت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نقش قدم پر چلتے ہوئے آگ میں   کود گیا اور اس خوش نصیب شخص کو آگ نے کچھ نقصان نہ پہنچایا۔ ‘‘   ([3])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ بالکل واضح کرامت ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اگرچہ اسود عنسی کے دربار میں   موجود نہ تھے مگر وہاں   موجود صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ جو معاملات پیش آئے آپ کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فضل وکرم اور اس کی عطا سے معلوم ہوگئے۔

(17)…فاروقِ اعظم نے  دل کی بات جان لی:

ایک بار امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پہاڑ سے ایک اعرابی کو اُترتا دیکھ کر ارشاد فرمایا:   ’’ اِس شخص کے بیٹے کا انتقال ہوگیا ہےجس کے باعث یہ سخت رنجیدہ ہے۔اور اس نے اپنےفوت شدہ لخت ِجگر کے بارے میں   اس نے چند اشعار بھی لکھے ہیں   ، اگر وہ چاہے گا تو ضرور میں   تمہیں   وہ اشعار سنوائوں   گا۔چنانچہ جب وہ نیچے آیا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اُس سے ارشاد فرمایا:  اے اعرابی ! تم کہاں   سے آرہے ہو؟  ‘‘  اس نے کہا :  ’’ پہاڑ سے۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا :   ’’ تم وہاں   کیا کررہے تھے؟ ‘‘  اس نےجواب دیا:   ’’ وہاں  اپنی امانت سپردِ خاک کرنے گیا تھا۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا:  ’’  وہ امانت کیا ہے؟ ‘‘   کہنے لگا:   ’’ میرا فوت شدہ بیٹا ہے جسے میں   وہاں   دفن کرکےآ رہا ہوں  ۔ ‘‘   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تم نے اپنے بیٹے کے لیے اشعار بھی مرتب کئے ہیں  ۔ ‘‘  اس نے بڑی حیرانگی سے کہا:  ’’ امیر المومنین!آپ کو ان اشعار کے بارے میں   کیسے پتہ چلا؟ ‘‘   میں   نے تو ابھی تک کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں   کیا۔بہرحال میں   وہ اشعار آپ کو سناتاہوں  پھر اس نے اشعار پڑھنا شروع کیے:

 



[1]   تاریخ ابن عساکر  ، ج۵۶ ، ص۳۷۷۔

[2]   ریاض النضرۃ  ، ج۱ ، ص۳۳۱۔

[3]   کنزالعمال  ، کتا ب الایمان والاسلام  ، فضائل الایمان متفرقۃ ، الجزء: ۱ ،  ج۱ ،  ص۱۶۰ ،  حدیث: ۱۴۲۷ ،  تاریخ ابن عساکر  ،  ج۲۷ ،  ص ۲۰۱ ،   حلیۃ الاولیاء ، ابومسلم الخولانی ، ج۲ ، ص۱۵۰ ، مرقاۃ المفاتیح  ، کتاب المناقب ، ج۱۰ ، ص۴۱۵ ،  تحت الحدیث:  ۶۰۵۵۔



Total Pages: 349

Go To