Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(11)فاروقِ اعظم کی دعا قبول ہوگئی:

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ خبر ملی کہ عراق کے لوگوں   نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مقرر کردہ گورنر کو ان کے منہ پرکنکریاں   مارکراور ذلیل و رسواکر کے شہر سے باہر نکال دیا ہے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس خبر سے بے پناہ صدمہ ہوا۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ انتہائی جلال میں   مسجد نبوی تشریف لائےاور نماز شروع فرمادی۔ چونکہ آپ اس واقعے کی وجہ سے بہت مضطرب (بے چین)تھے اس لئے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو نماز میں   سہو ہوگیا۔ سہو کی وجہ سے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاور زیادہ بے تاب ہوگئے  ، نماز سے فارغ ہو کر انتہائی رنج وغم کی حالت میں   آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دعا مانگی :  ’’ یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ! قبیلہ ثقیف کے غلام (حجاج بن یوسف ثقفی )کو ان لوگوں   پرمسلط فرمادے جو زمانۂ جاہلیت کی روش پر چلے  ، نہ نیکو کا ر کی نیکی کالحاظ کرے ،  نہ بروں   کی برائی سے روگردانی کرے۔اِن عراقیوں   کے نیک وبدکسی کو بھی معاف نہ کرے ۔ ‘‘   (آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی یہ دعا قبول ہوئی اورعبدالملک بن مروان اُمَوی کے دورِ حکومت میں   حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر بنا اوراس نے عراق کے باشندوں   پر ایسے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے کہ عراق کی زمین بلبلااٹھی۔ حجاج بن یوسف ثقفی اتنا ظالم تھا کہ اس نے جن لوگوں   کو رسی میں   باندھ کر اپنی تلوار سے قتل کیا ان مقتولوں   کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد ہی ہے اورجو لوگ اس کے حکم سے قتل کئے گئے ان کی گنتی کا تو شمار ہی نہیں  ۔) علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابن لہیعہ محدث رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا کہ ’’  جس وقت امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دعا مانگی تھی اس وقت حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں   ہواتھا۔ ‘‘  ([1])

اولیائے کرام کو بھی علم غیب ہوتاہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی اپنے اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام  کو غیب کی باتوں   کا بھی علم عطا فرماتاہے ۔ چنانچہ روایت مذکورہ بالامیں   آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ ابھی حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں   ہوا تھا لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ حجاج بن یوسف ثقفی نامی ایک بچہ پیدا ہوگا جو بڑا ہوکر گورنربنے گا اورانتہائی ظالم ہوگا۔

            ظاہر ہے کہ قبل از وقت ان باتوں   کا معلوم ہوجانا یقیناً غیب کا علم ہے۔ اب یہ مسئلہ آفتاب عالم تاب سے بھی زیادہ روشن ہوگیا کہ جب اللہ تعالٰی اپنے اولیاء کو غیب کا علم عطا فرماتاہے توپھر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خصوصاًحضور سید الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی اللہ تعالٰی نے یقیناًعلوم غیبیہ کا خزانہ عطافرمایا ہے اوریہ حضرات بےشمار غیب کی باتوں   کو خدا تعالیٰ کے بتادینے سے جانتے ہیں   اوردوسروں   کو بھی بتاتے ہیں  ۔ چنانچہ اہل حق حضرات علماء اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بالخصوص حضورسیدالانبیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بے شمار علوم غیبیہ کے خزانے عطا فرمائے ہیں   اوریہی عقیدہ حضرات تابعین وحضرات صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کا بھی تھا۔ چنانچہ مواہب اللدنیہ شریف میں   ہے کہ ’’ قَدِ اشْتَھَرَ وَانْتَشَرَ اَمْرُ رَسُوْلِ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَصْحَابِہِ بِالْاِطِّلَاعِ عَلَی الْغُیُوْبِ یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غیوب پر مطلع ہیں   یہ بات صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم میں   عام طور پر مشہور اورزبان زدخاص وعام تھی۔([2])

اسی طرح مواہب ا للدنیہ کی شرح میں   علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی تحریر فرماتے ہیں  :   ’’ وَاَصْحَابُہُ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَازِمُوْنَ بِاِطِّلَاعِہِ عَلَی الْغَیْب یعنی صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن ،  رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  غیب کی باتوں   پر مطلع ہیں  ۔([3])

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(12)اے عمر..... !میری خبر لیجئے:

امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کسی شہر میں   مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں   کے بعدنہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا :  ’’ یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ! یعنی اے شخص! میں   تیری پکار پر حاضر ہوں۔ ‘‘  اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں   کچھ بھی نہ آیا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکس فریاد کرنے والے کی فریاد کا جواب دے رہے ہیں  ؟ ‘‘   پھرچند دنوں   کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں   کاذکر کر نے لگا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ ان باتوں   کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں   اتاراتھا اوراس نے یَاعُمَرَاہُ! یَاعُمَرَاہُ!  یعنی اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ۔ پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا؟ ‘‘  اسلامی لشکر کے سپہ سالارنے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا کہ ’’ اے امیر المؤمنین ! مجھے اپنی فو ج کو دریا کے پاراتار نا تھا اس لئے میں   نے پانی کی گہرائی کا اندازہ کرنے کے لیے اس مجاہد کو دریا میں   اترنے کا حکم دیا  ، چونکہ موسم بہت ہی سرد تھا اور زور دار ہوائیں   چل رہی تھیں   اس لئے اسے سردی لگ گئی اوراس نے دو مرتبہ زور زور سے وَا عُمَرَاہُ! وَاعُمَرَاہُ! کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو پکارا ، پھر یکایک اس کی روح پرواز کر گئی ۔ خدا گواہ ہے کہ میں   نے قطعاً اس کو ہلاک کرنے کے ارادےسے دریا میں   اترنے کا حکم نہیں   دیا تھا۔ ‘‘   جب اہل مدینہ نے سپہ سالارکی زبانی یہ قصہ سناتو ان لوگوں   کی سمجھ میں   آگیا کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس دن جو دو مرتبہ یَالَبَّیْکَاہُ! یَالَبَّیْکَاہُ! ارشاد فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد رسی کا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسپہ سالارکا بیان سن کر جلال میں   آگئے اور ارشاد فرمایا:  ’’  اگر مجھے اس طریقے کے



[1]   ازالۃ الخفاء ، ج۴ ، ص۱۰۸مختصرا ،  دلائل النبوۃ  ، جماع ابواب اخبار النبی ،  ما جاء فی اخبارہ ۔۔۔الخ ،  ج۶ ،  ص۴۸۷ ملتقطا۔

                                                 تاریخ الخلفاء  ، ص۱۰۱۔

[2]   شرح زرقانی علی المواھب   ،  الفصل الثالث فی انبائہ ۔۔۔الخ ،  ج۱۰ ،  ص۱۱۲۔

[3]   شرح زرقانی علی المواھب  ،  الفصل الثالث فی انبائہ۔۔۔ الخ ،  ج۱۰ ،  ص۱۱۳۔



Total Pages: 349

Go To