Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

اور یقینا اس منصب کا لائق صرف وہی شخص ہوسکتا ہے جو بات کرنے میں   کمال مہارت رکھتا ہو نیز بہترین خطیب ہو نے کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی پربھی دسترس رکھتا ہو اور آپ ان دونوں   صفات کے جامع تھے۔([1])

فاروقِ اعظم کا کاروباروذریعۂ معاش

فاروقِ اعظم تجارت کیا کرتے تھے:

زمانہ جاہلیت میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف فنون میں   مہارت حاصل کرنے کے بعد ذریعہ معاش کی طرف توجہ فرمائی۔ پورے عرب میں   زیادہ تر معاش کا ذریعہ تجارت تھا ،  اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی تجارت شروع کردی اور اس میں   آپ نے اتنا نفع کمایا کہ آپ کا شمار مکۂ مکرمہ کے اغنیاء یعنی مالداروں  میں   ہونے لگا۔روایات سے یہی معلوم ہوتاہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے تجارت کو جاری رکھا یہاں   تک کہ آپ خلیفہ بن گئے اور بعد خلافت بھی آپ تجارت کرتے رہے۔ چنانچہ امام ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ  ’’ کَانَ عُمَرُ یَتَّجِرُ وَھُوَ خَلِیْفَۃٌ یعنی امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ ہونے کے باوجود تجارت کیا کرتے تھے۔ ‘‘  ([2])

 گرمیوں   میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بغرض تجارت ملک شام کا رخ فرماتے اور سردیوں   میں   ملک یمن کو اختیار فرماتے۔اور غالباً انہیں   تجارتی سفروں   کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ذات میں   خود داری ،  بلند حوصلہ ،  تجربہ کاری ،  معاملہ فہمی ،  مردم شناسی ،  فہم وفراست جیسے باکمال اوصاف پیدا ہوگئے تھے۔

فاروقِ اعظم کے تجارتی سفر:

آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے تجارتی اَسفار کا ذکر معتبر کتب سیر وتاریخ میں   بہت ہی کم ملتا ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے ،  علامہ بلاذری نے  ’’ انساب الاشراف ‘‘   میں   ملک شام کی طرف آپ کے فقط ایک تجارتی قافلے کا ذکر کیا ہے۔البتہ چند ایک قرائن ایسے ہیں   جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ تجارتی حوالے سے ملک شام وعراق وغیرہ کے سفر کیا کرتے تھے۔ مثلاً: یہ بات مسلمہ ہے کہ آپ تجارت کیا کرتے تھے ،  اُس زمانے میں   عموماً تاجر مختلف علاقوں   کی طرف تجارتی سفر بھی کیا کرتے تھے لہٰذا آپ بھی تجارتی سفر کرتے ہوں   گے۔نیز منصب خلافت سنبھالنے کے بعد آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مختلف مفتوحہ علاقوں   کے نقشے بنائے اور ان کے مختلف مقامات کی نشاندہی کی جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ان شہروں   سے واقف تھے اس کا ایک سبب ان علاقوں   میں   تجارتی سفر بھی ہوسکتے ہیں  ۔

فاروقِ اعظم اور کھالوں   کا کام:

دعوت اسلامی کے اشاعتی دارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۸۶۸صفحات پر مشتمل کتاب  ’’ اِصلاح اعمال ‘‘   ([3]) جلد اول ،  صفحہ ۷۴۸پر ہے:   ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کھالوں   کا کام کیا کرتے تھے۔ ‘‘ 

فاروقِ اعظم اور زراعت:

بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ میں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ زمینیں   بھی بٹائی پر دیا کرتے تھے جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث مبارکہ میں   ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   سے اس پرمزارعت فرماتے کہ اگر حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی طرف سے بیج لائیں   تو ان کے لیے نصف پیداوار ہوگی اور اگر وہ لوگ خود بیج لائیں   تو ان کے لیے اتنا ہی ہوگا۔([4])

کسب کرنا انبیائے کرام کی سنت ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رزقِ حلال کمانا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت مبارکہ ہے۔حصولِ رزق کے لئے کوشش کی اہمیت کااندازہ اس سے کیاجاسکتاہے کہ حضرات انبیائے کرام اوررُسل عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام بھی کسب یعنی حصولِ رزق کے لئے کوشش کیاکرتے تھے ۔چنانچہ ، حضرت سیِّدُناآدم صفی اللہ  عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام گندم بوتے  ، اسے سیراب کرتے  ، اس کی کٹائی کرتے  ، اسے گاہتے  ، پھراسے پیستے  ، پھراس کاآٹا گوندکر روٹی تیار فرماتے ۔ یوں   آپ کھیتی باڑی کاکام کرتے۔حضرت سیِّدُنانوح نجی اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بڑھئی کا کام کیا کرتے۔ حضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کپڑے بُن کرگزارا کرتے۔ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زرہیں   بناتے۔حضرت سیِّدُناسلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کھجورکے پتوں   سے ٹوکریاں   بنا کر فروخت کیا کرتے تھے اور ہمارے آقاومولیٰ رسولوں   کے سالار  ، باذنِ پروردگاردوعالم کے مالک ومختار  ،  شہنشاہِ ابرار ،  مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی بکریاں  چرایاکرتے (اور تجارت کیا کرتے)تھے اوریہ تمام عالی رتبہ حضرات کسب کرکے ہی کھاتے تھے ۔ ([5])

خلفائے راشدین کے پیشے :

 ’’ حضرات انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرح خلفائے اربعہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  بھی کسب کیاکرتے تھے۔ چنانچہ ،  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدّیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکپڑو ں   کی تجارت کرتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکھالوں   کاکام کرتے تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تاجر تھے۔ آپ



[1]     اسد الغابۃ ،  عمر بن الخطاب ،  ج۴ ،  ص۱۵۷۔

[2]     انساب الاشراف  ، عمر بن الخطاب ،   ج۱۰ ،  ص۳۱۵ ،  تاریخ الاسلام  ،  ج۳ ،  ص۲۷۳۔

[3]      ’’ اصلاح اعمال ‘‘  علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  کی عربی کتاب  ’’ اَلْحَدِیْقَۃُ النَّدِیَّہ ‘‘   کا اردو ترجمہ ہے۔

[4]     بخاری ،  کتاب الحرث والمزارعۃ ،  باب المزارعۃ بالشطر ونحوہ ،  ج۲ ،  ص۸۷  ،  حدیث:  ۲۳۲۷ملتقطا ،   ارشاد الساری ، کتاب الحرث و المزارعۃ ،   باب المزارعۃ بالشطر ونحوہ ،   ج۵ ،  ص۳۴۹  ،  تحت الباب:  ۸ ملتقطا۔

[5]     اصلاح اعمال ،  ج۱ ،  ص۷۴۸۔



Total Pages: 349

Go To