Book Name:Faizan e Farooq e Azam jild 1

تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاعِشق اور اِتِّباعِ شریعت کا جذبہ پیدا ہو۔ ٭  دو سری بیماری کا علاج یہ ہے کہ اکثر فتنہ وفساد کی جڑ دو چیز یں   ہیں  :  ایک غصّہ اور اپنی بڑائی اور دوسرا حقوقِ شرعیہ سے غفلت۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں   سب سے اونچا رَہوں   اور سب میرے حقوق ادا کریں   مگر میں   کسی کا حق ادا نہ کروں   اگر ہماری طبیعت میں  سے غُرُور وتکبر نکل جائے ،  عا جِزی اور تو اضُع پیدا ہو جائے ،  ہم میں   سے ہر شخص دوسرے کے حُقُوق کا خیال رکھے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کبھی جھگڑے کی نوبَت ہی نہ آئے۔ ٭  تیسری بیماری کہ ہمارے اکثر مسلمانوں   میں   بچّے کی پیدائش سے لے کر مرنے تک مختلف موقعوں   پر ایسی تباہ کن رَسمیں   جاری ہیں   جنہوں   نے مسلمانوں   کی جڑیں   کھوکھلی کردی ہیں  ۔شادی بِیاہ کی رسموں   کی بدولت ہزاروں   مسلمانوں   کی جائیداد یں    ،  مکانات ،  دُکانیں   سُودی قرضے میں   چلی گئیں   اور بہت سے اَعلیٰ خاندانوں   کے لوگ آج کرایہ کے مکانوں   میں   گز ر کررہے ہیں   اور ٹھوکریں   کھاتے پھرتے ہیں  ۔اپنی قوم کی اس مصیبت کودیکھ کرمیرا دل بھر آیا۔ طبیعت میں  جوش پیداہوا کہ کچھ خدمت کروں  ۔روشنائی کے چند قطرے حقیقت میں   میرے آنسوئوں   کے قطرے ہیں   خدا کرے کہ اس سے قوم کی اصلاح ہو جائے ۔ میں  نے یہ محسو س کیا کہ بہت سے لوگ اِن شادی بِیاہ اور دیگر فُضول رَسموں   سے بیزار تو ہیں   مگربرادَری کے طعنوں   اور اپنی ناک کٹنے کے خوف سے جس طر ح ہوسکتا ہے قرض لے کر ان جاہِلانہ رَسموں   کو پورا کرتے ہیں   ۔ کوئی توایسا مردِ مجاہِد ہوجو بِلا خوف وخطر ہر ایک کے طعنے برداشت کر کے تمام ناجائز وحرام رَسموں   پرلات مار دے اورسنّتِ سرورِ کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو زندہ کر کے دکھا دے کہ جو شخص سُنّت کو زندہ کرے اُس کو  ۱۰۰شہیدوں   کا ثواب ملتا ہے۔ کیونکہ شہید تو ایک دفعہ تلوار کا زخم کھا کر دنیا سے پردہ کر جاتا ہے مگر یہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نیک بندہ عمر بھر لوگوں   کی زبانوں   کے زخم کھاتا رہتاہے۔واضِح رہے کہ مُرَوَّجہ رَسمیں   دو قِسم کی ہیں  :  ایک تو وہ جو شرعاً نا جائز ہیں   دوسری وہ جو تباہ کُن ہیں   اوربہت دفعہ اُن کے پورا کرنے کے لئے مسلمان سُودی قرض کی نحوست میں   بھی مُبتلا ہوجاتا ہے ۔حالانکہ سُودکا لین دین گناہِ کبیرہ ہے اور یوں   یہ رُسُومات بہت ساری آفات میں   پھنسا دیتی ہیں   ، اِن سے دُوری ہی میں   عافیَّت ہے۔([1])     

شادیوں   میں   مت گنہ نادان کر

خانہ بربادی کا مت سامان کر

چھوڑ دے سارے غلَط رَسْم ورواج

سنّتوں   پر چلنے کا کر عہد آج

خوب کر ذِکْرِ خدا و مصطفےٰ

دل مدینہ اُن کی یادوں   سے بنا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

(5)…فاروقِ اعظم کے عدل کا وسیلہ :

امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کسریٰ کےدارالحکومت ’’ مدائن ‘‘   فتح کرنےکے لیے حضر ت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سرپرستی میں   ایک لشکر بھیجا اور قیادت حضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے سپرد کی۔مدائن پہنچنے کے لئے ’’ دریائے دجلہ ‘‘  عبو ر کرنا پڑتا تھا جب یہ لشکر دریائے دجلہ کے کنارے پہنچاتووہاں   کسی کشتی کانام ونشان بھی نہ تھا۔اِدھرلشکر اِسلام مدائن پرپرچم اِسلام لہرانے کے لئے بے تا ب تھااور دجلہ کو اپنے مقصو د کے حصو ل میں   رکاوٹ سمجھ رہا تھا۔ حضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاورحضرت سیِّدُنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہلشکر اسلام کی بے تابی سے آگا ہ تھے لہٰذا اُنہوں   نے دریا کومخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:  ’’  يَا بَحْرُ اِنَّكَ تَجْرِيْ بِاَمْرِ اللہ فَبِحُرْمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِعَدْلِ عُمَرَ خَلِيْفَةِ رَسُوْلِ اللہ اِلَّا خَلَّيْتَنَا وَالْعُبُوْرَیعنی اے دجلہ! تویقیناً   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم پرچلتا ہے۔ تجھے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی حرمت اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے عدل کا واسطہ! ہمارے مقصد کے حصول میں   رکاوٹ نہ بن۔ ‘‘  یہ ارشاد فرما کر لشکر کودریا میں   گھوڑے دوڑانے کا حکم دیا ، لشکر نے حکم کی تعمیل کی اور اس شان سے دریائے دجلہ عبور کیا کہ کسی کا پائوں   تک نہ بھیگا۔([2])

اسی واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاعرِ مشرق نے کیا خوب کہا ہے:

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں   دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان دونوں   مذکورہ بالا واقعات سے معلوم ہوا کہ جس طرح امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ خشکی کے حاکم ہیں  ۔ویسے ہی آپ کی حکمرانی کا پرچم دریاؤں   کے پانیوں   پر بھی لہرا رہا تھا کہ دریاؤں   کی روانی بھی آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی فرمانبردار تھی۔جس طرح آپ کا حکم لوگوں   پر چلتا تھا بعینہ ویسا حکم سمندر پر بھی چلتا تھا ،  جس طرح لوگ آپ کو حاکم سمجھتے اور آپ کے فرامین پر عمل پیرا ہوتے تھے ویسے ہی سمند ربھی آپ کو اپنا حاکم سمجھتا اور آپ کے فرمان پر عمل پیرا ہوتا تھا۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے اصحاب کے بھی علم میں   تھا کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دونوں   حکمرانیاں   عطا فرمائی ہیں   جب ہی تو انہوں   نے سمند ر کو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا واسطہ دیا۔

 



[1]   اِسلامی زندگی ص۱۲تا ۱۶ بتصرف۔ غلط وقبیح رسومات کے نقصانات جاننے اور اِن کے علاج کی تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے  ’’ مکتبۃ المدینہ ‘‘   کی مطبوعہ کتاب  ’’ اسلامی زندَگی ‘‘   ہد ِیّۃً حاصل کرکے مطالعہ فرمایئے۔

[2]   ریاض النضرۃ ، ج۱ ، ص۳۳۱۔



Total Pages: 349

Go To