Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

رائج ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں   تیری گردن اڑا دیتا ،  سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں   کے جھونکوں   میں   اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں   اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں   ہے  ، لہٰذا تم اپنے مال میں   سے اس کے وارثوں   کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں   اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانے سے بڑھ کر کوئی ہلاکت نہیں  ۔ ‘‘  ([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس حکایت سے علم وحکمت کے درج ذیل مدنی پھول ملتے ہیں  :

٭اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ طاقت عطافرمائی ہے کہ وہ اپنی جگہ بیٹھ کر سینکڑوں   میل دور کے حالات کو ملاحظہ فرمالیں   ۔

٭ … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی حکومت ہوا پر بھی تھی اورہوا بھی ان کے کنٹرول میں   تھی اس لئے کہ آوازوں   کو دوسروں   کے کانوں   تک پہنچانادرحقیقت ہوا کا کام ہے کہ ہوا کے تموج ہی سے آوازیں   لوگوں   کے کانوں   کے پردوں   سے ٹکراکرسنائی دیا کرتی ہيں   ۔اس لیے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہجب چاہتے اس ہوا سے کسی کی آواز سننے یا کسی کو سنانے کا کام لے لیا کرتے کہ ہوا آپ کے زیر فرمان تھی۔

٭ …امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطاسے مشکل کشا ہیں   یعنی مسلمانوں   کی مشکلات کو حل فرمانے والے ہیں  ۔

٭ …صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے اس کے بندے بھی مدد کرتے ہیں   جبھی تو مشکل میں   اس مجاہد نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدد کے لیے پکارا تھا نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی پکار کا جواب دیا۔

(13)فاروقِ اعظم کےمحافظ دوغیبی شیر:

ایک مرتبہ بادشاہ روم کا عجمی قاصدمدینہ منورہ آیا اورلوگوں   سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے گھر کا پتہ پوچھا۔اس کا خیال تھا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکسی عالیشان محل میں   رہائش پذیر ہوں   گے ، لیکن اس کے استفسار پر لوگوں   نے بتایا کہ اس وقت امیر المومنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہصحراء میں   بکر ی کادودھ دوہ رہے ہوں   گے۔ یہ قاصد ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ آپ نے چمڑے کا درّہ اپنے سر کے نیچے رکھا ہوا ہے اور زمین پرآرام فرمارہے ہیں   ۔ قاصد کو آپ کے اس طر ح زمین پہ آرام فرما ہونے پر بڑی حیرت ہوئی ،  اس نے دل ہی دل میں   کہا:  ’’ مشرق و مغرب کے سب لوگ اس سے خو ف کھاتے ہیں   اوراس شخص کی حالت یہ ہےکہ خالی زمین پرآرام کررہا ہے۔دوسرا یہ کہ اس کے ساتھ کوئی محافظ بھی نہیں   ،  اسے قتل کرنا کتنا آسان ہے۔ ‘‘   پھر اس نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے قتل کے ارادےسے تلوار نکالی ، جو ں   ہی تلوار نکالی یکایک کہیں   سے  ’’ دوغیبی شیر ‘‘   ظاہر ہوکر اس کی طرف لپکے۔شیروں   کو دیکھ کر اس پر کپکپی طاری ہوگئی  ،  خوف کے باعث اس کے ہاتھ سے تلوار گرگئی۔ امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی بیدار ہوگئے۔پھر اس قاصد سے خوف و دہشت کا سبب دریافت فرمایاتواس نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اس قاصدسے بہت ہی نرمی سے پیش آئےاور اسے معا ف فرمادیا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس محبت بھرے رویے سے وہ بہت متاثر ہوا ، اسلام کی محبت اس کے دل میں   گھرکر گئی اور کلمۂ شہادت پڑھ کر فورا مسلمان ہوگیا۔([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس روایت سے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی سیرتِ طیبہ کے کئی پہلو نکھر کر سامنے آتے ہیں  :

٭ …آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خلیفہ ہونے کے باوجود نہایت ہی سادگی سے زندگی بسر فرماتے تھے۔نہ تو شاہانہ لباس پہنتے کہ جسے دیکھ کر لوگ سمجھتے کہ یہ امیر المؤمنین ہیں   ،  نہ ہی کسی شاہانہ بستر پر آرام فرماتے بلکہ زمین پر ہی آرام فرما ہوجاتے۔آپ کی وضع قطع میں   اتنی سادگی تھی کہ اگر کوئی انجان(Unknown)شخص آپ کو دیکھتا تو وہ کبھی آپ کو نہ پہچان پاتا کہ آپ ہی امیر المؤمنین ہیں  ۔

٭ …آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری میں   اپنی زندگی بسر فرماتے ،  ہر وقت خوف خدا آپ کے پیش نظر رہتا  ،  ظلم وستم سے کنارہ کشی اور عدل وانصاف کی پاسداری آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا شیوہ تھا  ،  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ مخلوق خدا کی حفاظت فرماتے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی حفاظت فرماتا۔

٭ …آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے احکام شرعیہ کی پاسداری کی تو رب عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کی ذات مبارکہ میں   وہ ہیبت  ،  رعب ودبدبہ پیدا کردیا کہ جودشمن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھتا تھر تھر کانپنے لگ جاتا۔

٭ …آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ شریعت کے معاملے میں   بہت سخت تھے لیکن اپنے ذاتی معاملات میں   بہت ہی نرمی فرماتے تھے ،  جیسا کہ روم کے قاصد نے آپ کے قتل کا ارادہ کیا لیکن آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے اسے معاف فرمادیااور یہی نرمی اس کے قبول اسلام کا سبب بن گئی۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(14) فاروقِ اعظم کی آئندہ رونما ہونے والے واقعے پر نظر:

حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ   فرماتےہیں   کہ ہم امیر المومنین حضرت سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگا ہ میں   ایک وفد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مجھے



[1]   ازالۃ الخفاء  ، ج۴ ، ص۱۰۹۔

[2]   تفسیر کبیر ،  پ۱۵ ،  الکھف ،  تحت الآیۃ: ۹ ، ج۷ ،  ص۴۳۳۔



Total Pages: 349

Go To